فن اور فنکار

Amir bin ali

روس سے تعلق رکھنے والامیرا دوست سرگئی شولاخوف باجابجاتا ہے ۔جازبینڈ کی روح یہ سازپاکستانی عوام کے لئے اجنبی نہیں کیونکہ ہمارے ہاں شادی،بیاہ کے موقع پر روایتی طورپر یہی جاز بینڈ بجایا جاتاہے۔انگریزکے نوآبادیاتی عہد کی یہ یادگاراب ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔سیکسوفون لکھتے ہوئے جھجک رہا ہوں کہ اس میں ایک واہیات سا اشارہ ملتا ہے۔سرگئی سیکسوفون بجانے کا ماہرہے اور یہی اس کا پیشہ بھی ہے ۔ایک مہنگے شراب خانے میں وہ ہرشب ہرآدھ گھنٹہ یاپھر ایک گھنٹہ کے بعد محفل کوگرمانے کے لئے پیانو کی سنگت پر10منٹ جاز کا یہ ساز بجاتاہے ۔طبعاًبڑاشرمیلا ہے۔حالانکہ اس کے گردوپیش کا ماحول خاصاکھلاڈھلالبرل ہے۔سرگئی سے جب پہلی ملاقات ہوئی توایک مشترکہ دوست نے میرا تعارف کرواتے ہوئے اسے بتایا کہ میں مصنف اورشاعر ہوں۔بعدازاں گاہے بگاہے ملاقات رہنے لگی۔ایک دن اس نے مجھ سے ایک فنکارانہ سوال کیایایوں کہیے کہ اپنا مسئلہ بیان کیا۔کہنے لگا کہ یار ایک بات بتاؤجب لوگ تمہیں شاعر کے طور پر پکارتے ہیںیاپھرتم اپنا تعارف بطورشاعر کرواتے ہوتوتمہیں کوئی جھجک یاشرم تونہیں آتی؟مجھے تو اپنا تعارف بطورموسیقار کرواتے ہوئے بے حد شرم محسوس ہوتی ہے۔
میں نے اپنے احساسات سے اسے آگاہ کیا مجھے تولگتاہے کہ شعروادب میری شناخت کا حصہ ہیں۔اس لئے مجھے توکوئی شرم وغیرہ نہیں آتی ۔سرگئی نے بتایا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگربطورموسیقارمیں لوگوں کوتعارف کرواتا ہوں تولگتاہے کہ یہ غیر سنجیدہ سی بات ہے ۔پورے سائبیریا میں سرگئی شولاخوف کے پائے کے چند ہی سیکسوفون بجانے والے ہوں گے۔اس کے باوجودوہ کیوں شرماتا ہے؟میں نے اس پر بہت سوچا۔یہ مسئلہ صرف سرگئی کانہیں ہے پوری دنیا میں بے شمار فنکار اپنا تعارف اپنے فن کے حوالے سے کرواتے ہوئے شرماتے ہیں۔میں بہت سارے ادیبوں کوجانتاہوں جوکہ بہت اعلیٰ پائے کے شاعربھی ہیں۔مگرانہوں نے اپناکلام کبھی بھی شائع نہیں کروایا۔میری نظرمیں اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ فنکارخود کو چھوٹاسمجھتا ہواورفن کو بڑایاپھردوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی ذات اور شخصیت کو بڑاسمجھتاہومگر فن کو چھوٹااور ناقابلِ تکریم سمجھتاہوں،جیسے غالبؔ نے کہا کہ

سو پشت سے ہے پیشہ آباء سپہ گری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے

بہت سال پہلے سردیوں کے موسم میں اپنے آبائی شہرمیں مجھے اپنے گھرمنعقد ہونے والی یک شامِ غزل یاد آگئی۔اللہ بخشے مشہور گلوکارپرویز مہدی لاہور سے آئے تھے۔محفل جوبن پر تھی۔اس عالم میں کلاسیقی موسیقی کے ایک مقامی سریلے گویے منظورجھلاسے ہم لوگوں نے پرویزمہدی کی اجازت سے غزل سننے کی فرمائش کی،پرویزمہدی نے مائیک ان کے آگے کردیا۔مگرمنظورجھلانے گانے سے انکار کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ وہیں بیٹھوں گاجہاں پ بیٹھے ہیں،پرویز مہدی بھی بڑی مرنجاں مرنج شخصیت تھے،فوراً جھجکے بغیراٹھے اور جگہ خالی کردی،بلکہ اپنا باجا بھی استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔غزل سننے کے بعد سوروپیہ بھی منظورجھلاّ کوبطورانعام بھی عطاکیا۔کہنے کا مقصدیہ تھا کہ میرے شہر کا یہ فنکاراپنے فن پرشرمندہ نہیں تھا۔اور نہ ہی فن موسیقی کو چھوٹاسمجھتاتھا۔میری نظرمیں پختہ اور بڑافنکار کبھی بھی اپنے ہنر کوناپختہ اور کم درجہ نہیں سمجھتا،البتہ اس میں کئی ارتقائی منازل آتی ہیں۔بعض صورتوں میں فنکارتوبڑے اچھے ہوتے ہیں مگر وہ ذانی طور پرارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں اور خود شناسی کے عہد سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *