کیا ٹویٹ ہی واحد راستہ تھا؟

zahid hussain

جو چیز پچھلے کافی عرصہ سے خفیہ طور پر چل رہی تھی پچھلے ہفتے میں بلکل کھل کر باہر آ چکی ہے۔ ملٹری کے آئی ایس پی آر نے پرائم منسٹر آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کو سر عام مسترد کرنے کا اعلان کیا ۔ لیٹر میں کچھ وزارتوں کو جاری کیا گیا تھا اور انہیں حکم دیا گیا کہ کچھ میڈیا ذرائع کے خلاف ایکشن لیں۔ ڈان لیکس پر جاری سول ملٹری تنازعہ اس ٹویٹ کے بعد بلکل واضح ہو گیا۔ سویلین اتھارٹی کے خلاف اس قدر سخت رد عمل ایک بہت بری اور خطرناک مثال ہے۔ جہاں وزیر اعظم پہلے سے ہی سیاسی طور پر بہت مشکلات کا شکار ہیں آرمی کے ساتھ اس قدر تلخ مکالمہ کسی صورت ان کے لیے بہتر چیز نہیں ہے۔

اب معاملہ اور بھی زیادہ گھمبیر ہو چکا ہے کیونکہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں اس معاملے میں فوج کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔ تازہ ترین تنازعہ کا تعلق صرف ڈان لیکس سے نہیں ہے بلکہ کچھ اور بھی فیکٹرز ہیں جو اس سول ملٹری تنازعہ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس وقت ریاست کے ان دو اداروں میں اعتماد کی بہت کمی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راحیل شریف کی تبدیلی سے فوج اور سویلین حکومت کے بیچ تعلقات میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آرمی اور سویلین کے بیچ تعلقات کسی شخص سے نہیں بلکہ ادارہ کی سطح پر قائم ہوتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتے میں وزیر اعظم نے بہت کڑا وقت دیکھا ہے۔ ہر چیز وزیر اعظم کے خلاف سامنے آ رہی ہے۔ پہلے پانامہ کیس کا فیصلہ آیا پھر سجن جندال سے ملاقات اور اب آئی ایس پی آر کا ٹویٹ۔

سجن کی آمد صرف فیملی فرینڈ کا معاملہ نہیں تھا ۔ ان کی آمد کا وقت اور حالات بہت اہم ہیں جن کی وجہ سے یہ ملاقات تنقید کا باعث بنی۔ اس پر تیل کا کام آرمی کے شک و شبہ نے کر دیا جو ہمیشہ آرمی کو احساس دلاتا ہے کہ نواز شریف کے دل میں بھارت کےلیے سافٹ کارنر موجود ہے۔ وزیر اعظم کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ڈالنے کے لیے دوسری پارٹیوں نے جندال کے پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کیے گئے ٹویٹس کا استعمال کیا۔ کچھ میڈیا سیکشن بھی اس معاملے میں آگ اگلنے لگے جس سے حالات مزید ابتر ہونے لگے۔ اسی دوران وزیر اعظم ہاوس سے ڈان لیکس کے معاملہ میں انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق پرائم منسٹر کے سپیشل اسسٹنٹ طارق فاطمی اور ایک دوسرے انفارمیشن منسٹری اہلکار کو برطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ۔ آرمی کی طرف سے اس نوٹیفیکیشن کو نامکمل قرار دے کر فوری طور پر مسترد کر دیا گیا لیکن اس کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس پر بُری بات یہ ہوئی کہ اس ٹویٹ نے میڈیا میں ایک بوال کھڑا کر دیا اور دونوں اطراف کے لوگوں نے خوب ایک دوسرے کو رگڑنے کی کوشش کی ۔

اوپر سے اپوزیشن جماعتوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور آرمی کے نقطہ نظر کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ ان کا مقصد شریف حکومت کو مزید کمزور کرنا تھا اور یہ نہیں سوچا کہ اس کا سسٹم پر طویل المدتی لحاظ سے برا اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کی مہمات ہمارے ملک کی سیاست میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہی گیم اس سے قبل پی ایم ایل این بھی کھیلتی آئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی ٹینشن کی ذمہ دار حکومت خود بھی ہے۔ جب وزارت داخلہ نے اس نوٹیفیکیشن کے اجرا پر سوال اٹھایا تو حکومتی طبقہ کی کنفیوژن خود بخود ظاہر ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفیکیشن ان کی وزارت سے جاری کیا جانا تھا۔ اس سب سے شریف خاندان کا حکومت کرنے کا طریقہ کھل کر سامنے آ گیا۔ لیکن اہم مسئلہ یہ نہیں تھا کہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی اتھارٹی کس کے پاس تھی۔ کیس کے بارے میں نواز شریف کی پوری اپروچ ہی مسائل کا شکار تھی۔

کمیشن کے سویلین اور ملٹری ممبرز کے بیچ سنجیدہ مسائل سامنے آ چکے تھے۔ یہی بڑی وجہ تھی جس کی بنا پر رپورٹ کو فائنل کرنے میں اتنا عرصہ لگ گیا اور پھر بھی رپورٹ نامکمل ہی رہی۔ ملٹری لیڈرشپ کو کمیشن اور اس کی سفارشات پر تحفظات تھے۔ پچھلے کئی ماہ سے اختلافات ختم کرنے کے لیے بیک چینل کوششیں جاری تھیں۔ اس معاملے میں کچھ کمپرومائز بھی کر لیا گیا تھا جس کے مطابق طارق فاطمی کو برطرف کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اگرچہ اس کے لیے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں تھا۔ لیکن ملٹری نوٹیفیکیشن میں استعمال کیے گئے الفاظ سے خوش نہیں تھی کیونکہ نوٹیفیکیشن میں لکھا تھا کہ صرف پورٹ فولیو میں تبدیلی کی گئ ہے۔

کیا یہ اتنا بڑا ایشو تھا کہ آرمی لیڈرشپ اسے عوامی سطح پر مسترد کر دیتی ؟ اس کی بجائے بہتر یہ ہوتا کہ پوری رپورٹ کو پبلک کر دیا جاتا۔ اس بات میں وزن ہے کہ لیکس کے پورے معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ اس معاملے کو بہتر انتظامی طریقہ کار کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا اور ا س کے لیے کسی قسم کی جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ صاف ظاہر تھا کہ اس طرح کی ٹیم ایسا کوئی طریقہ نہیں ڈھونڈ سکتی جو تمام پارٹیوں کو قابل قبول ہو۔

یقینی طور پر نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی کے بارے میں اس بیانیہ کی وجہ سے آرمی لیڈر شپ پر بہت پریشر تھا۔ یہ معاملہ بھی اسوقت اٹھا جب نئے آرمی چیف کی آمد کا وقت قریب تھا۔ یہ ایک جذباتی معاملہ بن چکا تھا اس لیے اسے حل کرنے کے لیے زیادہ مہارت کی ضرورت تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سول ملٹری تعلقات کے بیچ بہت بڑا کانٹا بن چکا تھا۔ اپوزیشن نے بھی اختلافات کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ موجودہ سیاسی ٹاکرا آرمی کو موقع دے رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ بہادری سے پیش کرے۔ یہ بڑھتا ہوا سول ملٹری تنازعہ نہ صرف ملک کے لیے بلکہ اندرونی اور بیرونی سکیورٹی معاملات کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جمہوریت کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔ اس سے نہ صرف سیاسی سیٹ اپ کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے فوج کے ادارے کے امیج پر بھی برا اور منفی اثر پڑے گا۔ اس وقت سویلین حکومت اور فوجی قیادت کی یہ مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس معاملے کو فوری حل کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔ آئینی اتھارٹی کو اس طرح مسترد کر دینے کی روش فور ی طور پر بند ہونی چاہیے۔

https://www.dawn.com/news/1330703/tweeting-defiance

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *