دہشت گردی کے خلاف جنگ ناکام کیوں؟

Abdul Rauf Khan

عبدالرؤف خاں

تم ہمارے فوجیوں کے نرخروں پر چھُریاں چلا کراُنہیں تڑپتا دیکھ کر قہقے لگاؤ پھر لاتوں سے اُنہیں کھودے گڑھوں میں پھینک دو۔

تم ہمارے فوجیوں کے سروں کو تن سے جدا کرنے کے بعد فُٹ بال کھیلو اور دوکنال کے گراؤنڈ میں اُن کے سروں پر ٹھوکریں مارو اور ایک طرف سے دوسری طرف ایک فُٹ بال کی مانند لے جاتے ہوئے لطف اندوز ہوتے رہو۔

تم ہمارے بچوں کو آرمی پبلک سکول میں گھُس کر اُنہیں شہید کردو۔ روتی بلکتی ماؤں کو یہ کہ کر اور تڑپاؤ کہ یہ پاک فوج نہیں بلکہ مُرتد فوج ہے۔

تم نے 22 نومبر 2012 کو راولپنڈی اور کراچی میں شیعہ جلوسوں پر بم دھماکے کرکے معصوم لوگوں کو مار ڈالا اور کہا کہ یہ سب ایران نواز ہیں ، کافر اور مُرتد ہیں۔

تم نے خود ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا کہ 15 دسمبر 2012 کو باچا خان ائیرپورٹ پر ہونےوالا راکٹ حملہ ہم نے کیا ہےا ور آئیندہ بھی ہم فوجی اہداف کو اپنا نشانہ بنائیں گے کیونکہ یہ امریکیوں کی حمایت یافتہ فوج ہے۔

23 جون 2013 کو کچھ سیاح گلگت بلتستان آتے ہیں اور تُم نے اُن پر حملہ کرکے 9 سیاحوں کو ہلاک کرکے پورے پاکستان کے منہ پر کالک مل دی۔ پھر آیت کریمہ پڑھ کر یہ ذمہ داری بھی قبول کی کہ ہاں ہم نے انہیں مارا ہے کیونکہ یہ مغرب کے لوگ تھے جوہمارا دشمن ہے۔

2 نومبر 2014 کو واہگہ بارڈر پر معصوم بچے، عورتیں اور مرد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے کہ تمہارا بھیجا ہوا ایک خود کُش بمبار اپنے آپکو اُڑاتا ہے اور ساٹھ سے زائد اس دھرتی کے بیٹے شہید ہوجاتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر اُس دن بارڈر کے پار بھی افسردگی چھاگئی تھی لیکن تم نے ایک بیان جاری کیا کہ یہ دھماکہ ہم نے کروایا ہے اورکہا یہ دھماکہ بدلا ہے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی کے ہمارے ساتھیوں کے قتل کا۔

7 نومبر2014 کو ایک بار پھر تم  نے دو دھماکے کروائے اور ان دھماکوں کا نشانہ مہمند ایجنسی میں حکومت کی امن کمیٹی کے ممبران تھے۔ تم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم مزید بھی ایسی امن کمیٹیوں کو اپنا نشانہ بنائیں گے۔ چھ سے زیادہ لوگ ان میں مارے گئے۔

16 اگست 2015 کو تم نے پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر خود کش حملہ کروایا اور کہا کہ ہم اُن لوگوں کو ضرور ماریں گے جو اہل سنت والجماعت(سابقہ سپاہ صحابہ)، مولانا عبدالعزیز، لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی کے خلاف ہیں۔

27 مارچ 2016 ایک اور خون آشام دن جب مسیحی بچے اپنے والدین کے ساتھ گلشن اقبال پارک میں کھیل رہے تھے تو تمہارے بیجھے گئے ایک خود کش بمبار  نے اپنے آپکو اُڑایا اور 70 لوگ شہید ہوگئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

13 ستمبر 2016 کو کوئٹہ میں سڑک کنارے لگے بم کے پھٹنے سے ہمارے دو فوجی جوان شہید ہوگئے۔

تم نے ہمارے سکولوں کو بموں سے اُڑاکر راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور نعرہ یہ لگایا کہ یہاں پر مغربی تعلیم دی جاتی ہے۔

تم نے ہمارے بازاروں کی رونقوں  کو خون سے رنگین کردیا اور کہا کہ یہ ڈرون حملون کا ردعمل ہے۔

تم نے ملالہ یوسف زئی پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ تعلیم کا نام لیتی ہے اُس کی علم دوست آواز کو ہمیشہ کے لئیے خاموش کرنے کی مذموم کوشش کی۔

تم نے نہ بچوں کو بخشا، نہ عورتوں کی پرواہ کی نہ جوانوں کی جوانیوں کو دیکھا اور نہ بوڑھوں کی سفید داڑھیوں کی حیاء کی۔ تمہارے ہاتھ کرنل امام لگا تو تیس بور کے فائر سے اُس کے سر میں سوراخ کردیا اور پھر بے شرمی سے نعرہ تکبیر بُلند کرتے رہے؟

تم نے جہاد کی روح کو مسخ کرکے رکھ دیا۔ پیسے اور طاقت کی جنگ کا نام جہاد رکھ لیا اور پھر وہ وہ مظالم کئے کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھی شرماگئے۔

تم نے منشیات کی تجارت سے لیکر اغواء برائے تاوان تک، بھتہ خوری سے لیکر بینک ڈکیتیوں تک کا نام جہاد رکھ لیا۔

یہ سب کرنے کے بعد تُم آرام سے ٹھنڈے کمرے میں نرم صوفے پر بیٹھ کریہ کہو کہ ٹی ٹی پی کے پیچھے ہندوستان کی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس ہے اور ہمارے شیر جوان تمہیں پھر سے دودھ پلانا شروع کردیں۔ ہمارے عسکری ادارے صرف اتنے اعتراف کے بدلے تمہارے سارے گناہ معاف کردیں اور سب کچھ بھول کر تمہاری مہمان نوازی میں جُت جائیں۔ میں اس منافقت کو کیسے بھول جاؤں؟ مجھ سے تو یہ منافقت ہضم نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر جاؤ ان جیلوں میں گلتے سڑتے قاتلوں، چوروں اور رہزنوں کو بھی کہ دو کہ وہ بھی ایک ویڈیو بیان جاری کردیں کہ ہمیں ہندوستانی راء کی مدد حاصل تھی۔ جاؤ اب کلبھوشن یادیو کو بھی رہائی دے دو کیونکہ اُس نے بھی بالکل یہی اعتراف کیا ہے۔  بس یہ ایک الزام اپنی زبان پر لاؤ اور آپکے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ نہ صرف معاف بلکہ ایسے صاف شفاف دُھل جاؤ گے کہ جیسا کہ ایک معصوم بچہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔

آج ستر ہزار سے زائد دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے شہداء کے گھر کی ایک ایک ماں پوچھ رہی ہے کہ جسے تختہ دار پر جھولتا ہونا چاہیے تھا اُسے تم نرم گرم صوفے اور ٹھنڈے کمروں میں مرغ ومسلم پیش کررہے ہو۔ جسے پھانسی کے بعد ایک فوجی گاڑی کے پیچھے باندھ کر پورے لاہور کی گلیوں میں گھسیٹنا چاہیے تھا اُسے آپ نے وعدہ معاف گواہ بنا لیا؟ لیکن کس کے خلاف؟ ہندوستان کے خلاف جو تمہاری دسترس سے کوسوں دوُر ہے۔

میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے پوری دُنیا سے کہیں سے ایک مثال مل جائے کہ کسی ملک نے ایسے دہشت گرد کے ساتھ اتنا اچھا حُسن سلوک کیا ہو کہ جس نےاُس ملک کے ستر ہزار سے زائد لوگ انتہائی سفاکی سے قتل کئیے ہوں بلکہ کھُل کر میڈیا پر آکر اُن دہشت گردی  کاروائیوں کا اعتراف کیا ہو اور اُن شدت پسندانہ کاروائیوں کا دفاع بھی کیا ہو۔ لیکن افسوس ایک بھی ایسی مثال ڈھونڈے سے نہیں مل رہی۔

امریکیوں کو ایمل کانسی مطلوب تھا وہ امریکہ سے اُڑے اور ڈیرہ غازی میں اُترے، ایمل کانسی کو پکڑا اور اُسے ورجینیا کی عدالت سے پھانسی دلوا کردم لیا۔

اُنہیں رمزی محمد یوسف مطلوب تھا وہ پاکستان آئے اور اُسے لے گئے۔ اُسے امریکی عدالت میں پیش کیا گیا اور 240 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

اُنہیں ابوزبیدہ مطلوب تھا جو القاعدہ میں اُسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ امریکی ایف بی آئی فیصل آباد میں آئی اور ابوزبیدہ کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے امریکہ لے گئی۔

اُنہیں القاعدہ لیڈر خالد احمد شیخ مطلوب تھا وہ راولپنڈی اُترے اور اُسے پکڑ کرگوانتا نامو میں جاقید کیا۔

اُنہیں اُسامہ بن لادن مطلوب تھا وہ ایبٹ آباد اُترے اپنے ہدف کو مارا اور اُسکی لاش کو لے کر چلے گئے۔

چلیں چھوڑیں یہ تو امریکہ تھا دُنیا کا طاقتور ترین مُلک وہ یہ سب کرسکتا ہے کیا ایسی کوئی مثال دُنیا کے تیسرے ترقی یافتہ ممال میں بھی موجود ہے؟

جی ہاں زیادہ دُور مت جائیں اپنے ہمسائے ایران کو دیکھ لیں۔ ایران کو جنداللہ تنظیم کا سربراہ عبدالمالک ریگی چند بم دھماکوں میں مطلوب تھا۔ ایران کی خفیہ ایجنسیوں کو پتہ چلا کہ دُبئی سے کرغیرستان جانے والی ایک پرواز میں اُن کا مطلوب دہشت گرد عبدالمالک ریگی موجود ہے۔ جونہی یہ مسافر طیارہ ایرانی فضاؤں میں داخل ہوا فوری طور پر ایرانی فضائیہ کے جنگی جہازوں نے اس مسافر طیارہ کو گھیر لیا اور اُسے ایرانی ائیرپورٹ پر زبردستی اُتروالیا۔ ایرانی کمانڈوز طیارے میں داخل ہوئے اور عبدالمالک ریگی کو گرفتار کرنے کے بعد طیارے کو پرواز کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر تھوڑے ہی عرصے بعد ایران کی ایک عدالت عبدالمالک ریگی کو سزائے موت دے دیتی ہے اور اس دہشت گرد کی گردن پھانسی کے پھندے پر جھول جاتی ہے۔

احسان اللہ احسان پر ان تمام حملوں کی ایف آئی آر درج ہیں لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ایک قومی مجرم کو بچانے کے لئیے ہمارے ادارے اتنے سرگرم ہیں کہ اُسے اب تک کسی بھی درج شدہ ایف آئی آر میں نامزد ہونے کے باوجود گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

ہم پچھلے بیس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑ رہے ہیں لیکن ہماری یہ جنگ اس لئیے ناکام ہے کہ ہم نے آج تک اچھے طالبان اور بُرے طالبان میں فرق رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ  مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔

ان تمام مندرجہ بالا مثالوں سے میں صرف اتنا ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ کچھ قومیں زندہ کیوں کہلاتی ہیں اور ہماری جیسی قومیں کیوں مُردہ کہلوانے پرکیوں مجبور ہیں؟

جو لوگ اپنے آزاد ہونے کے زعم میں مبتلا ہیں وہ بے شک ناچیں کودیں اور جشن منائیں لیکن مجھے تو اُن ستر ہزار سے زائد شہدوں کی موت کا نوحہ لکھنا ہے اُن کا ماتم کرنا ہے۔ اُن ماؤں کے سینوں پر پھاہا رکھنا ہے جن کے جگر گوشے ان دہشت گردوں نے چھین لئیے۔ مجھے اُن ستر ہزار سے زائد شہداء کے زخموں پر مرہم رکھنی ہے جن کے کلیجے چھلنی ہیں اور دل زخم زخم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *