بریسٹ کینسر کا پتا لگانےکے لیے حیرت انگیز ایجاد

breast

جولین رییوز کینٹو جن کی عمر 18 سال ہے نے ایسا برا بنایا ہے جو بریسٹ کینسر کو ابتدائی مراحل میں ہی سامنے لانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایوا نامی برا جو جولین اور ان کے تین دوستوں نے مل کر بنایا ہے اس وقت پروٹوٹائپ سٹیج پر ہے۔ انہوں نے اتنی رقم جمع کر لی ہے کہ اس برا کا ٹیسٹ شروع کر سکیں اور اسی ہفتہ انہوں نے گلوبل سٹوڈینٹ انٹر پرینر ایوارڈ میں سب سے بڑا ایوارڈ جیتا ہے۔ ان کی کمپنی جسے Higia Technologies کا نام دیا گیا ہے نے دنیا بھر کے انٹر پرینر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 20000 ڈالر کا انعام جیتا ہے۔

ایک کینسر ڈیٹیکٹنگ برا کیسے کام کرتا ہے؟

کینسر ٹیومر کی وجہ سے جلد میں مختلف ٹمپریچر واقع ہوتا ہے جس کی وجہ خون کے بہاو میں اضافہ ہے۔ ایوا برا میں موجود بایو سینسرز ٹمپریچر کو ماپنے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں اور اس برا کے استعمال کرنے والے کو ناگہانی تبدیلیوں سے آگاہ رکھتے ہیں۔ خواتین اس برا کو ہفتہ میں ایک بار ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ پہنیں گی اور اپنے باڈی ٹمپریچر کا اندازہ کر سکیں گی۔

پچھلے سال ایک انٹرویو کے دوران جولین کا کہنا تھا کہ برا کے اندر سینسر لگانے کا مطلب یہ ہے بریسٹ ہر وقت ایک ہی پوزیشن میں موجود رہیں۔کیا کینسر کو ڈیٹیکٹ کرنے والا یہ برا واقعی اپنا اثر دکھاتا ہے؟ابھی تک یہ برا ابتدائی مراحل میں ہے۔ ابھی اس کا مکمل ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ ابھی کینسر ماہرین اس کو طبعی ٹرائل سے گزاریں گے اور اس کے کینسر کی تشخیص کے لیے استعمال کرنے کی سفارش کریں گے۔

اینا پرمن جن کا تعلق انگلینڈ کے کینسر ریسرچ شعبہ سے ہے نے بی بی سی کو بتایا: ہم جانتے ہیں کہ ٹیومر کا خون کی نالیوں کا سسٹم غیر معمولی ہوتا ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بڑھتا ہوا خون کا بہاو لازمی طور پر کینسر کی علامت نہیں ہوتا۔ اس وقت کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ اس برا سے ٹیومر کو ڈیٹیکٹ کیا جا سکتا ہے اور خواتین کے لیے یہ بہتر نہیں ہو گا کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں جسے ابھی صحیح طریقے سے ٹیسٹ نہ کیا گیا ہو۔ جولین جیسے نوجوانوں کو سائنس کے شعبہ میں دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے اور اس سے ہم کینسر کی تشخیص کے مراحل کو پہنچاننے کے لیے نئے خیالات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن سائنس کا ایک اہم حصہ ہر چیز کو بہترین طریقے سے ٹیسٹ کرنا بھی ہے تا کہ معلوم ہو کہ نئی ایجادات واقعی مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

بریسٹ کینسر کی ڈیٹکشن کے لیے فی الحال کیا طریقے اختیار کیے جائیں؟

اپنے جسم پر نظر ڈالیے۔ یہ مشورہ نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہیں۔ بریسٹ کینسر کے ابتدائی علامات میں یہ چیزیں شامل ہیں:

الف۔ چیسٹ یا بغل میں چھالے اور گلٹی کی موجودگی

ب۔ بریسٹ کے سائز، شیپ یا حساسیت میں تبدیلی

ج۔ بریسٹ سے دودھ کے علاوہ کسی قسم کے مادہ کا اخراج

د۔ چھاتی میں درد

اس کی مزید علامات کے بارے میں جاننے کےلیے یہاں کلک کریں اور ان میں سے کوئی بھی چیز محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

مس پرمن کا کہنا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کا وقت پر معلوم ہو جائے تو اس بیماری پر قابو پانا بہت آسان ہو جائے گا ۔ ہم عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر انہیں جس کے اس حصے پر کوئی چیز غیر معمولی لگے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

جولین نے یہ برا کیوں ایجاد کیا؟

ان کی اس پراجیکٹ میں ذاتی دلچسپی تھی اور یہ تب سے ہے جب ان کی عمر 13 سال تھی۔ ان کی ماں بریسٹ کینسر کا شکار ہوتے ہوتے بچی تھیں۔ اگر وقت پر معلوم نہ ہو جاتا تو وہ کب کی ہمت ہار جاتی۔

ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے جسم پر موجود چھالے موجود ہیں وہ کینسر کے نہیں ہیں لیکن ڈاکٹر غلط تھا۔ چھ ماہ بعد ایک میموگرافی کے بعد معلوم ہوا کہ وہ چھالے کینسر کے تھے۔ نتیجتا ان کے دونوں بریسٹ جسم سے علیحدہ کر دیے گئے۔

اس بیماری اور اس کا پتہ لگانے کے عمل پر تحقیق کرنے کے بعد جولین نے اپنا آئیڈیا پیش کیا۔ انہوں نے ایک ڈاکیومنٹ فائل کی، اپنے دوستوں کی مدد سے ایک بزنس قائم کیا اور ایک ایسی پراڈکٹ پر کام شروع کیا جو ان کے مطابق اگلے ایک سال میں مارکیٹ میں موجود ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *