ٹارزن، ٹائیگر اور صحافی

asif mehmood

یہ حرام زادہ بے غیرت صحافی ہے ۔۔۔۔ٹائیگر نے لہرا کر کہا گالیاں کیوں دے رہے ہو؟۔۔۔کسی راہگیر نے سوال کیا گالیں اس لیے دے رہا ہوں کہ یہ لفافہ صحافی ہے۔قائدکے خلاف بات کر رہا ہے یہ قائد کون ہے؟ تم نہیں جانتے۔تم قائد کو نہیں جانتے۔فٹے منہ تمہارا نام کیا ہے اس کا؟ نام میں کیا رکھا ہے۔وہ ہیرو ہے ہیرو۔سپر مین۔ٹارزن سمجھ لو رہتا کہاں ہے؟ گھر میں گھر کس نے دیا؟ بیوی نے بیوی کہاں ہے؟ طلاق دے دی بچے کہاں ہیں؟ بیوی کے ساتھ کھانا کہاں سے آتا ہے؟ نوکروں کے گھر سے خود کیا کرتا ہے؟ نیا پاکستان بنا رہا ہے ذریعہ آمدن کیا ہے؟ معلوم نہیں۔ تم کون ہو؟ میں ٹائیگر ہوں "بس یہی مسئلہ ہے" راہگیر نے کہا۔"تمہارا قائد رہتا بیوی کے گھر میں ہے،بیوی کو طلاق دے دی،بچے بیوی کو دے دیے کہ چلو پالو انہیں،ذریعہ آمدن معلوم نہیں لیکن اے ٹی ایم دو دو لیے پھرتا ہے۔لیکن تم لوگ ہو منہ اٹھا کر ہر تنقید کرنے والے کو حرام زادہ ، بے غیرت اور بکاؤ کہتے رہتے ہو ہے۔ تم ٹائیگر نہیں انسان ہو۔ہو سکے تو انسان بننے کی کوشش کر کے دیکھ لو۔کیا پتا کامیاب ہو جاؤ۔ہر کام نئے پاکستان کی طرح مشکل نہیں ہوتا"۔ ٹائیگر پھر بپھر گیا۔۔۔اس کی یہ حالت دیکھی تو راہگیر بھاگ گیا۔ ٹاءیگر ساری رات جھومتا رہا :........... جلسے اچ نچنے نوں دل کردا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *