ریاست کے راز

ڈان ایڈیٹوریل 

Image result for dawn news

مئی میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے آپریشن کو 6 سال گزر چکے ہیں لیکن مریم نواز نے سینہ ٹھوک کر یہ بیان دیا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو کسی صورت پبلک نہیں کیا جائے گا۔ مریم اورنگزیب نے یہ تجویز دی کہ مستقبل میں کسی بھی وقت اس رپورٹ کو پبلک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ اس طرح کی اہم رپورٹ کو پبلک کرنے سے قبل بہت زیادہ سوچ بچار کرنی ہو گی۔ وزیر کے بیانات ان کے سرکاری ایجنڈے کی ترجمانی کرتے ہیں اور یہ چیز بہت افسوس ناک ہے۔ ابیٹ آباد معاملے میں 2 اہم سوالات ہیں۔

پہلا یہ کہ دنیا کا سب سے زیادہ مشہور دہشت گرد اور القاعدہ کا لیڈر کیسے اتنا عرصہ ایبٹ آباد میں موجود رہا اور ہماری ایجنسیوں کو خبر تک نہ ہوئی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ امریکی ملٹری پاکستان میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ کیسے داخل ہوئی اور کیسے ہمارے ملک میں آپریشن کرنے کے بعد کچھ ہی گھنٹوں میں واپس لوٹ گئی جب کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو بھنک تک نہ ہوئی؟ ان دو بنیادی سوالوں کے ساتھ ایک تیسرےسوال کا اضافہ ضروری ہے۔ کیا بن لادن کی ایبٹ آباد موجودگی اور ان کو ڈھونڈ نہ سکنے پر کسی سکیورٹی ادارے کے عہدیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟

جب تک پہلے دو سوالوں کے جواب نہیں ملتے ، جب کہ یہ جواب ایبٹ آباد کمیش کی رپورٹ میں موجود ہے، تب تک اس ملک میں احتساب کا عمل ناممکن ہے۔ اس چیز میں نیشنل سکیورٹی کا خطرہ موجود ہے۔ اگر ریاست اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں ہے تو ہم پاکستانی شہریوں کی زندگی کو کیسے محفوظ تصور کر سکتے ہیں؟ ریاست جب یہ بتانے پر راضی نہ ہو کہ کیا غلط ہوا، کس کی غلطی تھی، ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی پر تیار نہ ہو اور وضاحت نہ کر پائے کہ اس سارے معاملے کے پیچھے کون تھا؟

امریکہ میں 9 ستمبر کو جو واقعہ پیش آیا اس پر ایک رپورٹ تیار کی گئی جسے نائن الیون رپورٹ کا نام دیا گیا ۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا کہ کیسے حملہ ہوا اور اداروں کی ناکامی کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور ایک شعبہ بھی قائم کیا گیا جسے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کا نام دیا گیا۔ 15 سال اور 6 ماہ بعد اب تک امریکہ میں ایسا کوئی اور حملہ نہیں ہوا جو اس قدر تباہ کن ثابت ہو۔ کیا کوئی پاکستان شہری یا آبزور یہ دعوی کر سکتا ہے کہ پاکستان میں اب 2 مئی جیسا کوئی دوسرا واقعہ پیش نہیں آئے گا؟ مسئلہ انسٹیٹیوشنل کلچر ، مزاحمت اور احتساب کا ہے۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سے لے کر سلالہ اٹیک تک ایک راز داری کا معاملہ برتا گیا ہے۔ اگر پاکستان مضبوط ادارے چاہتا ہے اور ضروری ہے کہ ہم احتساب کا عمل شروع کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *