اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل اربوں روپے کے فراڈ میں ملوث !

14

اسلام آباد ۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اہم شخصیات کے ساتھ فراڈ ہو گیا۔ اسلام آباد کا گرینڈ حیات ہوٹل سکینڈل قومی خزانے کے 25 ارب روپے نگل گیا۔ 2004ء میں سی ڈی اے نے فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لئے پلاٹ کی فروخت کا اشتہار دیا۔ اچانک جہاں دوسری شرائط بدلیں وہیں سی ڈی اے نے صرف 15 فیصد ادائیگی پر لیز ڈیڈ دستخط کر دی۔ بڑی کمپنیوں نے لیز میں دلچسپی لی لیکن لیز ٹیکسٹائل ملز کے جوائنٹ وینچر کو ملی اور 2007ء میں 47 منزلوں کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی۔ سول ایوی ایشن نے اعتراض کیا تو تعمیر 23 منزلوں تک محدود کر دی گئی۔ 240 اہم شخصیات نے گرینڈ حیات میں اپارٹمنٹس خریدے۔ اپارٹمنٹس خریدنے والوں میں عمران خان، جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک، سابق گورنر سٹیٹ بینک اشرف وتھرا، جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چودھری بھی شامل ہیں۔ تبدیل کی گئی شرائط میں 33 سالہ لیز، 120 دنوں میں ادائیگی اور صرف 6 منزلوں تک تعمیرات کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم 5 ماہ بعد شرائط تبدیل کر دی گئیں اور 99 سالہ لیز، 15 سالہ اقساط اور منزلوں کی تعداد 23 کر دی گئی۔ سی ڈی اے نے صرف 15 فیصد ادائیگی پر لیز ڈیڈ پر دستخط کردئیے۔ بی این پی کمپنی کی جانب سے سی ڈی اے کے ساتھ معاملات طے کرنے والے شخص عبدالحفیظ شیخ کو ہی چیف ایگزیکٹو بنایا گیا۔ ایف آئی اے نے اربوں کی زمین لیز کرنے کے سکینڈل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے عبدالحفیظ شیخ کو مرکزی جبکہ سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری سمیت تمام بورڈ ممبران کو ملزم نامزد کیا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *