حروف بے زباں

Mirza Rizwan

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی مزدوروں سے اظہار یکجہتی اور ان کی خدمات کے اعتراف میں یکم مئی کو ’’مزدور ڈے‘‘کے طور پر منایا جاتا ہے ، ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی ’’وڈیرے‘‘اس دن سے باخوبی آشنا ہیں بھلے ہمارا مزدور طبقہ اس تاریخی دن پر بھی اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے سخت گرمی کی چلچلاتی دھوپ میں روزگار کی تلاش اور اپنے بچوں کے سہانے خوابوں کو پورا کرنے کی آس لئے مارا مارا پھر رہاہوتا ہے یعنی اس دن ’’مزدور‘‘ سارے کام پر ہوتے ہیں اور ’’افسر‘‘سارے چھٹی پر ۔۔۔ان سب افسران میں سارے تو خیر نہیں کچھ اس دن بھی گھر نکلتے ہیں مگر ٹھنڈے ترین کمروں میں صرف ایک آدھ گھنٹا بیٹھنے کیلئے اور اس دن کو منانے کیلئے، اس دن کی مناسبت سے کچھ تقرریں سنی اور کیں اور گھر باقی معاملات وہیں کے وہیں ، مزدوروں کے حقوق کیلئے فلک شگاف نعرے ، من گھڑت بیان بازی، بے تُکے وعدے ۔۔۔ہم مزدوروں کیلئے یہ کردیں گے تو وہ کردیں گے، آنیوالے بجٹ میں بہت بڑی خوشخبری رکھی گئی ہے بھلا کون یقین کرے ایسی چکنی باتوں پر پھر مزدوروں کو کیا پتہ کہ آج ان کے حقوق کیلئے پوری دنیا میں ایک ایسادن منایا جارہاہے ، ان تو بس اتنا علم ہے کہ وہ چاہے بیماری میں ہوں یا پھر کسی اور ’’پرابلم‘‘میں ، وہ تو روزانہ کی بنیاد پر کہیں ’’دیہاڑی‘‘لگے گی اور وہ کچھ کماکر لائیں گے تو پھر ہی ان کا چولہاچلے گا ورنہ شاید ’’فریز ‘‘کمروں میں سوئے ان’’ افسران‘‘ یاپھر ہمارے ’’سیاسی لیڈروں‘‘ کو کیا علم کہ مزدور کے بچے آج پھر’’ بھوکھا‘‘ سو رہے ہیں۔۔۔
آج تک سمجھ نہیں سکی کہ ہمارے ہاں مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر بڑی بڑی تقریبات منعقد کرنے سے بچارے ’’مزدور‘‘کو کیا حاصل ہوتا ہے اور کیا اپنے بنیادی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو ان بلند و بانگ دعوؤں سے آج تک کیا ملاہے ، ہر سال بجٹ میں مزدور کی تنخواہ میں معمولی اضافہ جبکہ ’’مزدور‘‘ کا خون نچوڑنے کیلئے آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مہنگائی۔۔۔لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے ان لیڈران کو کب خیال آئے گا ہمارا ’’مزدور‘‘کس قدر پریشانی سے دوچار ہے اور اس کے بچے ساری زندگی مایوسیوں میں کیوں بسر کردیتے ہیں، کیا ’’مزدور‘‘ کے بچوں کے دل ودماغ میں ان ہائی پروفول عناصر کے ’’ممی ڈیڈی‘‘بچوں کی طرح خیال اورخواہشات جنم نہیں لیتی ہونگی،کیا ان کے بچوں کے خون کا رنگ ’’مزدور‘‘کے بچے کے خون کے رنگ سے نہیں ملتا۔۔۔؟ کیا اچھی تعلیم ، اچھا ماحول اور روشن مستقبل ’’مزدور‘‘کے بچوں کے ہاتھوں کی لکیر اور دسترس میں نہیں ہوسکتا ۔۔۔؟اور پھر کیا جن محنت و مشقت کی وجہ سے اس ’’وڈیرے‘‘اور ’’سیٹھ‘‘کے گھر کو ٹھنڈے کیا ہوا ہے وہ اس’’ مزدور ‘‘ کی روزانہ یا ماہانہ اجرت اس کی محنت کے مطابق بروقت ادا کررہاہے اگر ’’مزدور‘‘کو اس کا حق پورا اور بروقت ادا کیا جارہاہے تو پھر حالات بدلتے نظر بھی آنے چاہیں، مگر افسو س صد افسوس کہ ایسا نہیں ہورہا اور نہ ان ’’وڈیروں‘‘اور ’’سیٹھوں‘‘کو کوئی پوچھنے والا ہے۔۔۔مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے گذشتہ دنوں انٹرنیشنل شکاگو لیبر کنفیڈریشن (پاکستان چیپٹر) کے زیراہتمام ایوان اقبال لاہور کے وسیع و عرض ہال میں انٹرنیشنل شکاگو ایوارڈ تقریب 2017کا اہتمام کیا گیا،یہ تقریب گذشتہ کئی سالوں سے منعقد کی جارہی ہے ، تقریب میں پہلی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا، ایوان اقبال کے دروازے سے ہمارے پاکستان کا مستقبل نوجوان طلبہ و طالبات اپنے ہاتھ میں ’’لیپ ٹاپ‘‘تھامے اور چہرے پر مسکراہٹ لئے باہر آرہے تھے ، معلوم ہوا کچھ دیر قبل ’’خادم اعلیٰ پنجاب‘‘اس ہال میں بچوں کو’’لیپ ٹاپ‘‘دیکر گئے ہیں ، طلبہ میں لیپ ٹاپ کی اس تقریب کی وجہ سے انٹرنیشنل سکاگو لیبر کنفیڈریشن (پاکستان چیپٹر ) کے روح رواں ڈاکٹر اعظم آرائیں بھی مین گیٹ پر ہی موجود تھے ، خیر تقریب کا آغاز ہوا تو گذشتہ تقریب میں لگے ’’ٹھنڈی ‘‘ہوا کے سسٹم کو بھی ہٹا دیا گیا، اور مزدوروں کی تقریب میں موجود حاضرین مختلف طریقوں سے ہاتھ سے پنکھے بنا کر خو د کو ’’تسلی ‘‘دے رہے تھے ، تقریب میں آنیوالوں کو شاید علم نہیں تھاکہ یہ مزدوروں کی تقریب ہے ۔۔۔خیر تقریب کے باقاعدہ آغاز حمد ونعت کے بعد چیئرمین ڈاکٹر اعظم آرائیں کوخطاب کیلئے بلایا گیا ، جنہوں نے اپنے جوشیلے خطاب میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، ’’پھٹے چکدیاں گے ، چکدیاں گے ، چکدیاں گے‘‘بعدازاں انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں مزدور کی کم از کم تنخواہ 36ہزار کی جائے ، بھٹہ مزدوروں کو سوشل سکیورٹی کارڈ کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے، اخبارات کے فوٹو گرافرزاور ٹی چینلز کے کیمرہ مین حضرات کی کم ازکم تنخواہ 45ہزار کی جائے ،دوران ڈیوٹی وفات پانے جانیوالے میڈیا پرسن کے لواحقین کو کم از کم 20لاکھ اور ایک بچے کو نوکر ی دی جائے، گھریلو ملازمین کیلئے عمر کی حد 18سال اور ماہانہ تنخواہ 15ہزار کی جائے، استاتذہ کی اپ گریڈیشن ان کی تجاویز کے مطابق کی جائیں ، ریلوے کی کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں، گریڈ ایک تا سولہ ملازمین کی دوران سروس وفات پر ڈھائی لاکھ روپے لواحقین کو دیئے جائیں اور ساتھ میں ایک پلاٹ بھی،تمام سرکاری ملازمین جن کی سروس کم ازکم 5سال ہے انکو سرکار ی رہائش مہیا کی جائے۔۔۔
چیئرمین صاحب نے مزید بھی سی تجاویز دیں جن پر عمل کرنا یا کروانا شاید ہمارے ’’لیڈروں ‘‘کے بس میں نہیں ، عین ممکن ہے کہ چیئرمین صاحب کے بس میں ہو، خیر ان کی طویل و جوشیلی تقریر کے بعد مختلف شعبوں میں خدمات دینے والوں میں ایوارڈ کی تقسیم جاری تھی کہ اچانک پورے ہال میں باآواز بلند اسم اعظم ’’اللہ، اللہ ، اللہ‘‘کی صدائیں گونجنے لگیں ، تقریب کے شرکاء اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر ذکر الہٰی میں مشغول ہو گئے اور ہال کی ایک طرف سے دور حاضر کی عظیم روحانی شخصیت اور تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے امیر ، چیئرمین لاثانی ویلفیئر فاؤنڈیشن قائدروحانی انقلاب صوفی مسعوداحمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب اپنے رفقاء کے ہمراہ اسٹیج کی زینت بنے اور ڈاکٹر اعظم آرائیں نے ان کا بڑے پرجوش انداز سے استقبال کیا، بعد ازاں ان کے ہاتھوں سے بھی ایوارڈ دلائے گئے ، معلوم ہوا کہ آج کی اس مزدوروں کی تقریب کے مہمان خصوصی بھی یہی روحانی شخصیت ہیں ، عین یہ وہی روحانی شخصیت ہیں جن کی طرف سے ’’یقیناًآپ بچ سکتے ہیں ‘‘کی فلیکسز ہر طرف دیکھنے کو ملتی ہیں، حضرت صاحب کو بھی تقریب کے روح رواں ڈاکٹر اعظم آرائیں اور دیگر شخصیات نے ان کی اصلاح معاشرہ اور دیگر ملکی ، ملی اور دینی خدمات پر خصوصی ایوارڈ پیش کیا ۔۔۔خیر ایوارڈ لینے کے خواہاں اپنے اپنے ایوارڈ لیتے گئے اور اپنی منزل کی جانب چل نکلے ، اب اس تقریب میں مزدوروں کیلئے پیش کی جانیوالی تجاویز پر کون عمل کرے گا اور غریب و مزدور کو ان کا بنیادی حق کون دلائے گا، ہمارا مزدور طبقہ اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے اور کہاں تک کا سفر کرے گا، اور کب ان کے روشن مستقبل کی نوید ابھر کر سامنے آئے گی، اور کیا ہمارے ان ’’وڈیروں ‘‘اور ’’سیٹھوں ‘‘کو احساس ہوسکتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا’’ مزدور ‘‘کہاں کھڑا ہے جس کی بدولت ہم ’’وڈیرے‘‘اور ’’سیٹھ ‘‘بنے بیٹھے ہیں، مزدوروں کے بنیادی حقوق دینے کیلئے ٹھنڈے کمروں میں صرف ایک دن بات کرلینا ہی کافی نہیں حقیقی اور عملی خدمات کرنا ہونگی، اب اپنے حصے کی وسیع و عریض جائیداد اور دیگر بنک اکاؤنٹس میں سے کچھ نہ کچھ ہمیں ’’مزدوروں ‘‘کو بھی دینا ہوگاتاکہ ہمارا ’’مزدور‘‘اور اس کے بچے بھی ہمارے شکرگزار ہوسکیں ان کے خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکیں ۔۔۔صرف ایک دن کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے، دعا ہے اللہ رب العزت ہمارے ’’وڈیروں ‘‘اور سیٹھوں ‘‘سمیت حکمرانوں کو مزدوروں کیلئے عملی اقدامات کرنے کی فی الفور توفیق عطا فرمائے (آمین) ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *