ڈان لیکس ٹویٹ "ریاست کے اندر ریاست"

imad zafar

وطن عزیز میں دراصل طاقت کا اور فیصلوں کا اختیار کس ادارے یا کن ہاتھوں میں ہے یہ حقیقت دراصل ہر زی شعور شخص جانتا ہے . روز اول سے آج تک سویلین حکومتیں عوامی مینڈیٹ سے زیادہ دفاعی ایسٹیبلیـشمنٹ کے مینڈیٹ کی مرہون منت رہیں ہیں. کہنے کو تو آئین کی رو سے جمہوری حکومتیں صرف عوام کو جوابدہ ہوتی ہیں، لیکن درحقیقت ہر جمہوری حکومت عوام سے زیادہ جی ایچ کیو کو جوابدہ دکھائی دیتی نظر آتی ہے. اسکندر مرزا کا دور حکومت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو ہوں ، محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو کے ادوار یا ان کی جماعتوں کے ادوار حکومت ہوں یا پھر نواز شریف کے ادوار حکومت، ان تمام حکومتوں کے آنے جانے میں یا ان کی راہ میں روڑے اٹکانے میں دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کا کلیدی کردار رہا ہے. ہر منتخب وزیر اعظم اپنےدوراقتدار میں دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ سے ڈکٹیشن لے کر اور خارجہ و دفاعی امور سے مکمل طور پر لاتعلق رہ کر ہی اقتدار پر فائز رہنے پایا.یعنی وطن عزیز میں ایک طرح سے ریاست کے اندر ایک ریاست قائم ہےجو سامنے سے حکومت کرنے یا فیصلے صادر کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں اور جمہوری حکومتوں کواستعمال کر کے اپنے فیصلے صادر کرتی ہے. کوئی بھی منتخب وزیر اعظم اگر دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دےتو ذوالفقار بھٹو کی مانند تختہ دار یا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی مانند جلاوطن کر دیا جاتا ہے. موجودہ دور میں چونکہ مارشل لا کی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ دنیا بھر سے اقتصادی پابندیوں کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا ،اس لیئے مشرف کےدور کے بعدسے دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ نے پس پردہ رہ کر حکمرانی کرنے کی ڈاکٹرائن ایجاد کی جو کہ تواتر اور کامیابی سے جاری ہے. ڈان لیکس یا نیوز گیٹ کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر وزیر اعظم کے نوٹیفیکیشن کو فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جس انداز اور الفاظ میں مسترد کیاگیا نہ صرف وہ جگ ہنسائی کا باعث بنا بلکہ ایک بار پھر ریاست کے اندر ریاست والی حقیقت کو دنیا بھر میں آشکار کر گیا. پاکستان کے آئین کے مطابق فوج حکومت کا ماتحتی ادارہ ہے اور ایک ماتحت ادارے کے ایک افسر نے ایک ٹویٹ کے زریعے ملک کے وزیر اعظم کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے جو نوٹیفیکیشن وزیراعظم ہاؤس سےجاری ہوا وہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی حقیقی روح کے منافی ہے اس لیئے اسے مسترد کیا جاتا ہے. یہ ٹویٹ دراصل پاکستان میں جمہوری یا سول حکومتوں کی دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے سامنے کمزوری اور بےبسی کا منہ بولتا ثبوت ہے. اس ٹویٹ سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ بھلے ہی عوام جتنی مرضی بھاری اکثریت سے اپنے نمائندوں اور رہمناؤں کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجیں لیکن بندوق کا وزن ان کے دیئے گئے مینڈیٹ پر بھاری رہتا ہے. اس ٹویٹ پر سیاسی جماعتوں کا خوش ہونا اور اس کے بعد حکومتی اقدامات کو مسترد کرنا یا عوام میں دفاعی حلقوں کا سول حکومتوں کے کاموں میں مداخلت دینے اور انہیں ڈکٹیشن دینے پر عوام کا خوش ہونا دراصل بطور معاشرہ ہمارے اس اجتماعی رویے کی عکاسی کرتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں آمریت پسندی اور نرگسیت پسندی پر مبنی ہے. یہ اجتماعی رویہ دراصل ہماری نجی زندگیوں سے شروع ہوتا ہے اور معاشرتی سطح تک پھیلتا جاتا ہے. اپنے اپنے گھروں، خاندان، دفاتر، کاروبار میں اپنی دھونس جمانے سے لیکر طاقتور کے سامنے بیٹھ جانے کا یہ رویہ اور اپنی ذات برادری کو سب سے بہتر اور اعلی سمجنے کی نرگسیت کیفیت چونکہ کرٹکل تھنکنگ سے ہمیں نابلد کر دیتی ہے اور ریاست کا دفاعی بیانیہ نفسیاتی طور پر ہمارے مزاج سے مطابقت رکھتا ہے اس لیئے اپنے جیسے ایک سویلین یا نمایندے کو کسی آمر کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر برطرف کیئے جانے یا اس کی سرزنش پر ہماری اناؤں کو تسکین ملتی ہے. موجودہ معاملے میں اگر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جگہ آرمی چیف خود فون کر کے یا کسی کے ذریعے پیغام بھجوا کر وزیر اعظم کو یہ کہلوا دیتے کہ ان کے یا ان کے دیگر ساتھیوں کی اس نوٹیفیکیشن کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تو شاید یہ معاملہ سلجھ سکتا تھا .لیکن جس انداز میں ایک ٹویٹ کے ذریعے منتخب وزیر اعظم کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو مسترد کیا گیا وہ دراصل منتخب وزیر اعظم کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے. دوسری جانب اس پیغام کی ٹایمنگ سیاسی محاذ پر بھی حکومت کیلئے دشواریوں کا باعث بنے گی. "سیکیورٹی رسک " قرار دیکر پہلے بھٹو کو غدار کہلوایا گیا پھر بینظیر بھٹو کی باری آئی اور اب نشانہ نواز شریف ہے. حیرت انگیز طور پر پیپلز پارٹی جیسی جماعت جو خود دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے زیر عتاب رہ کر یہ سب کچھ بھگت چکی پے وہ بھی اس معاملے کو لیکر دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کی تائید کرتی نظر آرہی ہے. خیر اگر دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے موقف کو مان لیا جائے کہ " ڈان لیکس "قومی سلامتی" کا مسئلہ تھا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سانحہ ایبٹ آباد سامحی اے پی ایس ، کارگل کا مس ایڈونچر، مشرف کا بیرون ملک فرار کیا یہ قومی سلامتی کے مسئلے نہیں تھے.کیا کبھی ان معاملات پرکبھی کوئی ٹویٹ ہماری نظروں سے گزرا ؟ کیا کبھی ان معاملات پر کسی  کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ کسی کی نگاہوں سے گزرا ؟جس میں ان سانحات میں غفلت برتنے والوں کی برطرفی یا کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا گیا ہو؟ ڈان لیکس یا نیوزگیٹ تو محض ایک صحافی کو ایک میٹنگ کی اندرونی کاروائی کی خبر پہنچانے کا معاملہ ہے لیکن سقوط ڈھاکہ ملک کو دو لخت کر دینے کا واقعہ ہے جس کی حمودالرحمان کمیشن رپورٹ نہ تو آج تک پبلک کی گئی اور نہ ہی وطن عزیز کو دولخت کرنے والے مرکزی مجرموں کو کسی بھی قسم کی سزا سنائی گئی. ایبٹ آباد آپریشن میں امریکی افواج کا اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں گھس کر مارنا ملکی سالمیت کی دھجیاں اڑانے کے مترادف تھا لیکن نہ تو کسی جرنیل کااستعفی آیا اور نہ ہی کسی جرنیل کو غفلت کا مرتکب قرار دیکر ملازمت سے برطرف کیا گیا. ڈان لیکس کے کیس میں پرویز رشید، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کی بلی لے کر بھی مطمئن نہ ہونے والے ہاتھ، سانحہ ایبٹ آباد، کارگل مس ایڈ ونچر اور ملکی آئین پر بارہا شب خون مارنے والے اپنے ہی سابقہ ساتھیوں کو انصاف کے کٹہرے میں کب لائیں گے اس سوال کا جواب شاید ہمیشہ پردے میں چھپا رہے گا. "قومی سلامتی" کی تعریف کی تشریح اور حب الوطنی کی اسناد بانٹنے کا حق نہ تو کسی ایک ادارے کو دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے قبول کیا جا سکتا ہے. "قومی سلامتی" اور "ملکی وقار" اگر امریکی افواج کے ایبٹ آباد آپریشن سے متاثر نہیں ہوتا ڈرون حملوں سے اس پر آنچ نہیں آتی مشرف یا ضیا کے وطن کے آئین کو قدموں تلے روندنے سے یہ متاثر نہیں ہوتا سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی اس کو گزند نہیں پنچتی تو پھر ڈان لیکس جیسا غیر اہم معاملہ اس کو گزند کیسے پہنچا سکتا ہے. وہ سیاسی جماعتیں جو ڈان لیکس کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے مطالبات کر رہی ہیں کیا ان کے قائدین میں سے کسی ایک میں بھی اتنی اخلاقی جرات ہے کہ سانحہ ایبٹ آباد کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کیلئے اسی طرح شوروغل کریں؟ دوسری جانب دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کو اب "ریاست کے اندر ریاست " والے تصور سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے .اداروں کی طاقت کی بالادستی کی اس جنگ میں نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہی ہوتا ہے. عوام کے مینڈیٹ کو یرغمال بنانے کا یہ عمل اب ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *