دنیا کی مہنگی ترین کاریں بنانے والا پاکستانی

کرس کارک

chris

آپ ہر دوسرے دن کسی جادو گر سے نہیں ملا کرتے۔ ایسا شخص بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جو ہوا سے خوبصورت چیزیں بنا سکتا ہو۔ لیکن پنڈی کے علاقے میں ایک ایسا شخص موجود ہے جس کی صلاحیتیں بہت قابل تعریف اور حیران کن ہیں ۔ اس ماہر کا نام ابراہیم ہے۔ وہ ٹوپی میں سے خرگوش نہیں بناتے۔ نہ ہی وہ لوگوں کو مار کر زندہ کرتے ہیں ۔ وہ کاریں بناتے ہیں۔ اس شخص کی بنائی کاریں عام کاریں بھی نہیں ہیں۔ وہ پرانی کاروں کا کام نہیں کرتے۔ ایسی کاریں جو 1909 میں انگلینڈ میں پہلی بار مورگین کار کے نام سے متعارف کروائی گئی تھیں۔ یہ کاریں فرنٹ انجن تھیں اور تین پہیوں پر چلتی تھیں۔ وہ کاریں آج بھی موجود ہیں اور مورگن موٹر کمپنی اب بھی بہت اچھا کاروبار کر رہی ہے۔ مسٹر ابراہیم کی طرف سے اس کمپنی کے کاروبار کو کوئی خطرہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ ابھی سال میں صرف 4.5 یونٹ سالانہ بنا رہے ہیں۔

وہ یہ دعوی نہیں کرتے کہ ان کی کاریں مورگن کمپنی کی کاروں سے بہتر ہیں۔ ابراہیم چار پہیوں والی کار بناتے ہیں لیکن ان دونوں کمپنیوں کی طرف سے بنائی گئی کاروں میں مماثلت ضرور ہے۔ ابراہیم اپنی کار میں1300 کی بجائے 660 سی سی سوزوکی انجن استعمال کرتے ہیں اور یہ کار موٹر سائیکل کے پہیوں پر چلتی ہے ۔ اس میں Fiat ٹریکٹر کی ہیڈ لائٹس لگائی جاتی ہیں اور ایک لیٹر میں یہ کار 17 کلو میٹر چلتی ہے۔ اس کار کی قیمت 10000 ڈالر تک ہے لیکن اس کی کلاس بہت ہی اچھی ہے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ بھی بہت خاص ہے۔ ورک شاپ میں صرف چند افراد کام کرتے ہیں جنہیں ابراہیم انجینیرز کہتے ہیں۔

یہ سب لوگ مکینک کی حیثیت سے جانے جا سکتے ہیں اور بہت جلد اس ٹیم میں ایک فیمیل انجینیر بھی شامل ہونے والی ہے۔ یہ پوری ٹیم اپنے جادو گر کے ساتھ مل کر اس جادوئی تخلیق میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ میں جب اس ورکشاپ میں موجود تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس شاپ پر آ دھمکی۔ مجھے بتایا گیا کہ جیسے ہی وہ نوجوان خاتون اپنی تعلیم مکمل کریں گی انہیں اس ورک شاپ میں تربیت دی جائے گی۔ یہ جان کر مسٹر میجک فنگر کے بارے میں میری رائے اور بھی مثبت ہو گئی۔ شاپ کے اندر دو مورگن کاریں موجود تھیں۔

ایک لاہور سے تعلق رکھنے والے شخص کی تھی اور دوسری کار پر ابھی کام جاری تھا۔ لیکن ان کا حقیقی خواب وہ کار تھی جو پیچھے کھڑی تھی۔ یہ کار دنیا کی سب سے مہنگی کار یعنی بوگاٹی نامی کار جیسی تھی۔ بوگاٹی کار کو بوگاٹی رائل کا نام دیا جاتا ہے اور ابھی تک صرف سات کاریں بنائی گئی ہیں۔ بوگاٹی کی شکل کی اس ورکشاپ میں پہلی کار تیار کی جا رہی ہے۔ اصل بوگاٹی کار بہت زیادہ مہنگی تھی ۔یورپ کے شاہی خاندانوں کے لیے بھی یہ کار بہت مہنگی ثابت ہو رہی تھی۔ مسٹر ابراہیم نے اس کار کی جو کاپی بنائی ہے وہ 2 وی 4 ہے اور اس کی تکمیل میں ابھی کچھ سال کا وقت باقی ہے۔

اس دوکان پر آنے والے گاہکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر میں یہ اندازہ لگا سکتا ہوں کہ ایک دن یہ کار پنڈی کی سڑکوں پر دوڑتی دکھائی دے گی۔ لیکن اس غربت کے مارے ملک میں اس طرز کی مہنگی کار کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ پاکستان کے لیے سب سے بہترین چیز واقع ہو گی۔ میں نے ابراہیم کے مائیکرو فاکس مورگین کا ذکر اس لیے کیا کہ عوام کو یہ بتا سکوں کہ پاکستان میں ایک بہت بڑی کا ر انڈسٹری پنپ رہی ہے۔ جس انڈسٹری نے 1914 ماڈل رولز رائس کو بحال کیا اور جو اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل کے ہال میں پل رہی ہے۔ اس کار کے ساتھ کھڑے ہو کر سیلفی لینا بہت ہی اچھا لمحہ ہو سکتا ہے۔

جس انڈسٹری کو ونٹیج کار کلب آف پاکستان کی مدد سے قائم کیا جا رہا ہے اور اس میں کچھ جذباتی اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کی مد بھی حاصل ہے کی وہ وجہ سے بہت جلد ووکس ویگن بیٹل جیسی گاڑیاں اس ملک کی سڑکوں پر موجود دکھائی دیں گی۔نئے سرے سے بنائی گئی v w combi کو حال ہی میں 'چلے تھے ساتھ ' نامی ایک سلور سکرین میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک اور combi کچھ عرصہ قبل بہاولپور میں دیکھی گئی تھی۔ بہاولپور میں 1939 ماڈل فورڈ v 80 سٹیشن ویگن کو بھی میوزیم کے سامنے موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو ہیڈ لائن میں جگہ نہیں دی جاتی۔ لیکن کم از کم اسے خاموشی سے پہچان حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ میڈ ان پاکستان؟ یہ دیکھ کر ہم سب کا دل فخر سے جھوم اٹھتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *