کشمیر اور ہماری خارجہ پالیسی

 مقصود انجم کمبوہ

maqsood anjum kamboh

سابق امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی ایجنسی را کا ہاتھ ہے اس نے کہا ہے کہ اس کے پاس اس بارے میں بعض ویڈیوزہیں جس میں را کی کاروائیوں کے چند ایک ٹھوس ثبوت ہیں مگر امریکی ترجمان نے اس انکشاف کو لغو اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور کچھ بے تکے دلائل دے کر اس انکشاف کے اوپر مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے یہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاکستان کو ہر روز ایک نیا سبق سکھانے کی کوشش میں رہتا ہے اور بھارت نے پاکستان کے دوٹکڑے کر کے یوں اپنی دشمنی کو سچ ثابت کیا ہے جب سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے بھارت نے دشمنی کا ہر حربہ آزمایا ہے کچھ نہ بن پڑے تو میڈیا کے ذریعے پاکستان کو طرح طرح کے الز امات دے کر بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے بھارتی میڈیا اپنے حکمرانوں سے بھی دشمنی میں آگے جارہا ہے دیکھا جائے تو اصل مسئلہ کشمیر ہے جو وہ ہڑپ کرنا چاہتا ہے مگر پاکستان اسے ایسا کرنے نہیں دے رہا ویسے بھی کشمیری بھارت کے ساتھ رہنے پر رضامند نہیں وہ آزادی چاہتے ہیں جو وہ دینا نہیں چاہتا اور کشمیر ی اپنے حق کے لئے گھر وں سے باہر نکل آئے ہیں چند برس قبل ہندوستان نے کشمیری علیحدگی پسندوں سے متعدد بار مذاکرات بھی کئے ہیں اور ان کو یقین دلایا تھا کہ کشمیر ایشو کو حل کر لیں گے مگر آج تک اس بارے میں جتنے بھی مذاکرات پاکستان کے ساتھ ہوئے وہ سب کے سب بے سود رہے کیونکہ بھارتی مکار ، عیار لیڈروں نے پاکستان اور کشمیری علیحدگی پسند لیڈروں سے ٹال مٹول سے کام لیا ہے وہ ہرگز کشمیر کو آزاد دیکھنا نہیں چاہتے بین الا قوامی پریشر پر پاکستان سے مذاکرات کے سلسلے بحال ہوتے ہیں جو کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے ہیں بھارتی قیادت اسلحہ کے زور پر کشمیر ی لیڈروں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کر ادیتا ہے کشمیریوں نے مسلح جدوجہد اس لئے ترک کردی تھی کہ بھارت امن کے ساتھ کشمیریوں کو آزادی سے ہمکنار کرے گا بھارتی حکمران کسی دوسرے ملک کو منصف ماننے پر بھی تیار نہ ہے امریکہ ، برطانیہ خود بھی ایسا کرنے پر تیار نہیں ہیں ورنہ یہ مسئلہ کبھی کا حل ہو گیا ہوتا ہماری خارجہ پالیسی بھی بہت کمزور واقع ہوئی ہے جو دنیا کو اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا سکتی حکمرانوں کو چاہئے تھا کہ اپنے دوست ممالک کو مجبور کرتے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لئے پاکستان سے تعاون کریں خاص طور پر پڑوسی ممالک اور عرب ممالک جن کے ساتھ ہماری تھوڑی بہت دوستی ہے ایران کو بھی ہم اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے جبکہ شاہِ ایران کے دور میں پاکستان کے ایران کے ساتھ گہرے مراسم تھے ترکی اور ایران نے 1965کی جنگ میں بہت زیادہ تعاون کیا اور ہم نے بھارت کے دانت کھٹے کئے ازاں بعد ہم ایران اور ترکی سے بہت دور ہوتے چلے گئے آج پھر وقت نے موقع دیا ہے کہ ایران اور ترکی سے دوستی کو فروغ دیا جائے اور انہیں کشمیر کا ز پر تعاون کے لئے زور دیا جائے یہ بد قسمتی ہے کہ مسلمان متحد نہیں ہو سکے جسکی وجہ سے مسئلہ کشمیر اور فلسطین جوں کا توں ہے دونوں کی آزادی کے لئے جنگیں بھی ہوچکی ہیں شام کی بعض گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کا آج بھی قبضہ ہے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے باعث مسلمانوں کو بے جا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے عرب اسرائیل جنگ کے بعد مصر کے صدر جنر ل ا نور سادات مرحوم نے اس وقت کے امریکی صدر مسٹر کارٹر سے علاقے واگذار کرانے کی بات کی تو اس نے کہا کہ اسرائیل کو ناراض نہیں کر سکتے وہ ہماری سیاسیات اور اقتصادیات پر بھاری ہے ہاں یہ کہ وہ اسرائیل کو کسی ٹھوس معاہدے کے لئے کہہ سکتے ہیں لہٰذا کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کے تحت مصر کے علاقے و اگذار ہوئے جبکہ شام کی قیادت نے عوامی دباؤ کے تحت ایسا نہیں کیا مصر ی بھی کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے حق میں نہیں تھے یہ فیصلہ جنرل سادات اور ان کے اہم ساتھیوں کا تھا جس کے تحت کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ وجود میں آیا ردِ عمل میں جنرل سادات کو گارڈ آف آنر کی تقریب کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ہماری سیاسی قیادت میں دم خم ہی نہیں کہ وہ امریکہ کو اس ایشو پر رام کرسکے امریکہ چاہے تو مسئلہ حل ہوجائے مگر اب وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا وہ بھارتی قیادت کو ناراض نہیں ہونے دے گاچاہے کشمیر آگ میں جل کر راکھ بھی ہوجائے برطانیہ کو بھی ہم سے کوئی مفاد نہیں جو وہ ہماری مدد کو تیار ہو جائے بلکہ اس نے بھی اپنی سرزمین پر ہمارے خلاف ہمارے ہی کالے ناگ پال رکھے ہیں جس کے باعث بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے اس ساری صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم تنہائی کا شکار ہیں جہاں ہمارے حکمرانوں کا ذاتی مفاد ہو تو قطری خط بھی مل جاتے ہیں رہائش کے لئے شاہی محل اور پروٹوکول بھی ملتا ہے مگر کشمیرکا زپر کسی کو استعمال نہیں کیا جاتا سعودی عرب ، مصر ، ایران ، عرب امارات اور دیگر مسلمان ممالک کو کشمیر کا ز پر بریفنگ دی جاتی تو شائد وہ موم ہو کر مسئلے کے حل کے لئے تیار ہو جاتے افسوس کہ ہمارا طرزِ عمل ہمیں تنہائی کا شکار کرتا جارہا ہے اور بھارت ہمیں اندر سے کھوکھلا کرنے پر تلا ہوا ہے دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے مگر کوئی ایک ملک بھی ہماری مدد کرنے پر قطعی تیار نہ ہے صاف ظاہر ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کھوکھلی بنیادوں پر چل رہی ہے خدارا سب لڑائیاں جھگڑے چھوڑ کر کشمیر کی آزادی اور دشمن کی ٹھکائی کے لئے متحد ہوجائیں بھارت ہماری سیاسی لڑائیوں پر بہت شاداں ہے وہ چاہتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نہ ہونے پائیں اور وہ اس وقت کامیاب ہے کہ ہماری لڑائی ہمیں کھائے جارہی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *