آئین کے آرٹیکل 243کو دفن کر دینا چائیے؟

Malik Salman

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے حاکمانہ اور درشت لہجے میں کیے گئے ایک ٹویٹ پیغام نے ملک میں نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کے ردِ عمل میں پاک فوج کو متنازع بنانے کی روش انتہائی تباہ کن و نقصان دہ ہوگی۔چندخود سر اوراقتدارپرست فوجی آمروں کی زیادتیاں اپنی جگہ مگرہماری قابل فخرفوج کے ہزاروں جانبازوں نے اس مادروطن کی جغرافیائی سرحدوں کادفاع کرتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا ہے ۔پاکستانی معاشرے میں پاک فوج کو بے پناہ عزت حاصل ہے اورپاکستانی عوام اس ادارے کو اپنی حفاظت کا ذمہ دار اور اپنی قربانیوں کا امین تصور کرتی ہے۔ہماری فوج اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی، ڈسپلن اور بہادری کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پار کا حاکمانہ ٹویٹ اور جواباً فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم یہ دونوں روئیے قابل مواخذہ ہونے چاہیے ، فوج سمیت تمام اداروں کو دستور پاکستان میں وضع کردہ حدود کے اندر رہ کر اپنے فرائض انجام دینے چاہیے۔ کوئی بھی فرد اور ادارہ قانون سے بالا تر نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی اناکواس ملک کے عوام ، آئین اورقانون سے زیادہ اہم سمجھنادرست نہیں۔کوئی فردیاادارہ محض اپنی اناکی تسکین کیلئے شعوری طورپر اس مملکت خدادادکے وقاراوراستحکام کوفناکرنے کی کوشش نہ کرے۔
واضح رہے کہ 6 اکتوبر 2016 کو انگریزی اخبار نے وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے بارے میں سیرل المیڈاکی ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ سول حکومت کے نمائندوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ سے ملک میں انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائی کے بارے میں اختلاف کرتے ہوئے سخت موقف ختیار کیا تھا۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد فوج نے نہ صرف اسے من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا بلکہ اس بات پر اصرار کیا تھا کہ خبر شائع کروانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے اس حوالے سے سخت موقف اختیار کیا اور یہ واضح کیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں سکیورٹی کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی خبر کی اشاعت سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے اس لئے اس معاملہ میں ملوث تمام افراد کو سزا ملنی چاہئے۔ فوج کے ردعمل کے بعد حکومت نے بھی اس کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اس خبر کو من گھڑت اور جعلی قرار دیا تھا۔ تاہم اس مذمت اور تردید سے بھی فوج کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی جس کے نتیجے میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کو خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکامی پر عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا اورڈان لیکس کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، محتسب اعلیٰ پنجاب نجم سعید اور ڈائریکٹر ایف آئی اے عثمان انور کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس ،آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا۔ کمیٹی نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس کے 16 اجلاسوں میں گواہوں سے بیانات لئے گئے۔وزارت داخلہ نے تحقیقاتی رپورٹ چند روز قبل وزیر اعظم ہاؤس کو ارسال کی تھی ، جس میں طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹانے جب کہ وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ہفتے کی دوپہر وزیر اعظم ہاؤس سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اور وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راؤ تحسین کے خلاف ای ڈی رولز 1973 تحت کارروائی کی منظوری بھی دے دی۔
چونکہ رپورٹ سرکاری طور پر منظر عام پر نہیں آئی اس لئے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس پیرا میں کی جانے والی سفارشات کا پس منظر کیا ہے اور رپورٹ میں ڈان کی خبر کی اشاعت کے اسکینڈل کی مزید کیا تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔ تاہم وزیراعظم ہاؤس کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد ہی میجر جنرل آصف غفور کے ایک ٹویٹ نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ۔ صبح 11 بج کر 52 منٹ پر جاری ہونے والے اس ٹویٹ کا متن کچھ یوں ہے: ’’ڈان لیکس پر جاری ہونے والا نوٹیفکیشن نامکمل ہے۔ اور یہ تحقیقاتی بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے‘‘۔
وزیراعظم کے حکم پر فوج کے میجر جنرل کے رینک کے افسر کا کرخت اور حاکمانہ تبصرہ ناموزوں اور سیاسی معاملات میں فوج کو حاصل غیر ضروری اور غیر آئینی اثر و رسوخ کا نمائندہ ہے۔ ملک کے آئینی وزیراعظم اور پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کے سربراہ اور پارلیمانی لیڈر کے حکم کو فوج یا اس کا نمائندہ کس حیثیت اور اختیار سے مسترد کر سکتا ہے؟ اصولی طور پر ملک کے بااختیار اور آئینی وزیراعظم کے خلاف ایسا ٹویٹ پیغام جاری کرنے پر متعلقہ افسر کو عہدہ سے ہٹایا جانا چاہئے۔
مخالف سیاسی جماعتیں اس فوجی حکم ادولی کی مذمت کی بجائے اس کا خیر مقدم کریں گی اور اسے وزیراعظم کے استعفیٰ کیلئے اپنی مہم میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔جمہوریت کو بچانے اورفوج کو عملی طور پر سول حکومت کے ماتحت لانے کے لیے ترکی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے بڑی سیاسی جماعتوں کو آپسی اختلافات بھلا کرکو ایک پیج پر اکٹھا ہو کر اصولی سیاست کرنا ہو گی۔
ادارے اپنی حدود میں ہی اچھے لگتے ہیں۔فوج کی عزت سیاست سے دور رہنے اور سیاسی معاملات میں پارٹی نہ بننے میں ہے ۔کیا کسی اور ملک کا کوئی فوجی جذبات میں آکر ایسا ٹویٹ کر کے ملازمت پر رہ سکتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرکا یہ ٹویٹ فوج کی ساکھ اور وقار دونوں کو داغدار کرنے کا باعث بنا ہے ۔ آئین کے آرٹیکل243کے مطابق فوج ایک ماتحت ادارہ ہے۔گورنمنٹ کو پریشر لینے کی بجائے ڈٹ جانا چاہئیے۔قربانیاں صرف سیاستدان ہی کیوں دیں ؟اگر آج اس جرنیل کو نواز شریف ہمت کر کے فارغ کر دے تو آئیندہ کسی کی جرآت نہیں ہو گی۔اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر آرٹیکل 243کو دفن کر دیں تا کہ فوج اور آزادی سے اپنی من مانیاں کرسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *