’توہین مذہب‘، بلوچستان میں دکانیں بند ۔۔۔۔ سکیورٹی سخت !

12

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ایک ہندو شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد شہر میں مظاہروں کے بعد کشیدگی کے باعث جمعے کو ہندو برادری نے اپنی دکانیں اور کاروبار بند رکھے اور حکام نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

اس سے پہلے مقامی پولیس نے بتایا تھا کہ جمعرات کو ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کے خلاف نکالے جانے والے جلوس نے تھانے پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی اور اس دوران مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ سے ایک بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر مجیب الرحمن نے بتایا کہ حب میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر غیر معمولی سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں پولیس لیویز فوسرز گشت کر رہی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا صورتحال معمول پر ہے اور گذشتہ رات مذہبی جماعتوں اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے بعد یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ کوئی بھی قانون ہاتھ میں نہیں لے گا۔

حبپولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی جس سے وہ مزید مشتعل ہو گئے

پولیس نے ضمانت دی کہ گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر مجیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کی ہنگامہ آرائی کے الزام میں 20 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ہنگامہ آرائی کی ایف ائی آر بھی درج کی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر نے دعوی کیا کہ تمام کاروباری مراکز بشمول ہندو برادری کے کھلا ہے۔ تاہم مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ہندو برادری نے آج کاروبار بند رکھا ہے۔

یاد رہے کہ ضلع لسبیلہ میں ہندو برادری ایک بڑی تعداد میں آباد ہے اور ہندوؤں کا مقدس مقام ہنگلاج بھی یہاں ہی واقع ہے جہاں ہر سال منعقد ہونے والے میلے میں شرکت کے لیے ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *