سانولے رنگ کی لڑکیوں سے یہ بے انصافی کیوں؟

دیپتی ورما

deepti

مختلف بلاگز کے ذریعے روزانہ آپ کو بہت سی سانولی گندمی رنگت کی لڑکیوں کی طرف سے اس با ت کا اظہار سننے کو ملتا ہے جب وہ اپنے دکھ اور ہیجان کی کیفیت بیان کر رہی ہوتی ہیں۔ کچھ کو اپنے محبوب لڑکیوں کی طرف سے مسترد کیا جا چکا ہوتا ہے اور کچھ کو سسرال سے مسائل کا سامنا رہتا ہے اور بعض ایسی بھی ہیں جنہیں صرف رنگت کی بنا پر انٹرویوز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ بھارت ایک نسل پرست قوم نہیں ہے۔ کچھ سوچ لیجیے صاحب۔

Dusky beautyایک ایسا لفظ ہے جو میں اپنے بچپن سے سنتی آئی ہوں۔ لوگ صرف بیوٹی کہنے کی بجائے ڈسکی بیوٹی کہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے جن لوگوں سے میں ملتی ہوں وہ مجھے بنگالی سمجھتے ہیں اور یہی حال میرے سابقہ مینیجر کا بھی تھا۔ جی ہاں کیونکہ اگر آپ کی رنگت گہری ہے اور آپ خوبصورت بھی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بنگالی ہیں اور اگر بنگالی نہیں تو جنوبی انڈین ہیں۔ یہ سب تعصبات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نہ تو بنگالی ہوں اور نہ ہی ساوتھ انڈین۔

لفظ Dusky گہرے رنگ کی طرف اشارہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے مراد وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو گہری رنگت کے باوجود بہت پرکشش دکھائی دیتی ہیں۔ اس طریقہ سے دیکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ dusky کو تو پسند کرتے ہیں لیکن گہری رنگت کو نہیں۔ اسی لیے بالی وڈ میں بھی بپاشا باسو اور لیزا ہائیڈن جیسی لڑکیوں کو Dusky beauties کہا جاتا ہے اور انہیں سیکسی اور ہاٹ کے الفاظ سے بیان کیا جاتا ہے۔ البتہ کسی بھی لڑکی کی گہری رنگت کی طرف اشارہ کرنے کےلیے کسی دوسرے لفظ کا استعمال اس چیز کا واضح ثبوت ہے کہ سانولی اور گہری رنگت کو پسند نہیں کیا جاتا۔

سانولے اور گہرے رنگ کا مسئلہ بھارتی معاشرے کے مائنڈ سیٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس آرٹیکل پر تبصرہ کرتے ہوئے ضرور لکھیں گے کہ گہرا رنگ بھی خوبصورت ہو تا ہے لیکن جب حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا تو ہم بھاگ جاتے ہیں اور لڑکی کو چھوڑنے پر راضی ہو جاتے ہیں صرف اس لیے کہ اس کا رنگ گورا نہیں ہے۔

کچھ لڑکے اپنی محبوب لڑکیوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کا جسمانی رنگ گورا نہیں ہوتا اس لیے ان کے والدین ایسی لڑکی کو قبول کرنے پر رضا مند نہیں ہوتے۔والدین پوچھتے ہیں کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو ایک سانولے رنگ کی بہو دکھائیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس سے ہماری عزت مٹی میں مل جائے گی۔

بھارتی بہوئیں شادی کے بعد ایک شو پیس کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں جب ہر کوئی انہیں ان کی رنگت، آنکھ، ناک، کام اور وزن کی بنا پر ان کی خوبصورتی پر ریٹنگ جاری کرتا ہے۔

بھارت میں ایک لڑکی کی قبولیت کا واحد اہم عنصر اس کی جسمانی رنگت ہے۔

اس کی تعلیم، کاروباری مہارت، بول چال کی صلاحیت، کیریر اور یہاں تک کہ اس کی ذاتی فطرت بھی خطرے میں پڑجاتی ہے۔

لڑکی کا کیا ہو گا جو مثالی بہو ہو، خاندان کو جوڑ کر رکھ سکے لیکن اس کی رنگت بہت سانولی ہو؟

اس سے آپ اپنے خاندان کی عزت ہمیشہ کے لیےگنوا سکتے ہیں۔

اگر آپ ان لڑکوں کو بزدل کہتے ہوئے انہیں گالیاں دےرہے ہیں تو میرے دوست اپنے اندر تبدیلی پیدا کیجییے۔

کے بھی اتنے خوش ہوتے نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نقصان کے راستے پر ہیں نہ کہ لڑکیاں۔ شیکا شرما نے لڑکوں کی مشکلات کے بارے میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینیجمنٹ احمد آباد میں ہونے والے کانووکیشن میں جو لیکچر دیا ہے اس سے لڑکوں کی بے بسی بہت واضح ہو جاتی ہے۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گہری رنگت والوں کے بارے میں سارے لطیفے ناراضگی کا باعث بنتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ گہری رنگت کو ایک خامی تصور کرتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ جو لوگ گہری رنگت کے بارے میں لطیفوں پرمشتعل ہوتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں جو اس چیز کو خامی سمجھتے ہیں۔ مجھ جیسی لڑکیاں اس طرح کے مزاح کو بد تمیزی سمجھتی ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی گہری رنگت کو ایک خامی سمجھتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس چیز کو خامی سمجھتا ہے۔

جارحانہ مزاج کا مزاح انسان کو دوسرے کا مذاق اڑانے اور اس کی ہتک کرنے پر ابھارتا ہے۔ گہرے رنگ کے بارے میں مشہور لطیفے یہ واضح کرتے ہیں کہ کسی دوسرے کی جسمانی ساخت کا مذاق اڑانا کچھ غلط نہیں ہے۔

میں کچھ سانولی رنگت کے لوگوں کو جانتی ہوں ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس بات سے پریشان نہیں ہوتے چاہے کوئی ان کی رنگت کا مذاق بھی کیوں نہ اڑا لے۔ ان کا یہ رویہ اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی انہیں جیسے بن جائیں ، ان کی طرح بڑا پن دکھائین اور اپنے اندر حس مزاح پیدا کریں۔البتہ سب یہ یقین نہیں کر پائیں گے کہ یہ مزاح اور ہماری سوچ ہے جو جارحانہ ہے نہ کہ معاشرے کا طرز عمل جو ہمیں انسانیت سے دور لے کر جا رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *