تجزیاتی قلابازیاں!

FButt

فیصل بٹ

یدائشی پاکستانی ہونے کے ناتے راقم کو سیاست کا چسکہ ہے۔ اگرچہ تعلیم کے خانے کو پر کرنے کیلٰے ڈگریوں کی ایک معقول تعداد جمع کر رکھی ہے لیکن علم کا خانہ خالی ہے۔ چنانچہ رموز سیاست کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ سے صاحبان علم پر انحصار کیا ہے۔

کتب بینی کا شوق ضرور ہے مگر  وسیع المطالعہ ہونے کا دعوٰی نہیں کہ جیب خرچ و آمدن کے مقابل "مطالباتِ زر" کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ کتب کے زرائع لائبریری یا ایک عدد صاحبِ حیثیت دوست تک محدود رہے لیکن یہ پہنچ بھی پسند کی کتاب کی بجائے "دستیاب مال" تک رہی۔

اخبار بینی کی عادت (یا علّت) البتہ ورثے میں ملی ہے اور کچھ کالم نگاروں کو گھر میں بطور خاص پڑھا جاتا تھا۔ نوّے کی دہائی کے اوائل میں انٹرنیٹ تک رسائی ملی تو کالم بینی کے لئے گھر میں آنے والے اخبار کی احتیاج ختم ہو گئ اور مزید کالم نگاروں سے شناسائی ہوئی۔

۱۹۸۸ سے لیکر ۱۹۹۹ تک کا سیاسی منظر نامہ آج سے کہیں زیادہ ھنگامہ خیز تھا۔ نئے پاکستان میں بنیادی طور پر "یکطرفہ عشق" والا سماں ہے جبکہ پرانے پاکستان میں "دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی" والا معاملہ تھا۔ فریق ِ مخالف پر گولہ باری محض نو رتنوں کی ذم داری نہ تھی بلکہ سربراہان بھی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اگلے مورچوں پر داد شجاعت دیتے تھے۔

 اینکروں کا جہاں چونکہ اس وقت تک آباد نہیں ہوا تھا لہٍٰذا بیانیے کی جنگ بنیادی طور پر اخباروں کے ادارتی صفحات پر لڑی جا رہی تھی۔ اگرچہ ناظرین کی جو تعداد آج کے اینکروں کو میسر ہے اس وقت کے کالم نگاروں نے تو قارئین کی اس تعداد کا کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آج کے کالم نگار بھی اینکری کی گنگا میں برضاورغبت اشنان کرتے پائے جاتے ہیں۔

 آج ہی کی طرح اس وقت بھی تقسیم گہری اور واضح تھی۔ ہر ایک فریق کو جغادری نکتہ بینوں کی حمایت حاصل تھی اور دلائل کی چکا چوند سے راقم جیسے کم علموں کی آنکھیں کچھ ایسی خیرہ ہوئیں کہ یہ فیصلہ ہی نہ کر پائے کہ کونسا فریق زیادہ غلط ہے۔ نتیجتاً ووٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی ووٹ ڈالنے سے احتراز ہی مناسب سمجھا۔

اس ہنگامہ خیز دور کے اختتام پر اصل فریقین کو تو بالآخر جلا وطنی نصیب ہوئی البتہ خاکسار اس سیاسی جنگ کے طفیل چند کالم نگاروں کی تجزیہ نگاری بلکہ دانشوری کا قائل ہو گیا۔ راقم کو چونکہ کم علمی کے ساتھ ساتھ کم ہمّتی کا بھی اعتراف ہے لہٰذا ان صاحبان سے مرعوبیّت میں اس ثابت قدمی کا بھی ہاتھ تھا جو انہوں نے مختلف ادوار میں قیدوبند یا بیروزگاری کی صورت میں دکھائی (جس کا ذکر خود انہوں نے اپنے کالموں میں کیا)۔

تاہم ملک کے مشرف بہ مشرف ہونے کے بعد جہاں اور چیزیں بدلیں وہاں وقت بدلنے کے ساتھ بدلنے والے سیاستدانوں پر تبرّیٰ بھیجنے والے خود ایسے بدلے کہ یوں گماں ہوا کہ پچھلی تحریریں کسی اور کی تھیں۔ وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاستدان اکثر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی صفائی پیش کرتے ہیں (جو عموماً عذر ِ گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں آتی ہیں) جبکہ یہ صاحبان اس تکلّف میں بھی نہیں پڑے۔

 شریف برادران کے ایک قصیدہ گو مؤنّس الٰہی میں قیادت کے جراثیم دریافت کرتے پاتے گئے اور ۲۰۰۸ کے بعد انہیں سیاسی فراست  اگر کسی میں نظر آئی تو وہ زرداری صاحب میں نظر آئی۔ ۲۰۱۳ کے بعد سے یہ انتہائی سینئیر تجزیہ نگار نئے پاکستان کے داعی ہیں (اگرچہ انتخابی نتیجے کے فوراً بعد رائیونڈ کیطرف سجدۂ سہو کا گمان گذرا تھا لیکن شائد فرزند راولپنڈی کی طرح ان کو بھی پزیرائی نہیں ملی)۔

اسی طرح مشرف دور میں فوجی حکومت کے نقصانات کی فہرست مرتّب کرنے والے کچھ عرصہ قبل جنرل شریف سے "کچھ کرنے" کی والہانہ اپیلیں کرتے پائے گئے۔

یہاں یہ وضاحت کرنے دیجئے کہ راقم لکیر کا فقیر نہیں بلکہ فکری ارتقاء کا قائل ہے۔ وقت کے ساتھ رائے یا نظریے میں تبدیلی آنا نہ غیر فطری ہے اور نہ ہی قابلِ اعتراض۔ تاہم جب رائے پنڈولم کی طرح جھولنے لگے اور رائے کی ہر تبدیلی انتخابی نتائج کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو پھر اسے "تغیّر کو ثبات ہے زمانے میں" کے کھاتے میں ڈالنا مشکل ہے۔

جتنی کہ بس میں تھی اتنی ہی سوچ و بچار کے بعد راقم اس نتیجے پر پہنچا یے کہ غلطی شاید لفّاظی کو دانش سمجھنا تھا۔ بظاہر گہری نظر اور تجربے کے حامل یہ تجزیہ کار غالباً کسی بھی نطریے یا فلسفے سے زیادہ اپنی انا (یا مفادات؟) کے اسیر ہیں یا ان کے نزدیک تجزیہ نگاری محض روزی کمانے کا ذریعہ ہے۔ راقم جیسے لوگ رپورٹوں کا پیٹ بھرتے ہیں اور یہ کالموں اور ٹاک شوز کا۔ فرق ہے تو اتنا کہ اگر راقم جیسے اپنے لکھے ہوئے سے پھر جائیں تو پیشہ وارانہ ساکھ کے ساتھ ساتھ روزگار جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے جبکہ انہیں ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ انہیں تجزیوں سے اتفاق کرنے والے ہمیشہ میسّر رہیں گے؛ سیاسی تقسیم کے اِس طرف نہ سہی اُس طرف سہی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *