ڈان لیکس پرچین بھی چپ نہ رہ سکا!

15

کراچی ، بیجنگ ۔ پاکستان میں پاناما سکینڈل اور ڈان لیکس پر اٹھنے والے سیاسی طوفان سے چین لاتعلق نہیں اور یہ صورتحال اس کے لئے باعث تشویش ہے،سفارتی ذرائع کے مطابق سی پیک پروجیکٹ پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والا بیجنگ پاکستان میں نہ صرف سیاسی استحکام کا خواہشمند ہے بلکہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک مستحکم اور دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کا تسلسل بھی چاہتا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق اقتصادی کوریڈور پروجیکٹ پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات کے سبب چین پہلے ہی پریشان تھا جبکہ اب پاناما اور ڈان لیکس کے حوالے سے جو نئی سیاسی افراتفری پھیل رہی ہے اس پر مزید فکرمند ہے۔
ذرائع کے مطابق سی پیک پروجیکٹ پر پاکستان میں پائے جانے والے سیاسی اختلافات نے تحمل پر مبنی ڈپلومیسی کے لئے مشہور چین کو مجبور کردیاتھا کہ اسلام آباد میں اس کے سفارتخانے کو اس معاملے پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے ے متعلق بیان جاری کرنا پڑا۔ گزشتہ برس چینی سفارتخانے کے ترجمان نے پاکستانی سیاسی پارٹیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اختلافات دور کرکے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے سازگار ماحول پیدا کریں۔اس کے برعکس پاکستان میں سی پیک پر نہ صرف مختلف صوبوں اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلاف رائے پایا جارہا ہے، بلکہ میڈیا بھی تقسیم ہے اور اس کا ایک حصہ سی پیک کی حمایت اور دوسرا اس کے خلاف پراپیگنڈا نشر کرنے میں مصروف ہے۔ ذریعے کے مطابق چینی سفارتی حلقے اس صورتحال پر اپنی مایوسی چھپاتے نہیں، بلکہ اپنے پاکستانی ہم منصبوں اور تجزیہ کاروں کے ساتھ اپنی تشویش ڈسکس کرتے رہتے ہیں۔ سی پیک پر سیاسی اختلاف رائے پر پہلے سے پریشان چین کو اگرچہ پاناما کیس اور ڈان لیکس کے حوالے سے ملک میں جاری سیاسی افراتفری نے مزید فکر مند کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر چینی لیڈر شپ کے اعتماد کا اظہار تھا اور اب چین، پاکستان میں ایک مستحکم اور دو تہائی اکثریت رکھنے و الی حکومت کا تسلسل چاہتا ہے، تاکہ ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو، بیرونی سرمایہ کار کا اعتباد برقرار رہے۔ اس کے نتیجے میں سی پیک پروجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی کام کسی رکاوٹ کا شکار نہ ہوں اور اس دوران کسی قانون سازی کی ضرورت پڑے تو اس میں بھی دشواری نہ ہو:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *