امریکی محکمہ انصاف کے حیران کن فیصلے سے نسلی فساد کا خطرہ!

ایلٹن سٹرلنگ

امریکی محکمہ انصاف نے مبینہ طور پر ان دو سفید فام پولیس افسروں پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے جنھوں نے گذشتہ سال ریاست لوزیانا میں ایک سیاہ فام شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ویڈیو فوٹیج میں مقتول ایلٹن سٹرلنگ کو پولیس نے بظاہر زمین پر گرا کر فائر کیا تھا جس کے خلاف ریاستی دارالحکومت بیٹن روگ میں کئی دنوں تک مظاہرے ہوئے تھے۔ اس فیصلے کی خبر سٹی میئر یا پھر سٹرلنگ کے اہل خانہ کو بتانے سے قبل امریکی میڈیا میں لیک ہو گئی۔

اس کے فورا بعد لوگ اس دکان کے پاس اکٹھا ہونا شروع ہو گئے جہاں گذشتہ سال یہ سانحہ پیش آيا تھا۔ منگل کی رات کو ان کی یاد میں دعائیہ تقریب کا انتظام کیا گيا۔

خیال رہے کہ شہری حقوق کی جانچ قتل کے فورا بعد شروع کر دی گئی تھی جس میں 37 سالہ شخص کا کیرانہ دکان کے سامنے سی ڈی فروخت کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد مظاہروں میں حصہ لینے والے تقریبا 200 افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور امریکہ میں نسل پرستی پر شدید تقسیم نظر آئی۔دعائیہ تقریب

دونوں سفید فام پولیس کے خلاف کارروائي نہ کرنے کا وفاقی فیصلہ امریکہ میں نئی حکومت کے آنے اور اٹارنی جنرل جیف سیشن کے محکمۂ انصاف کے نئے سربراہ مقرر ہونے کے بعد آیا ہے۔

بہر حال اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوزیانا ریاست اپنی سطح پر ان کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کر سکتی۔

جب یہ خبر پھیلی کہ ایک شخص دکان کے باہر لوگوں کو بندوق سے دھمکا رہا ہے تو پولیس کو طلب کیا گیا۔ موبائل فوٹیج میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار سرخ قمیض میں ملبوس ایک شخص سے کشتی کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک پولیس والے نے اس شخص کو نیچے گرا دیا اور اس کے بازو کو اپنے گھنٹوں سے دبا رکھا تھا اور پھر اپنی گن نکال کر اس شخص پر تان دی تھی۔

ایک آواز سنی جا سکتی ہے کہ اس کے پاس گن ہے پھر گولی چلنے کی آواز آتی ہے اور کیمرے کا رخ دوسری جانب ہو جاتا ہے۔

ایک پانچ سالہ بچے کے والد مسٹر سٹرلنگ کی موت جائے حادثہ پر ہی ہو جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے آفیسروں کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انھوں نے اسے زمین پر گرانے کے لیے سٹن گن کا استعمال کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کی جیب میں گن دیکھی تھی اور اس کا ہاتھ جیب کی جانب بڑھ رہا تھا قبل اس کے کہ اس کا ہاتھ وہاں تک پہنچ پاتا ان لوگوں نے اس پر گولی چلا دی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *