توہین مذہب حملے میں 13 سالہ بچہ جاں بحق!

Toheen

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کے خلاف نکالے جانے والے جلوس نے تھانے پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس دوران مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ سے ایک بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔

یہ جلوس جمعرات کی دوپہر نکالا گیا تھا اور اس کے شرکا پولیس سے اس ملزم کو اان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جسے پولیس نے بدھ کو ایک شہری کی شکایت پر گرفتار کیا تھا۔ مقامی ایس پی ضیا مندوخیل کے مطابق دو روز قبل ملزم کے ساتھ کسی نے ایک مبینہ طور پر توہین آمیز تصویر شیئر کی تھی جو اس نے آگے ایک ایسے گروپ میں شیئر کر دی جس کے رکن کی درخواست پر اس کے خلاف توہین مذہب اور اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذہبی جماعتوں کی اپیل پر جمعرات کو اس معاملے پر شہر میں جلوس نکالا گیا اور بازار بند کروانے کے بعد جلوس کے شرکا نے تھانے کا گھیراؤ کر لیا۔حب

 

اس جلوس میں مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے اور انھوں نے تھانے کے باہر جمع ہو کر مطالبہ کیا کہ توہینِ مذہب کے مبینہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اسے خود سزا دے سکیں۔ ایس پی ضیا مندوخیل کے مطابق پولیس اور ایف سی کے حکام نے مظاہرین سے ابتدا میں مذاکرات کیے اور کچھ لوگوں کو لاک اپ بھی دکھایا تاکہ انھیں یقین ہو جائے کہ ملزم تھانے میں موجود نہیں بلکہ جیل میں ہے لیکن مشتعل افراد منتشر نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق بات چیت میں ناکامی کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی جس سے وہ مزید مشتعل ہو گئے اور دو بار تھانے پر حملے اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہجوم میں شامل بعض مظاہرین کے پاس اسلحہ بھی تھا جن کی فائرنگ سے ایک 13 سالہ بچہ قدرت اللہ ہلاک ہو گیا ہے۔حب

 

ہجوم کی جانب سے ملزم کو ان کے حوالے کیے جانے کے مطالبے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لسبیلہ کے ڈپٹی کمشنر مجیب قمبرانی کا کہنا تھا کہ 'مشتعل افراد ایسے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی۔' بقول ان کے 'یہ ایک غیر منظم ہجوم ہے جس میں مقامی تاجر اور شہری شامل ہیں، بظاہر کوئی تنظیم موجود نہیں۔'

مقامی صحافیوں کے مطابق مشتعل افراد کا مطالبہ ہے کہ علاقے میں ہندو برادری کا کاروبار بھی بند کیا جائے۔ یاد رہے کہ ضلع لسبیلہ میں ہندو برادری ایک بڑی تعداد میں آباد ہے اور ہندوؤں کا مقدس مقام ہنگلاج بھی یہاں ہی واقع ہے جہاں ہر سال منعقد ہونے والے میلے میں شرکت کے لیے ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *