ٹوئیٹر کا یہ استعمال بالکل غلط ہے

اعجاز حیدر

ejaz haider

۲۹ اپریل بروز ہفتہ دن دو بجے ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک ٹویٹ نے میڈیا اور حکومتی سطح پر ہلچل مچا دی۔ ٹویٹ میں لکھا تھا: ڈان لیکس کے بارے میں جاری کیا گیا نوٹیفیکشن نامکمل ہےاور انکوائیری بورڈ کی سفارشات کے عین مطابق نہیں ہے۔ اس لیے یہ نوٹیفیکیشن مستردکیا جاتا ہے۔ یہ عام پیغام ایک لیٹر کے جواب میں دیا گیا تھا جو وزیر اعظم ہاوس کے پرنسپل سیکرٹری کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ اس آرڈر میں ڈان لیکس کے معاملہ میں انکوائری رپورٹ کے پیرا 18 کا حوالہ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ:

الف۔ یہ معاملہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کو ریفر کر دیا گیا ہے جو نہ صرف ڈان اخبار ، اس کے ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف ایکشن کی سفارشات مرتب کرے گی بلکہ نیشنل سکیورٹی اور اہم معاملات کے بارے میں رپورٹنگ کے لیے اصول و ضوابط بھی طے کرے گی۔

ب۔ راو تحسین جو وزارت اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر ہیں کو ای اینڈ ڈی رولز کے تحت عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

ج۔ طارق فاطمی جو خارجہ امور کے لیے وزیر اعظم کے سپیشل اسسٹنٹ ہیں کا پورٹ فولیو بھی نکال لیا گیا ہے۔

یہ لیٹر جو وزارت داخلہ، وازارت اطلاعات اور کیبنٹ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو جاری کیا گیا تھا کے اختتام میں لکھا تھا: متعلقہ وزارتیں اس معاملے میں مزید کسی بھی طرح کے اہم اقدامات کی مجاز ہیں۔ اب ہم کچھ اہم ایشوز کا جائزہ لیتے ہیں اور آغاز ٹویٹ سے ہی کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور تجزیہ نگار طبقہ میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ یہ ٹویٹ ۲ ستاروں والے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت نہیں ہے۔ آئی ایس پی آر اپنی طرف سے کوئی بھی بیان جاری نہیں کر سکتے۔ ہر چیز کو پوری طرح سے پرکھنے کے بعد چیف اور جنرل سٹاف اور زیادہ تر کیسز میں چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے اجازت کے بعد ہی آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان جاری کیا جاتا ہے۔ دوسری نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہےکہ میجر جنرل غفور کا یہ ٹویٹ ان کی ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ فوج جیسے ادارے کی ترجمانی تھی۔

دوسری چیز اس ٹویٹ کی اخلاقی نوعیت ہے۔یہاں دو معاملات توجہ چاہتے ہیں۔ پہلے کا تعلق وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کی سر عام ریجیکشن ہے جب کہ وزیر اعظم اس ریاست کے سب سے بڑے عہدے کا نام ہے ۔ دوسرا معاملہ اس مقصد کےلیے ٹویٹر کا استعمال ہے۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے آرمی ایسے معاملات کے لیے ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے جن کے لیے متبادل اور بہتر مکینزم موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک فورم کیبنٹ کمیٹی آف نیشنل سکیورٹی بھی ہے جہاں ہر طرح کے لوگ، موجود ہیں اور اس کی سربراہی وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے۔

دوسری آپشن یہ بھی ہے کہ آرمی چیف وزیر اعظم سے خود ملیں یا متعلقہ وزرا٫سے ملاقات کریں۔ ٹویٹر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صرف ۱۴۰ حروف پر مبنی پیغام میں آپ اپنے احساسات کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن اگر آرمی جیسا اہم ادارہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے لگے اور خاص طور پر دوسرے اداروں کو جواب بھی ٹویٹر کے ذریعے دینے لگے تو یہ ایک بہت خوفناک عمل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک مختصر بیان کا پلیٹ فارم ہے جس میں نہ تو عقل و فہم اور نہ ہی طنز و مزاح کو صحیح طریقے سےظاہر کیا جا سکتاہے۔ اس پلیٹ فارم کا استعمال آرمی جیسے ادارے کوغیرسنجیدہ یا سخت مزاج ہی قرار دلوا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جان بوجھ کر جارحانہ مزاج کا اظہار زیادہ موزوں ہے۔

یہاں ایک بہت بڑا طنز چھپا ہے۔ لیکن اس تک پہنچنے کےلیے ہمیں ڈان کے واقعہ کو شروع سے دہرانا پڑے گا۔ ڈان کی سٹوری میں لکھا گیا تھا کہ ایک اہم اجلاس میں سویلین حکومت نے ملٹری کو خبردار کیا ہے کہ دنیا اچھے اور برے طالبان میں فرق کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہے اور پاکستان کو ہر قسم کے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی۔ اس کے بعد سویلین حکومت نے ملٹری کو تمام گروپوں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔ آرمی نے اس خبر کے جواب میں سخت رد عمل کا اظہار کیا اور حکومت کو درخواست کی کہ اس خبر کو لیک کرنے والے اشخاص کا تعین کیا جائے اور ساتھ ہی اس کہانی کو بھی من گھڑت قرار دیا۔

البتہ آرمی نے یہ بھی کہا کہ اس خبر کے ذریعے نیشنل سکیورٹی کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور اس کہانی کے چھپنے میں ملوث تمام کرداروں کو سزا دی جائے۔ دوسرے الفاظ میں ڈان اخبار نے ایک من گھڑت خبر شائع کی اور پھر بھی نیشنل سکیورٹی کا بھی احترام نہیں کیا۔ اس میں یہ دکھایا گیا کہ سویلین حکومت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے لیکن آرمی ایسا نہیں چاہتی۔ یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ سویلین اور آرمی کے بیچ ایک فالٹ لائن موجود ہے۔ اس طرح کے حالات کو پیش کر کے نیشنل سکیورٹی کو عدم تحفظ کا شکار کیا گیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ لوگوں کو جھوٹی کہانی شائع کرنے پر سزا کی اپیل کی جا رہی ہے یا ایک صحیح خبر کو لیک کرنے پر جو اس قابل نہیں تھی کہ اسے شائع کیا جا سکے؟ اگر بات دوسری ہے یعنی خبر سچ ہے، تو یہ بلکل واضح ہے کہ خبر کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ چیز بھی واضح ہے کہ ملٹری اور سویلین حکومت کے بیچ ایک فالٹ لائن موجود ہے۔ اگر یہ معلوم ہو کہ کوئی فالٹ لائن موجود ہے تو یہ لازمی ہو جاتا ہے کہ آرمی کی طرف سے پیش کی گئی نیشنل سکیورٹی کی اصل تعریف پر ہی سوال اٹھائے جائیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ڈان نے اس کو کمپرومائز کرتے ہوئے سول ملٹری تعلقات کے بارے میں اختلافات کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ لیکن یہ ایک دوسرا موضوع ہے اور اس پر گفتگو کے لیے ہمیں دوسرے اہم معاملات کو بھی زیر بحث لانا ہوگا۔

یہاں موجود طنز کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ آئی ایس پی آر کا یہ ٹویٹ لاکھوں بار لائیک اور ری ٹویٹ کیا گیا جس سے سول ملٹری تعلقات میں فالٹ لائین کی موجودگی مزید واضح ہو جاتی ہے۔ دوسرے طریقے سے دیکھیں تو جہاں ڈان کو اس طرح کی غلط خبر شائع کرنے پر سزا ملنی چاہیے وہاں آرمی نے آئی ایس پی آر کے ذریعے اس خبر کی خود ہی تصدیق کر دی ہے۔

آرمی کا خیال ہے کہ انکوائری بورڈ نے یہ طے کیا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی ہے ، بورڈ نے ذمہ داران کا تعین بھی کیا تھا اور اس حوالے سے اپنی سفارشات بھی پیش کی تھیں۔ وزیر اعظم ہاوس کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں ان میں سے ایک بھی چیز کا اظہار دیکھنے کو نہیں ملا اور پیرا 18 کی طرف اشارہ کرنا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگوں کے سامنے رپورٹ یا پیرا 18 کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ دوسرے الفاظ میں وزیر اعظم ہاوس نے رپورٹ کو وائٹ واش کرنے کی کوشش کی ہے جو ناقابل قبول عمل ہے۔ اس کا تعلق وزیر اعظم کی ذات یا سویلین حکومت سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔ اس کے جواب میں میرا نقطہ نظر یہ ہے۔

الف۔ وزیر اعظم ہاوس اس ریاست کا سب سے بڑا ستون ہے۔ جب تک نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹایا نہیں جاتا تب تک وہ آئینی طور پر اس آفس کے مالک ہیں اور وزیر اعظم کے تمام اختیارات ان کے پاس رہیں گے۔

ب۔ آرمی کو یہ مان لینا چاہیے کہ ٹویٹر کو حکومت کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے لیے استعمال کرنا بلکل غلط اور غیر مناسب بات ہے۔ (امریکہ میں بھی صدر پر ٹویٹر کے استعمال کیوجہ سے سخت تنقید کی جارہی ہے اور ان کا مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے۔ )

ج۔ پی ایم او کو چاہیے کہ رپورٹ کو ریلیز کرے اور سابقہ تمام رپورٹس بھی جاری کرے اور اس سلسلہ کا آغاز حمود الرحمان کمشن رپورٹ سے کیا جائے۔

د۔ اس رپورٹ کو شائع کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھ سکیں کہ انکوائری بورڈ نے نیشنل سکیورٹی کی کیا تعریف کی ہے اور اس نے یہ کیسے ڈان رپورٹ کو نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔ کم سے کم اگر ہمیں اس کی تعریف یا بیان سے اطمینان نہ ہو تو ہم اسے عدالت لے جا سکتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ آرمی سے ریاست کہیں زیادہ اہم ہے اور نیشنل سکیورٹی کی تعریف سویلین گورنمنٹ کے ڈومین میں رہنی چاہیے۔ آئیے اس سب سے ایک اچھا نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش کریں اور رپورٹ کو عوام کے سامنے لائے جانے کا مطالبہ کریں تا کہ یا تو ہم اس رپورٹ سے اتفاق کریں یا اس میں بیان نیشنل سکیورٹی کی تعریف پر نظر ثانی کی درخواست دائر کریں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *