پی ٹی آئی ایسا پاکستان چاہتی ہے؟

raza-habib-raja

پچھلے کچھ دنوں میں بہت سے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔ پانامہ لیکس کے معاملے میں عدالتی فیصلہ جس کا بہت بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا آخر سامنے آ ہی گیا۔جب یہ خبر آئی کہ ایک جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے گی جو نواز شریف کی کرپشن پر مزید تحقیقات کرے گی تو میں نے ایک مشہور صحافی سے رابطہ کیا جن سے میں اکثر مسائل پر گفتگو کر لیتا ہوں تو ان کا جواب تھا کہ جس ملک میں انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ نہ ہو وہاں اس طرح کے فیصلے کمی پوری کر دیتے ہیں۔

فیصلے کا ابتدائی جملہ جس میں فلم 'گاڈ فادر' کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا تعلق کرپشن سے کم اور کسی معاملے کو اچھالنے سے زیادہ ہے۔ایک سال تک میڈیا کے سامنے صرف ایک ہی معاملہ ہے جسے اچھالا جا رہا ہے اور باقی بڑے اور اہم مسائل کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ دوسرا بڑا ایشو جو میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے وہ ڈان لیکس کا ہے۔سچ یہ ہے کہ پانامہ کیس کوئی اہم ایشو ہے ہی نہیں۔ اسے بنا کسی ضرورت کے اس قدر اہم بنا دیا گیا ہے ۔پی ٹی آئی اس مسئلے میں اتنی زیادہ کھو گئی ہے کہ اسے بم دھماکے میں بھی حکومت کی چالیں نظر آنے لگی ہیں اور یہ سمجھنے لگی ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانا ہے۔

عمران خان نے تازہ ترین شوشہ چھوڑا ہے کہ انہیں شریف خاندان کی طرف سے پانامہ سے پیچھے ہٹنے کےلیے 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش ہوئی ہے۔ کوئی بھی عقل مند انسان اس دعوے پر مسکرائے بغیر اور کیا کر سکتا ہے؟کیا کرپشن ایک اہم ایشو ہے؟ جی ہاں یہ اہم ایشو ہے لیکن صرف یہی واحد ایشو نہیں ہے۔ پاکستان میں دوسرے بہت سے مسائل بھی ہیں جن میں صنفی تفاوت، بڑھتی ہوئی شدت پسندی، سول ملٹری تعلقات کی خرابی، مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور نسی تعصب وغیرہ شامل ہیں جو زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔

کرپشن کے معاملے میں اتنا جارحانہ رویہ اصل میں مڈل کلاس کے لوگوں کی خاصیت ہے جو اس کی اپنی اخلاقی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ چونکہ میڈیا اس کلاس کے معاملات کو حد سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اس لیے ان کا شور باقی تمام مسائل کو نظر انداز کیے جانے کا باعث بنتا ہے۔اگر یہ سمجھ بھی لیا جائے کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو بھی وزیر اعظم یا ان کے خاندان کی طرف سے ٹیکس بچانے کا عمل اگرچہ قابل مذمت ہے لیکن اتنا اہم نہیں ہے کہ اس پر پورا ملک سر پر اٹھا لیا جائے۔

پچھلے ایک سال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس چیز پر اٹکا ہوا ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا 1990 کی دہائی میں خریدے گئے فلیٹ ٹیکس چوری کی رقم سے خریدے گئے تھے یا نہیں؟میں پی ٹی آئی بریگیڈ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پانامہ لیکس میں سینکڑوں پاکستانی سیاستدانوں اور تاجروں کے نام آئے ہیں۔یہ حقیقت نظر میں رکھتے ہوئے کہ پاکستان کی معیشت غیر تحریری ہے لیکن بہت سے بزنس ہاوسز نے پچھلی دہائی میں بہت سی آف شور کمپنیاں قائم کی ہیں۔ نواز شریف نے جو کیا وہ غلط تھا لیکن غیر معمولی نہیں تھا۔ میں اس کا دفاع نہیں کر رہا۔ میں بھی اس کو غلط سمجھتا ہوں لیکن کیا یہ اس چیز کا حقدار ہے کہ ہم اس سب کا وبال ایک شخص پر ڈال دیں؟

اگر کرپشن کا معاملہ اتنا ہی اہم ہے تو کیوں نہ سارے جمہوری اداروں کے پبلک آڈٹ کا مطالبہ کیا جائے؟ یہاں جو مہم چل رہی ہے وہ کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ ایک شخص کے خلاف چلائی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ مضحکہ خیز چیز یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کا موازنہ آئیس لینڈ کے وزیر اعظم کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔چونکہ آئیس لینڈ کے وزیر اعظم نے پانامہ لیکس میں اپنا نام آنے پر استعفی دیا ہے اس لیے ہمارے کچھ ٹی وی اینکرز اور پی ٹی آئی کے حمایتی اسے ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔

میں نے بہت سے ایسے آرٹیکلز پڑھے ہیں جن میں نواز شریف کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق صادق اور امین نہ ہونے کی خاصیت کوآئس لینڈ کے وزیر اعظم کے اصول پسندانہ طرز عمل سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔تقابلی سیاست کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بہت سی سطوحات پر ایک ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے بیچ موازنہ کرنا غلط چیز ہے۔اگر ممالک کا آپس میں موازنہ کریں تو ہمیں ممالک کی آبادی ، تاریخ، سماجی و معاشی علامات اور سیاسی اداروں کے کام کے طریقے پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ساتھ ساتھ، اگر آپ سب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ پاکستان آئس لینڈ کو فالو کرے تو پھر کیوں نہ ہم آئیس لینڈ کو جینڈر ایکولٹی میں بھی ایک مثال کے طور پر دیکھیں جو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ جینڈر گیپ انڈیکس میں آئیس لینڈ سب سے آگے ہے جب کہ پاکستان دنیا بھر میں سیکںڈ لاسٹ نمبر پر ہے۔کیا پی ٹی آئی کے حمایتیوں اور عام ناقدین جو آئیس لینڈ کے وزیر اعظم کے استعفے سے پھولے نہیں سما رہے کو اس عدم مساوات کے معاملے کی کوئی خبر بھی ہے؟

ہم کیوں نہ پاکستان کو خواتین کے لیے بہتر بنانے کےلیے آواز اٹھائیں جو ہماری آبادی کا نصف حصہ پر مشتمل ہیں۔لیکن نہیں، ہم اگر آئس لینڈ کو فالو کرنا چاہتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہاں کے وزیر اعظم نے استعفی دیا ہے۔ میں سب کو یہ یاد دلا دوں کہ پی ٹی آئی وہی جماعت ہے جو خواتین کے تحفظ کےلیے پیش کیے گئے بل کی مخالفت کر رہی تھی۔میں اکثر یہ دیکھتا ہوں کہ اپنا امیج ٹھیک ہونے کی وجہ سے عمران خان ہی عوام کی طرف سے صحیح انتخاب قرار دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے اندر مسائل پائے جاتے ہیں بھی یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر ہمیں کڑوی گولی کھا کر عمران کو ہی منتخب کروانا ہوگا۔

عمران خان نے جمہوری عمل کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش مسلسل جاری رکھی ہے جس کی وجہ سے قانون سازی بھی نہیں ہو پائی۔ عمران خان نے ہمیشہ ہارڈ لائنر کی مدد کی ہے جس سے ان کی مقبولیت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔کچھ دن قبل ٹی ٹی پی رہنما احسان اللہ احسان نے پاکستان آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دعوی کیا کہ ٹی ٹی پی کی فنڈنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را کر رہی ہے۔میں آپ کو یاد دلا دوں کہ ایک موقع ایسا بھی آیا تھا جب عمران خان ٹی ٹی پی کو اپنے آفس کھولنے کی اجازت دینے کے حامی تھی اور اسی لیے ٹی ٹی پی نے عمران خان کو حکومت سے امن بحالی مذاکرات کے لیے نمائندہ مقرر کیا تھا۔اگر ٹی ٹی پی کو فنڈنگ rawسے ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ عمران خان دشمن کی مدد کر رہے تھے۔ انہیں صرف کڑوی گولی قرار دینا بھی ایک نا انصافی ہو گی۔

کچھ دن قبل 'شیر پنجاب' مصطفی کھر بھی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ گھریلو تشدد اورخواتین سے نفرت کے معاملے میں مصطفی کھر کا ریکارڈ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔مجھے بلکل اندازہ نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کس طرح کا نیا پاکستان چاہتی ہے۔اگر شیخ رشید اور کھر نیا پاکستان کا چہرہ ہیں تو ہم پرانے پاکستان پر ہی خوش ہیں۔

http://blogs.tribune.com.pk/story/49224/what-kind-of-naya-pakistan-does-imran-khan-and-pti-have-in-mind-exactly/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *