اہلیت

شہزاد نیامت

shehzad niamat

رات کا پچھلا پہر ہر طرف موت کی سی خاموشی،ہر کوئی اپنے مستقبل سے بے خبرہو کر نیند جیسی نعمت سے لُطف اندوز ہور ہا تھا۔لیکن کوئی تھا جو رات کی اس تاریکی اور تاروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں اپنے اللہ سے اپنے مستقبل کے سنور جانے کیلئے مناجات کر رہا تھا۔آنکھوں سے مسلسل گرتے ہوئے آنسواور کپکپاتے ہوئے ہونٹ زبان کی لڑکھڑاہٹ اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور یہ سب کچھ کئی سالوں سے لیکن وقفے وقفے سے ہو رہا تھا۔اس کے باجود ناکامیوں کی ایک لمبی فہرست اور مایوسیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔
بے شک اللہ تعالیٰ ہر کسی کی سنتا ہے ،لیکن ہر کسی کو چن نہیں لیتا،اللہ کسی کو مفت ہی میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے نہیں نواز دیتا۔اس کیلئے آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔اپنے اندر قابلیت اور اہلیت پیدا کرنی پڑتی ہے۔صرف دعاؤں کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوا جا سکتا۔اور اگر کامیابی مل بھی جائے تو اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ کامیابی بھی زیادہ دیر نہیں رہتی۔عجیب بات ہے ہم لوگ صرف دعاؤں سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ہم زرا بھی نہیں سوچتے کہ جس چیز کو جس مقام کو ہم حاصل کرنے کیلئے رو رو کر اللہ سے دعائیں کر رہے ہیں،ہمارے اندر اس چیز اور اس مقام کو حاصل کرنے کی قابلیت اور اہلیت بھی ہے کہ نہیں۔اور اگر اللہ ہمیں وہ مقام اور مرتبہ دے بھی دے تو کیا ہمارے اندر اتنی اہلیت ہے کہ ہم اس مقام و مرتبہ کو قائم رکھ سکیں۔ہم لوگ کامیاب بزنس مین بننے کی دن رات دعائیں مانگتے ہیں۔لیکن ایک کامیاب بزنس مین کی اہلیت اپنے اندر پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں کرتے ۔ہم ایک کامیاب سیاست دان بننا چاہتے ہیں،لیکن ہم یہ نہیں سیکھنا چاہتے کہ ایک کامیاب سیاست دان کا طرز سیاست کیا ہے؟انداز گفتگو کیا ہے؟ رکھ رکھاؤ کیا ہے؟ ہم نے سیاست کو ایک گالی بنا کے رکھ دیا ہے۔ہمارے پاس ایک بھی عالمی سطح کا سیاست دان نہیں ہے۔کیا ہمارے سیاست دانوں میں سے کسی ایک میں بھی کامیاب سیاست دان کی اہلیت ہے؟
ہم لوگ دعائیں مانگ مانگ کے تھک گئے ہیں کہ یا اللہ مسلم اُمہّ میں اتحاد پیدافرما،اسے دنیا کے ظلم و ستم سے بچا،اور پھر مسلمانوں کو دنیا کی حکمرانی عطا فرما۔دعاؤں کا سلسلہ ہے کہ تھمتا ہی نہیں ہے۔لیکن اس کے برعکس اگر ہم اپنی طرف نظر دوڑائیں تو کیا ہمارے اندر اتنی قابلیت اور اہلیت ہے کہ ہم دنیا کی بھاگ دوڑ سنبھال سکیں؟دنیا کو اپنی مرضی سے چلا سکیں؟دنیا میں صرف ہمارا حکم چلتا ہو؟ہمارے پاس صرف دعائیں ہیں اور خواہشات۔ہم اپنے ایک گھر ،ایک شہر اور ایک ملک میں معاشی استحکام ،امن و امان اور انصاف پیدا نہیں کر سکتے تو دنیا پہ حکمرانی کے خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ہم اپنی اندر اتنی قابلیت اور اہلیت پیدا کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔
تاریخ عالم نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا جب مسلمان مسجد نبوی کی کچی دیواروں کے سائے میں بیٹھ کر اُس وقت کے سپر پاور ایران اور روم کی تقدیر کا فیصلہ کر رہے تھے۔عجیب منظر تھاکھجور کے تنوں کا ستون، اس کے پتوں کی چھت اور کچی دیواریں۔ فیصلہ ہور ہا ہے روم اور ایران کو کب اور کیسے فتح کیا جائے؟
دنیا پر حکمرانی کے اللہ نے کچھ اصول و قوانین بنائے ہیں اور جو بھی قوم ان اصولوں پہ پورا ترتی ہے،دنیا کی حکمرانی اُس کو سونپ دی جاتی ہے اور جیسے ہی وہ اُن اصولوں سے پیچھے ہٹتی ہے اُن سے یہ قیادت بھی چھین لی جاتی ہے۔اُس وقت مسلمانوں نے اپنی اہلیت اور قابلیت ثابت کر دی تھی،اس لیے اُس وقت کی کوئی بھی سپر پاور یا قوم مسلمانوں کے سامنے ٹِک نہ سکی اور جیسے ہی مسلمانوں نے اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں سے رو گردانی کی اُن سے یہ قیادت چھین لی گئی۔
رات کے اندھیروں میں دعائیں مانگنے کے ساتھ ساتھ دن کی روشنی میں اُس مقام کیلئے اپنے اندر قابلیت اور اہلیت پیدا کرنے کیلئے بھی تیاری کرنی چاہیے۔ اللہ کسی کی دعائیں سُن کر نواز نہیں دیتااِس کے اندر اہلیت بھی دیکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔’’تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *