امریکا کا افغانستان میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی!

طاقت اور بربریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کا دور گزر چکا، حکمت یار امن کیلیے کام کرینگے، صدارتی محل کابل۔ فوٹو؛ فائل

کابل -افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں 300 امریکی میرین فوجیوں کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوگیا ہے جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز نے ملک گیر کارروائیوں میں داعش کے ملکی سربراہ عبدالحسیب لوگری سمیت84 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں داعش کے 45 جنگجوبھی شامل ہیں۔ کابل میں وزارت دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیاکہ ملک کے18صوبوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ صوبہ ہرات میں طالبان نے7 مسافروں کو اغوا کر لیا۔ صوبہ بدخشاں میں طالبان نے ایک ضلع پر قبضہ کرلیا ہے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع نے افغانستان میں داعش کے سربراہ عبدالحسیب لوگری کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ محکمہ دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ غالباً رواں ہفتے امریکی فوج کے ایک آپریشن میں عبدالحسیب لوگری ہلاک ہو گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران 2 امریکی فوجی بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب افغان حکومت نے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کی وطن واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے حکمت یار ملک میں امن کیلیے حکومت کے ساتھ مل کرکام کریں گے، امن معاہدے کے نتیجے میں حکمت یار کی وطن واپسی یہ ثابت کرے گی کہ افغان آپس کے مسائل اورکشیدگی کوحل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2014 میں افغانستان سے نیٹوافواج کے انخلا کے بعد پہلی مرتبہ ہلمند میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس سلسلے لشکرگاہ کے قریب منعقدہ تقریب میں افعانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے امریکی فوجیوں کو علاقے میں ذمے داریاں سونپیں۔ امریکی فوجی نیٹو اور افغان فورسز کے ساتھ ملکر علاقے میں قیام امن کے لیے اقدامات کرینگے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *