پیپلز پارٹی، کیا لوگ اندھے ہیں؟

Muhammad-saeed-azhar

پاکستان کے آئندہ متوقع قومی انتخابات کے انعقاد میں تقریباً ایک برس باقی رہ گیا ہے، قومی سیاست کی سرگرمیوں میں اجتماعی تیزی اور شدت کے معمولات بڑھنے کو انتخابی تیاریوں کی شروعات ہی سمجھنا چاہئے۔ جمہوریت کے تسلسل میں پاکستان کی قومی یکجہتی اور جغرافیائی بقا پوشیدہ ہے، ہمارے ملک کے ماضی نے اس سچائی کو ثابت کر دیا، جن لوگوں کے نظریات اور عمل اس سچائی کی صداقت پر پورا نہیں اترتے یا وہ پاکستان کی سلامتی کے معاملے میں اس ناگزیر صداقت کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، غلط ہی نہیں، وہ ملک و قوم کے کسی بھی نوعیت سے اور کسی بھی سطح پر خیر خواہ نہیں کہے جا سکتے، نہ ہیں!
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری کی قیادت میں پارٹی نے بھی ان آئندہ متوقع قومی انتخابات کے حوالے سے پارٹی کی تنظیم نو، سیاسی بحالی اور سیاسی حرکیات کے محاذوں پر اپنی منصوبہ بندیوں اور جدوجہد کی رفتار و مقدار کافی تیز کر دی ہے، چیئرمین ہی نہیں شریک چیئرپرمین نے بھی پنجاب خاص طور پر ٹارگٹ کر لیا ہے، دونوں قائدین اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما میدان عمل میں دکھائی دے رہے ہیں، کسی کی اس تازہ کشمکش میں شمولیت کو مجبوری کا نام دینا زیادتی ہو گی۔ خوش گمانی ہی واحد مثبت راستہ ہے، جو اپنی شمولیت کو حالات کے دبائو کی وجہ سے استعمال کر رہا ہو گا اسے ایکسپوز ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگ سکتی خواہ وہ کوئی جماعت ہو یا کوئی فرد!
پنجاب کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے احیائے نو کا منظر نامہ ان دنوں سامنے آنے والے پارٹی رویوں کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے۔ لاہور پیپلز پارٹی کی صوبائی اور مقامی قیادت نے اپنی فعالیت کا ثبوت دینے کی کوشش کی، چوہدری اعتزاز احسن، ثمینہ خالد گھرکی، قمر الزمان کائرہ، نوید چوہدری، چوہدری منظور احمد، اشرف بھٹی، طارق خورشید، فیصل میر اور بیرسٹر عامر حسن سمیت سب نے پارٹی کے سیاسی بیرومیٹر کا درجہ حرارت بڑھائے رکھا۔
پیپلز لیبر بیورو کے زیر اہتمام مزدور سیمینار کے موقع پر لاہور پریس کلب میں پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور احمد نے خطاب کیا۔ اندرون لاہور الیاس جاوید بٹ کے ہاں ناشتہ کی تقریب ہوئی، پارٹی رہنمائوں نے وہاں جا کر عوامی رابطے کے پرانے اثاثے سے عدم توجہ کی تلافی کرنے کا آغاز کیا،
لاہور میں پارٹی کے مزید دو فعال کارکنوں اشرف بھٹی اور بیرسٹر عامر حسن کے علاقوں میں پُر جوش اجتماعات منعقد ہوئے۔ ان میں مجموعی طور پر جو کچھ کہا گیا اس پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے:۔
’’میاں نواز شریف کا جانا ٹھہر گیا، پردے ہٹ گئے، اگر شریفوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوئی تو ان کے بھارت میں بھی کاروبار ثابت ہو جائیں، قیامت کی نشانی ہے کہ اتفاق فائونڈری میں مزدوروں کا استحصال کرنے والے یوم مئی منا رہے ہیں، اپوزیشن کے بعد عدلیہ نے بھی کہہ دیا ہے ’’بندہ نمرود گو نواز گو‘‘ جہاں جہاں اس خاندان نے کرپشن کی ہے، ہر جگہ ریکارڈ جلا دیا جاتا ہے، میٹرو اورنج ٹرین کے بعد پاناما اور ڈان لیکس کے ریکارڈ کو بھی آگ لگنے کا خدشہ ہے، 2013میں طالبان نے پی پی کو دھمکیاں دیں، اب 2017میں شہباز شریف وہی دھمکیاں دے رہے ہیں، 4؍ مئی کو مینار پاکستان پر ہی احتجاجی کیمپ لگائیں گے، ہمیں کوئی روک کر دکھائے ڈان لیکس طارق فاطمی نہیں اس سے اوپر کا کام ہے، ٹاپ لیول کے لوگوں کے ایما کے بغیر ایسی چیزیں ہوتی ہیں نہ کی جاتی ہیں، ڈان لیکس اور میمو ایک جیسے کیس ہیں ان میں وزیراعظم ہائوس ملوث ہے۔ 4؍ مئی کو مینار پاکستان پر پیپلز پارٹی کا کیمپ لگے گا، میاں شہباز شریف کا لگ سکتا ہے تو پیپلز پارٹی کا کیوں نہیں۔ ہم تنبیہ کرتے ہی کہ اگر ہمیں روکا گیا تو ہم ماڈل ٹائون کے لوگوں جیسے نرم و نازک نہیں سڑک روک کر کیمپ لگا سکتے ہیں۔
مجموعی اخباری رپورٹ یہ اطلاع بھی دیتی ہے: ’’پیپلز پارٹی لیبر بیورو کے زیر اہتمام سیمینار میں قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور احمد نے اسٹیج پر بیٹھنے سے انکار کر دیا اور اسٹیج کے بجائے کارکنوں میں جا بیٹھے‘‘، پارٹی رہنمائوں نے یہ بھی کہا، ’’4؍ مئی کو ہم نے میاں شہباز شریف کا نیا نام تجویز کرنا ہے، تمام کارکن نام سوچ کر آئیں قرعہ اندازی وہیں پر ہو گی۔‘‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے تختہ دار کو سرفراز کئے جانے تک، ذوالفقار علی بھٹو سے شاہ نواز، مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر شہید تک، بے نظیرکی شہادت سے آصف علی زرداری کے بطور صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بطور منتخب حکمران جماعت کے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی حکمرانی کی مدت پوری کرنے تک تاریخ ساز جدوجہد، کارکردگی اور کارناموں کا ایک ہمالیاتی حجم موجود ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کے دورانیوں میں آصف علی زرداری کی کردار کشی اور قید و بند کی صعوبتوں، اذیتوں اور جان ہتھیلی پر رکھے برسوں کو بھی شامل کر لیں۔ ہم اس پر برسوں سے قلم اٹھائے ہوئے ہیں، حالات کا کوئی رخ اور شب و روز کا کوئی ڈیپریشن ہمیں اس سے نہیں روک سکا، اپنے رب عظیم کے کرم سے ہم نے پاکستانی قوم کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت، جاں گسل تگ و تاز اور عوامی خدمات کے پس منظر میں پاکستان کے تمام رجعت پسند طبقات و افراد کی حملہ آوریوں سے آگاہی دینے میں اللہ نے جتنی توفیق دی اتنی کوشش کی۔ نہ کبھی کسی کنفیوژن کا شکار ہوئے اور نہ ہی ذاتی مشکلات سے بھرے نشیب و فراز کے باعث یہ راہ ترک کی، اب بھی ایسا ہی ہے، الحمد للہ! پھر بات کہاں پہ بگڑی ہے؟
بگاڑ کے سائے پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری منتخب اور حکومت سے گہرے ہونے شروع ہوئے، عجب تکلیف دہ قصہ ہے، ایک جانب پاکستان کی قومی تاریخ میں دو تہائی سے بھی زائد اکثریت سے منتخب صدر تھا، قریب قریب یہی پوزیشن جماعت کے منتخب وزیراعظم کی تھی، صدر نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر وطن کے عروج اور پاکستانی عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک کر دیا، منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی اور دوسرے قومی فورموں پر ایسی تقاریر کیں جن میں آئین کی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل کو خراب کرنے اور پردے کے پیچھے رہ کر سازشوں کے منصوبہ سازوں کو ایسے چیلنج کیا جیسے چیلنج کرنے کا حق تھا، پیپلز پارٹی کے اب تک کے اس آخری منتخب دور حکومت کے عوامی اور بین الاقوامی کارناموں کی باضابطہ فہرست پر غور کرنے سے بندہ انگشت بدنداں رہ جاتا ہے؟ کیوں، اس لئے کہ کار حکومت کی ناقابل تصور سرگرانیوں اور مصیبتوں کے اس پُر خطر سفر کی راہ میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نام کی ایک شخصیت تھی جس نے ایک منتخب حکومت کا ہر روز ، ’’روز جہنم ‘‘ اور ہر شب ’’شب آخر‘‘ بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اس منتخب حکومت کو ناکام بنانے اور گرانے کے معاملے میں ہم عصر سیاستدانوں! نواز شریف سمیت، دائیں بازو کے قلمکاروں، رجعت پسند گروہوں، طالبان اور ان کی ذیلی تنظیموں مخصوص مذہبی شدت پسند جماعتوں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مختلف انفرادی اور اجتماعی عناصر نے قیامت صغریٰ برپا کئے رکھی۔ پاکستان اور پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی تکمیل کی یہ سعادت ہی انہیں پاکستان ہی نہیں برصغیر کی تاریخ میں امر کر چکی، وقت بتائیگا مفاہمت کے صبر کا پیالہ پی کر آصف زرداری نے جس آئینی بالادستی، ووٹ کی حرمت اور جمہوری تسلسل کا علم لہرا کے دکھایا، وہ اس کے جنوبی ایشیا کی اس مملکت خداداد کا فرزند جلیل ہونے کی عملی شہادت ہے!
لیکن بات کیسے بگڑی؟ وہی ون ملین ڈالر سوال! سو بات ایسے بگڑی، سنو، ایک جانب پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے فلسفہ عوام کی پاسبان بنی ہوئی تھی، دوسری جانب اسی ایوان صدر کے ملاقاتی، جی ہاں صرف ملاقاتی، وفاقی محکموں کے افسروں سے کہتے ’’چالیس لاکھ کے ماہانہ اشتہارات دیتے ہو یا نہیں؟‘‘ بات بگڑی اس پارٹی کے میڈیا سیلز میں موجود ان کم نگاہ انا پرستوں کے ہاتھوں جن سے ایک لفظ کا اختلاف، گناہ کبیرہ کے مترادف ٹھہرا، بات بگڑی ان وزراء کے دن رات غرور اور اعمال سے جن کی فرعونیت نے بھٹو کی عوامیت کو ذلیل کر کے رکھ دیا، بات بگڑی جب بیس تیس گاڑیوں میں جانے والے قائم علی شاہ کے طوفانی قافلے کی مٹی اور دھول عام سندھی کے چہرے پر پڑی اب کہتے ہو، پنکھے لے کر مینار پاکستان جائیں گے، شہباز شریف کا نام رکھیں گے، وہ ’’کارکنوں کے درمیان بیٹھ گئے‘‘ کے جملے چھپتے ہیں، نواز کو عدالت نے نمبر 2‘‘ قرار دے دیا ہے (قانوناً 1000فیصد جھوٹ) اور یہ سب پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کر رہے ہو، کیا لوگ اندھے ہیں؟ کیا تمہیں نواز شریف کو کائوٹ کرنے کی عقل اپنی ان نعروں میں کارفرما دکھائی دیتی ہے؟ (گفتگو جاری رہے گی! )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *