پنجاب کی خاتون اول

سیما مصطفی

seema mustafa

نئی دہلی۔ میں پہلی بار عروسہ عالم سے کئی سال پہلے ملی جب وہ ساوتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کی ممبر کی حیثیت سے ملی جب یہ ایسوسی ایشن بھارت اور پاکستان کے بیچ امن کے قیام کی سنجیدہ کوشش میں مصروف تھی۔ سیفما نے جنوبی ایشیائی ممالک کے صحافیوں، سیاستد انوں کے لیے بہت سی تقریبات منعقد کی ہیں اور عروسہ عالم 'سیفما' کی اہم رکن تھی۔ سیفما تنظیم کی بنیاد پاکستانی صحافی امتیاز عالم نے رکھی تھی۔ وہ بہت دوستانہ، مہمان نواز اور اچھی خاتون تھیں اور بہت جلد مجھے معلوم ہوا کہ وہ خود مختار ہیں اور ان کے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک موسیقار ہے اور اس کا اپنا بینڈ بھی ہے۔ ہم اس موسیقار سے اسوقت ملے جب وہ ہمیں اور کچھ سینئر سیاستدانوں کو ایک کوچ میں راولپنڈی کا علاقہ دکھانے نکلے تھے۔

انہوں نے ایک کانگریس لیڈر کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ انہیں گوا بلا کر ان کے بینڈ کو اعزاز بخشیں گی۔ بعد میں ہمیں معلوم ہو ا کہ وہ گوا گئے تھے ۔ اس وقت عروسہ عالم بہت ہی پر جوش طریقے سے یہ اپیل کرنے لگیں کہ ان کے بیٹے کو بھارت جانے کا موقع دیا جائے کیونکہ وہ بھارت جانے کے بہت شوقین ہیں۔ عروسہ عالم اپنے آبا و اجداد کے بارے میں بتانے میں بہت صاف گوئی کا مظاہرہ کرتی تھیں اور اپنی عمر بھی کھل کر بتاتی تھیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ کس قدر جوان نظر آتی ہیں۔ وہ حقیقت میں اسوقت بھی خوبصورت اور جوان نظر آتی تھیں اور آج بھی اتنی ہی خوبصورت ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات پاکستان میڈیا میں جو گردش کر رہی تھی وہ یہ کہ  عروسہ عالم جنرل رانی کی بیٹی تھیں جو پاکستانی رہنما یحیی خان کی مسٹریس تھیں ۔

aroosa alam

جنرل رانی ،اقلیم اختر کے گھر پیدا ہوئی تھیں اور انہوں نے 60 کی دہائی میں اپنے آپ کو کوئین جنرل کہنا شروع کیا۔ وہ 1969 سے 1971 کے زمانہ میں بہت طاقتور خاتون کہلاتی تھیں اور پاکستانی میڈیا انہیں یحیی خان کی مسٹریس قرار دیتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل رانی بھی یحیی خان کے قریب ہوتی گئیں۔ ان کی شادی ایک پولیس آفیسر سے ہوئی تھی، ان کے چھ بچے تھے ۔ ایک دن ان کےخاوند نے نے کو برقعہ پہننے کا کہا۔ جواب میں جنرل رانی نے اپنا پورا لباس اتار کر اپنے شوہر کے سر پر دے مارا اور بچوں سمیت گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ تب سے وہ نائٹ کلب اور ڈانس پارٹیوں میں جانے لگیں اور اپنی بیویوں سے تنگ لوگوں کو خوشگوار لمحات فراہم کرتیں۔ تب یحیی خان بھی ان کے قریب آنے لگے اور انہیں جنرل رانی سے پیار ہو گیا ۔ وہ بعد میں پاکستان کے ملٹری ڈکٹیٹر بن گئے اور عالم ان کی ساتھی، اور مشیر بن گئیں۔

عروسہ عالم کی بھی شادی ہوئی اور پھر وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ شوہر سے علیحدگی اختیار ہو گئیں۔ پاکستان میں بہت سےصحافی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات ہیں ۔ عالم خود بھی اگوسٹا 90 بی سب مرین ڈیل پر تحقیقات کا بھی باقاعدہ اعتراف کرتی ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان کے نیول چیف منصور الحق کو 1997 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن جو بات سب کو معلوم ہے وہ یہ کہ سیفما کا حصہ بنتے ہی عروسہ کی تیزی سے مقبولیت بڑھنے لگی ہے اور اندورن سے ملٹری کو بھی کور کرتی رہیں۔ وہ اپنے ملک کے لوگوں سے بہت جڑی ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کے ساتھی انہیں ایک ماہر رپورٹر تسلیم نہیں کرتے تھے لیکن بہر حال انہیں بہت پسند کیا جاتا تھا۔ عالم کو بھارت اور بھارتی لوگوں میں بہت دلچسپی تھی اور وہ اکثر بھارت کے دورے کی باتیں کرتی تھیں۔

امرندر سنگھ کی ان سے ایک بار ملاقات ہوئی اور پھر تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا۔ اس دوران امرندر سنگھ شادی شدہ تھے اور ان کی بیوی پرینیت کور منموہن سنگھ حکومت کے دوران خارجہ امور کی وزیر بھی رہیں۔ تب تک ان کے خاوند کا عروسہ عالم کے ساتھ افئیر سب کے سامنے آ چکا تھا اور جوڑے کا کوئی بھی رکن اس طرح کی خبروں کو جھٹلا نہیں رہا تھا۔ عالم نے بھی اس افئیر کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ امرندر سنگھ کی بیوی اس بات سے پریشان تھیں اور عالم کو بھارت جانے کی اجازت تو ملی لیکن انہیں پنجاب کا ویزا نہیں دیا گیا۔

سنگھ اور عالم پچھلے دس سال سے چندھی گڑھ کا فکسچر بن چکے ہیں۔ اور اب پنجاب میں عالم امرندر سنگھ کی مہم چلا رہی ہیں اور اس مقصد کےلیے انہیں لوگوں کی تنقید کا بھی سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ امرندر سنگھ جو پنجاب کے وزیر اعلی ہیں اپنی نئی زندگی کے بارے میں بات کرنے سے گھبراتے ہیں وہاں عالم کانگریس لیڈر سے اپنے تعلقات کو چھپانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتیں۔ ان کا خاندان اکثر پنجاب جاتا ہے اور انہیں اکثر ایلیٹ لوگوں کے بیچ دیکھا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے بہت اطمینان سے یوگا اور امرندر سنگھ سے اپنے پیار کا اظہار کرتی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جب امرندر سنگھ کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی ہو رہی تھی تب انہیں واضح طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ انہوں نے بہت سے انٹرویوز دیے اور فوٹو گراف سیشن میں بھی حصہ لیا۔ اب جب بھارت اور پاکستان کے بیچ تعلقات میں دراڑ پڑ چکی ہے اس دوران بھی عالم کے لیے کسی قسم کی ویزا پابندیاں نہیں ہیں۔ وہ باقاعدگی سے پاکستان جاتی ہیں لیکن اب وہ بھارتی ریاست پنجاب کی خاتون اول ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا: یہ ایک اہم معاملہ ہے اور میں ایک مسلمان عورت ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ میرے ملک میں لوگ کیسے سوچتے ہیں۔ یہاں کچھ بنیاد پرست اور دہشت گرد لوگ بھی ہیں۔ پاکستان میں خواتین بہت مشکلات میں ہیں۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے بھارتی ناقدین کے بارے میں بات نہ کرنا مناسب سمجھا۔ جو رشتہ صرف عارضی طور پر قائم کیا گیا تھا وہ پچھلے 10 سال سے نہ صرف قائم ہے بلکہ اب عروسہ عالم پنجاب کی خاتون اول بھی بن چکی ہیں۔ وہ آج بھی امرندر سنگھ کے ساتھ ہیں جس طرح ان کی ماں یحیی خان کے ساتھ تھیں جب پاکستان زیادہ قدامت پسند ملک تھا ۔ عروسہ آج 21ویں صدی میں ایک بھارتی لیڈر کی مشیر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *