جے آئی ٹی کا سربراہ کون ہوگا ، سپریم کورٹ نے اعلان کر دیا !

15

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ جے آئی ٹی میں نیب، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے ایک ایک افسر کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے سربراہ واجد ضیاء ایف آئی اے کے گریڈ 21 کے افسر ہیں۔ واجد ضیاء ایف آئی اے میں ڈائریکٹر اکنامک کرائم ونگ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ 2011ء میں حج کرپشن کیس کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ وائٹ کالر کرائمز کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور وہ اس سے قبل بھی متعدد پیچیدہ کیسز کی تحقیقات کر چکے ہیں۔

دیگر اراکین میں سٹیٹ بینک کے عامر عزیز، ایس ای سی پی کے بلال رسول، نیب کے عرفان نعیم منگی اور آئی ایس آئی و ملٹری انٹیلی جنس کے ایک ایک افسر کو شامل کیا گیا ہے جو 2 ماہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ فیصلے میں اٹھائے گئے پندرہ سوالوں کے جواب تلاش کرے گی۔

پانامہ بنچ اگلی سماعت 22 مئی کو کرے گا۔ 22 مئی کو سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو جے آئی ٹی اپنی ابتدائی تفتیشی رپورٹ پیش کرے گی۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو جے آئی ٹٰی کے ارکان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات بھی دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکرٹری داخلہ تمام انتظامات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کیلئے دو کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا جائے گا اور جے آئی ٹی کا سیکرٹریٹ جوڈیشل اکیڈمی میں قائم کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے بھانجے ہیں۔ میاں اظہر اور ان کے صاحبزادے پی ٹی آئی میں شامل ہیں:۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *