roqaiya gazal

مولانا فضل الرحمن خلیل کی پاکستانی کالم نگاروں کی عالمی تنظیم ورلڈ کالمسٹ کلب کے عہدے داران سے لاہور میں ملاقات  اور پہلے یوم تاسیس پر مبارکباد:
(انصار الامہ پاکستان کے امیرمولانا فضل الرحمن خلیل نے پاکستان کالمسٹ کلب کی کور کمیٹی سے ملاقات کی اور کشمیر کی تازہ صورتحال سمیت ملکی تازہ صورتحال پر انہوں نے گفتگو کی ملاقات میں ایثار رانا ،محمد ناصر اقبال خان ، ذبیح اللہ صدیق بلگن ،امان اللہ ،مراد علی خان ،ناصر چوہان ،جاوید اقبال ،امجد اقبال ، رابعہ رحمان ،رقیہ غزل ،ممتاز حیدر اعوان ،ناصر بشیر ،محمد شاہد محمود ،فیصل درانی موجود تھے ۔)
مولانا فضل الرحمن خلیل نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ "کشمیرکاز جس جدو جہد کا حقدار تھا پاکستان کے سربراہان کی طرف سے تاحال وہ نہیں کی گئی ہے کیونکہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے ہی نہیں لیا گیا ہے "۔

molana1
مسئلہ یہ ہے کہ حقائق اور وجوہات سے ہم سب آگاہ ہیں میں اس کی وضاحت میں نہیں جاؤنگی ۔مگر آج کا سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس مسئلے کا حل پاک بھارت نے کرنا ہے یا اقوام عالم نے ؟ کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد UNO نے کرنا ہے یا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اور عوام نے کرنا ہے یا ہمارے حکمرانوں نے منافقت سے اور عیاری سے’’ ڈھنگ ٹپاؤ‘‘ فارمولے پر عمل پیرا رہنا ہے ؟
نام نہاد انسانی حقوق کے بڑے علمبرداروں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کے لئے آواز اٹھانے والوں کوصرف راستے سے نہیں بلکہ صفحۂ ہستی سے بھی مٹا دیا جائے تاکہ کشمیریوں کی آواز اقوام عالم تک نہ پہنچ سکے اور کشمیر کاز کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا جائے اس سلسلے میں آج کل بھی بعض راہنماؤں کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے بھارت مسلسل پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اس کی راہ کو ہموار کرنے کے لیے ایسے پچیدہ حالات پیدا کئے جا رہے ہیں کہ جن کے سبب پاکستانی حکمران بے بس ہو جائیں لیکن امریکہ کو سوچنا چاہیئے کہ وہ انصاف اور قانون کا جونمائشی ڈھول پیٹتا پھرتا رہتا ہے اس کی عملداری کہاں ہے ؟ مسلمانوں کی جب بات آتی ہے کبھی آزادیء اظہار رائے کا نام دیکر ’’ توہین آمیز خاکوں ‘‘ کی شکل میں عالمی دہشت گردی کی پشت پناہی کی جاتی ہے اور کبھی عافیہ صدیقی جیسے معصوم بے گناہوں کو نا کردہ گناہوں کی پاداش میں لا محدود عرصہ کے لیے پابند سلاسل رکھا جاتا ہے اور کبھی ڈاکٹر غلام نبی فائی کی آواز کودبا دیا جاتا ہے اور پاکستانی حکام کا منہ’’ بھیک ‘‘کے طور پر دئیے گئے قرضوں کے مسلسل احسانات سے بند کر دیا جاتا ہے ۔کیوں ۔۔ آخر کیوں ؟؟؟کشمیریوں کی آہیں دنیا کے کسی بھی انصاف کے ایوانوں سے نہیں ٹکراتیں ؟کیوں بھارتی عوام ان کے حکمرانوں کے مظالم پر خاموش رہتے ہیں آج یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ’’ اسلام دشمنی ‘‘نے اقوام عالم کو احساس سے عاری بنا رکھا ہے اور امت مسلمہ مسلسل اپنی بے ہمتیوں اور تساہل پسندی کی وجہ سے ان کے مضموم مقاصد کا نشانہ بن رہی ہے اوریہ ’’عالمی دہشت گرد ‘‘جوانسانی روحوں پر وار کرتے ہیں الٹا ہمیں طنز و تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ہی مسائل میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ہمیں کسی دوسرے کی تکلیف کو دور کرنے یا امداد کرنے کی فرصت ہی نہیں رہی ہے اور اگر مل بھی جائے تو ہم دہشت گردی سمجھ کر چند دن کا ماتم کرتے ہیں اور حادثہ بنا کر فراموش کر دیتے ہیں ۔مگر اب وقت متقاضی ہے کہ ہم منافقت،مفاد پرستی اور مصلحت پسندی کا لبادھا اتار کر اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر بنیادی مسائل کا حل تلاش کریں۔

molana2
آج ہمیں سوچنا ہوگا اور ان سازشوں کے خلاف متحد ہو کر برسر پیکار ہونا ہوگا کہ جن میں ہماری سوچ ،ہماری عملی کارکردگیوں اور ہمارے ارادوں سب پرمختلف قسم کے دباؤ ڈال کر ہمیں اپنے ہی گھر کی جنگوں میں الجھا کر کمزور کر دیا گیا ہے ممکن ہے مغرب کے انتہا پسند اور مخالف حلقے جان بوجھ کر بھی ایسی غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہوں تاہم اس میں شک نہیں کہ اہل مغرب کا ایک بڑا حصہ سنجیدگی سے اسلام کے متعلق تحفظات رکھتا ہے اس لیے ہمیں ایسی حکمت عملیاں اختیا ر کرنی ہونگی کہ ہم مغرب کے انصاف پسند حلقے کو اپنی طرف مائل کر سکیں بے شک یہ ایک مشکل کام ہے مگر نا ممکن نہیں اگر ہم خواب غفلت سے نہ جاگے اور کشمیری بھائیوں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کی تو ہمارا ذکر تاریخ کے سیاہ ابواب میں لکھا جائے گا ویسے بھی یہ نوشتۂ دیوار ہے کہ حقوق کاسۂ گدائی میں نہیں ملتے ،اپنا حق اس زمانے سے چھین پاؤ تو کوئی بات بنے

molana3

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *