مڈل کلاس کی ترقی

سلمان صدیقی

middle

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس ملک کی مڈل کلاس تیزی سے ترقی کر رہی ہے جیسا کہ کنزیومر جیوریبل اشیا کی ڈیمانڈ میں اضافہ، تعلیم اور صحت کے میدان میں ترقی سے ظاہر ہے۔ سینٹرل بینک نے ملک کی معیشت کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ کنزمپشن پیٹرن میں اضافے سے ملک کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہت سی علامات ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں کنزیومر ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں کنزیومر فنانسنگ، آٹو موبائلز اور الیکٹرانک اشیا کی ڈیمانڈ اور فیول کے استعمال میں اضافہ شامل ہیں۔ آئی بی اے ایس بی پی کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس نے جنوری 2017 میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ قائم کیا جب یہ 174.9 پر پہنچ گیاجو ایک سال قبل یعنی 2016 کے مقابلے میں 17 پوائنٹ زیادہ تھا۔ اگرچہ مڈل کلاس کے لوگوں اور گھرانوں کو گننے کےلیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں لیکن سب سے اہم فیکٹر جس سے ہم معیشت کا اندازہ لگا سکتے ہیں وہ عوام کے زیر استعمال اشیا ہیں۔ ایک ماہر سیاسی اکانومسٹ ایس اکبر زیدی کے مطابق پاکستان کی مڈل کلاس کی معیشت پچھلے 15 سے 20 سال سے بہتر ہوتی نظر آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بیرون ملک کام کرنے والے افراد کی بھیجی گئی رقوم اور غیر ملکی انویسٹمنٹ ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری جو 2002 میں اس ملک میں آئی نے بہت سی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ اس سے ملک میں نہ صرف تعلیم کے میدان میں بہتری آئی ہے بلکہ عوام کی سیاست میں دلچسپی بھی مڈل کلاس کی ترقی کی علامت ثابت ہوئی ہے۔ زید کے مطابق پاکستان کی مڈل کلاس ہی الیکٹرانک اشیا کی خریداری جن میں واشنگ مشین اور موٹر سائیکل جیسی اشیا شامل ہیں کی حقیقی خریدار قرار دی جاتی ہے۔ اشیا کی خریداری اور استعمال کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 42 فیصد ایسے لوگ ہیں جو اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ 38 فیصد کا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ اگر یہ اعداد درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ 84 ملین پاکستانی مڈل اور اپر کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تعداد جرمنی کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

سٹینڈرڈ چارٹرڈ مڈل ایسٹ نارتھ افریقہ اینڈ پاکستان سینیر اکنامسٹ بلال خان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کنزمپشن اینڈ کینزیومر کانفیڈنس کا ملک میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری طرف سینٹرل بینک کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک اشیا نے بھی مالی سال کے پہلے ہاف میں ترقی کرتے ہوئے گروتھ میں 14.5 فیصد اضافہ کیا ہے۔ پچھلے سال یہ گروتھ صرف 8.2 فیصد تک محدود تھی۔

ریفریجریٹر(25فیصد) اور ڈیپ فریزر (54.4) کی مارکیٹ نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے علاوہ آنے والے مہینوں میں انرجی سپلائی لو انٹرسٹ ریٹ کے ساتھ کنزیومر فائنانسنگ، دیہاتی آبادی کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں بہتری، ملک کے بڑے بزنس اور غیر ملکی انویسٹ منٹ میں بہتری، یہ سب چیزیں ملک کی صنعتی ترقی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

کنزیومر فائنانسنگ میں رواں سال کے پہلے نصف میں بھی 37.6بلین روپرے کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ آٹو فائنانس مغلوب رہا جب کہ ذاتی قرضون کے معاملے میں ایک خاص بہتری واقع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے سال ذاتی قرضروں کی مد میں ٹوٹل نیٹ کریڈٹ 13.7بلین روپے کی رقم پچھلی دہائی کی سب سے بڑی رقم ہے۔

ایس بی پی کے مطابق کھانوں اور مشروبات کے شعبہ میں بھی بہت شاندارترقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *