ہم نامراد اور ناکام کیوں رہ گئے؟

Pakistan1

ستر کی دہائی میں جب عرب کی دولت سے مالا مال ہوئے تو دنیا بھر سے محنت کش جو ق در جوق قافلوں کی صورت میں عرب ریاست کی طرف رواں دواں ہوئے پھر یہ سلسلہ نصف صدی تک جاری و ساری رہا ان محنت کشوں کی اکثریت کشمیریوں پاکستانیوں بنگلہ دیشی انڈیا ، مصر اور افریقی ممالک پر مشتمل تھی ، یورپی اور امریکن گوروں نے بھی اس گنگا میں خوب ہاتھ رنگے پھر کوئی پانچ سال رہا کوئی دس سال رہا حتی کہ تیس چالیس سال تک بھی یہ محنت کش اپنے بچوں کو روزی روٹی کے ساتھ اپنے اپنے ممالک کو قیمتی زر مبادلہ کما کر بھیجتے رہے ۔ جوانی میں پہنچنے والے یہ محنت کش سفید ریش بن کر لوٹتے رہے۔ اور بدلے میں انہیں ماہانہ اجرت کے ساتھ سالانہ بونس بھی حاصل کرتے رہے۔ اور وہاں کے قانون کے مطابق مستقل واپس آنے والوں کو اپنی ٹوٹل سروس کا فی سال کی ایک موجودہ تنخواہ کے حساب سے آجر کمپنیوں کی طرف سے ہر آجیر کو مہیا کر دیا جاتا رہا۔ پانچ دس سالوں کا یہ اکٹھا معاوضہ لے کر محنت کش اپنے اپنے ملکوں کو لوٹتے رہے۔ اور اپنے کاروبار بناتے سجاتے رہے۔ مزید کوئی پنشن یا بڑھاپے کا الاؤنس نہ دیا گیا۔ حتی کے واحد شرعی نظام کے حامل ملک سعودیہ میں بھی یہی نظام رائج چلا آتا رہا۔ شائد اسلامی معاشی نظام اور شریعت میں بھی خلافت راشدہ امویہ اور عباسیہ خلافت میں بھی آجر اور آجیر کے لئے یہی نظام رائج الوقت رہا۔ البتہ یورپی اور امریکی ممالک میں اس کے برعکس اٹھارہ بیس پچیس سال کی سروس کے حامل محنت کش کو ملازم کو فوجی اور سول کارکن کو اتنی مدت پوری کرنے کے بعد تاحیات ایک ماہانہ مخصوص پنشن کا نظام رہا۔ جس کی پیروی ہمارے پاکستان اور برصغیر کے دوسرے ممالک نے بھی کی اور آج تک وہی نظام جاری و ساری ہے۔ وہ بھی ایک مخصوص مدت مسلسل بیس اور پچیس سالوں کے بعد مگر قارئین عجب تو یہ ہوا کہ حال ہی میں ہماری آزاد ریاست آزاد کشمیر کی اسمبلی میں تمام حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کے لئے انکی پانچ سالہ خدمات پر تاحیات اک معقول پنشن کا بل پاس کر دیا گیا۔ علاوہ اسکے انکی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ ۔ تاحیات ،بجلی ،پٹرول،کک اور سیکیورٹی جیسی مراعات کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس کی پیش کش موجودہ آئی جی پولیس آزاد کشمیر کو بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ رنگنے کی پیشکش کی گئی جو کہ انہوں نے معذرت کے ساتھ واپس کر دی کہ میں حکومت آزاد کشمیر کا ملازم نہیں حکومت پاکستان کا ملازم ہوں۔ وہاں سے مجھے جو مراعات ملتی ہیں میرے لئے وہی کافی ہیں۔ علاوہ اسکے چند ممبران اسمبلی بھی جن میں سردار خالد ابراہیم بھی شامل ہیں۔ اس بندر بانٹ میں سراپا احتجاج بنے رہے۔ مگر عجب تو یہ بھی ہوا کہ ہمارے حکومتی اور اپوزیشن اراکین جو اکثر ساری مدت دست و گریبان ہوتے ہیں۔ دال انکی جوتوں میں بٹتی رہتی ہے۔ مگر اس ذاتی مفادی بل پر سب ایک سٹیج پر اگھٹے ہوگئے۔ شیرو شکر ہو گئے۔ ہمارے یہ نادار حکمران اور ممبران اس تا حیات پنشن اور مراعات کے کیونکر مستحق ہیں ۔ جبکہ ہمارے آزاد حکومت ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی بمشکل پوری کرتی ہے۔ اور وہ بھی صرف پانچ سالہ خدمات پر ایسی مراعات تو دنیا کے کسی خطے میں نہیں نہ عرب و افریقہ نہ یورپ امریکہ میں قارئین آزاد ریاست میں غریبوں کی اکثریت روز مرہ نان شبینہ کو ترس رہے ہیں۔ نادار یتیم بیوائیں اور دیگر مستحقین مستقل آمدن و پنشن کیا۔ صرف چند کو ڈیڑھ دوسو روپے پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ حتی کہ ماہانہ کروڑوں کی زکواۃ کی وصولی بھی ان کے اللوں تللوں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ آپ ہی بتائیں کیا صرف ایک حصہ آزاد ریاست متنازعہ کشمیری ریاست ایسی عیاشیوں کی متحمل ہو سکتی ہے ۔ کبھی نہیں۔ عوام انکی پہلے ہی پانچ سالہ عیاشیوں اور لوٹ مار سے ہی تنگ لاکھوں لگا کر کروڑوں کمانے سے تنگ ہیں۔ اوپر سے یہ نئی انکی تا حیات مراعات و عیاشیاں لا حول ولا قوۃ جبکہ ان کی کارکردگیاں صفر رہیں نصف صدی سفارتی نہ سیاسی اور نہ ہی معاشی کاوشوں میں بھی یہ صفر رہے ان کی کارکردگی پر نہ ہی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں روک ٹوک نہیں اربوں کے پروجیکٹ ہنوز نا مکمل۔ انہوں نے یہاں بھی باریاں لگا رکھی ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا اوپر سے پاکستانی حکمرانوں کی جی حضوری ایسے میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ اور آزاد ریاست کی تعمیر و ترقی ستر سالوں کی انکی نا اہلی اقتدار کی رسہ کشی لوٹ مار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خدا کے لئے پاکستانی مالیاتی اور سیکیورٹی ادارے اور ہماری عدالتیں ہمارے ان حکمرانوں پر بھی چیک اینڈ بیلنس ضرور رکھیں ان کی کارکردگی پر نظر ان کی شاہانہ ٹھاٹ باٹ پر نظر اور تمام چھوٹے بڑے تعمیر اتی پروجیکٹوں پر چیک اینڈ بیلنس ضروررکھیں۔ تاکہ کم از کم ہماری یہ چھوٹی سی آزاد ریاست دوسرے مقبوضہ حصوں کے لئے ایک مثالی ریاست بن کر ابھر ے ۔ ورنہ ستر سال تو گزر گئے مزید نصف صدی بھی ہم جوں کے توں ناکام ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے۔ یاد رکھیں بدیانتی ناانصافی کرپشن اور اقتدار پر ستی قوموں کے زوال کا باعث بنتی رہی ہیں۔ جس کا ہم پہلے ہی سے شکار ہیں۔ ریاست جموں کی تقسیم ایک بہت بڑے حصے پر مسلسل ہندو حکومت کا قبضہ اور بیس کیمپ کا یہ تقاضہ تھا کہ ہم اسے بطور ماڈل ، فلاحی اسلامی ریاست بناتے ۔ دو قومی نظریے اور شرعی نظام کی حامل ریاست کی ایک جھلک دنیا کو دکھلاتے ۔ قائد اعظم اور اقبال کا خواب سچا کر دکھاتے دنیا بھر کے سفارت کاروں کو وقتا فوقتا بلاتے اس پار اپنے بھائیوں پر ظلم ستم کی جھلک دکھلاتے مگر افسوس کہ ہم ان سب امور اور فرائیض میں بری طرح ناکام اور نا مراد رہے۔ جس کی اہم و جوع اقتدار پرستی بدیانتی نا انصافی اور کرپشن ہی ہے جس کی سزا اس پار ہمارے کشمیری بہن بھائی دوعشروں سے بھگت رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *