ایک کپڑا جس نے اس کی آزادی چھین لی

فاطمہ رضا

یہ ہوا میں حرکت کرتے ہوئے اڑتا دکھائی دیتا ہے

میرے چہرے، ناک اور ٹھوڑی کو چھپاتا ہے

میں اسے ایک جگہ مقفل رکھنے کےلیے کبھی اسے کھینچتی ہوں اور کبھی گھماتی ہوں

اس کاخوشگوار ٹچ اور گرم جوش لپٹنا

میرے والد کی عزت اور مقبولیت کا ضامن ہے

اگرچہ کبھی یہ بہت گرم ہو جاتا ہے اور

لو کے جلتے ہوئے یہ میری مشکلات میں اضافہ کرتا ہے

لیکن میں کسی صورت اسے اتار نہیں سکتی۔

اگر میں اتاروں کو درندوں کو اپنی طرف مدعو کروں گی

میرے خوف، خواہشات، خوشیاں اور جلتی ہوئی تمنائیں

دنیا کے سامنے عیاں ہو جائیں گی

وہ مجھے پکڑ لیں گے

اور میں کبھی آزاد نہیں ہو پاوں گی۔

اس میں بہت سے سوراخ تھے جن میں سے روشنی رِس رِس کر اندر آسکتی تھی اور کچھ آوازیں بھی۔ اس کی آنکھیں اس روشنی سے واقف ہو چکی تھیں۔ برقعے کے دھاگے ان کی آنکھوں کے سامنے حائل ہو کر ان کو آس پاس کی خوبصورتی کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم کر رہے تھے۔ بے صبری سے برقعہ پہنتے ہوئے وہ سوچنے لگی: یہ بلکل کچن کے گٹر کے کور جیسا ہے۔ ان کے جسم پر موجود برقعہ ان کی جسامت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔ یہ ان کے جسم پر ایسے پھیلا ہوا تھا جیسے کسی تمبو سے ایک چھوٹی جھونپڑی کو محفوظ کیا گیا ہو اور اس ٹینٹ کے مختلف حصے تیز ہوا سے پھڑ پھڑا رہے ہوں۔ اس نے ٹٹولتے ہوئے برقعےکا ایک سرا پکڑا اور اپنے سر پر ٹکانے کی کوشش کی۔ اب وہ آہستہ سے سیٹرھیوں سے اترنے لگی۔

انکل شاہی کا گھر زیادہ دور نہیں ہے۔ میں اب بھی وہاں جا سکتی ہوں۔ اس نے گلی کے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔ اب برقعے میں سے آنے والی روشنی کم ہو رہی تھی۔ یہ منظر اسے بہت اچھا لگتا تھا جب دن ڈھل رہا ہو اور روشنی کم ہو رہی ہو۔ اس نے سوچا کہ میں یہ خیال کر لیتی ہوں کہ اب رات نہیں بلکہ بارش ہونے والی ہے۔ کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی کو اہمیت دیے بغیر اسے گھسیٹتے ہوئے چلتی رہیں۔ اپنے انکل کے گھر پہنچتے ہی اس کا برقعہ کسی چیز میں اٹک گیا اور وہ اچانک نیچے گر گئی۔ نیچے پڑی ہوئی اپنا چہرہ زمین کی طرف کیے وہ ایک سرکس کے پرفارمر جیسی دکھائی دے رہی تھیں جو اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا ہو۔ اوپر اٹھتے ہوئے اس نے ایک بار پھر برقعے کو کوستے ہوئے کہا: کیا مصیب ہے یہ ۔

برقعے کے لیے ہر برا لفظ جو اس نے اپنے باپ سے سیکھا تھا ادا کرتے ہوئے وہ اپنے انکل کے گھر میں داخل ہوئی۔ اس کا چڑ چڑا پن گھر میں داخل ہوتے ہی غائب ہو گیا۔ گھر کے اندر ماربل والے فرش، اونچی چھت، ٹی وی کی آواز، نوکروں کا ادھر ادھر پھرنا، یہ سب چیزیں اسے ایک خوشگوار احساس دلا رہی تھیں۔ اس نے فورا برقعہ اتار دیا۔ اتارتے وقت دو بار برقعہ اٹک گیا۔ کسی بھی طرح اسے کھولتے ہوئے اس نے فوری طور پر برقعہ ایک ٹیبل پر پھینک دیا۔ "اب لگتا ہے سورج پھر سے نکل آیا ہے۔" اسے برقعہ اتار کر تسلی محسوس ہوئی کیونکہ اب وہ ایک اچھے اور خوشگوار ماحول میں موجود تھی۔ سیڑھیوں سے ایک بھرائی ہوئی آواز یوں گویا ہوئی: "میری بچی مجھے دیکھنے آئی ہے۔ " ایک معمر شخص سیڑھیوں کے عین اوپر کھڑا تھا ۔ زرینہ بھاگ کے ان کے پاس پہنچ گئی۔ انہوں نے زرینہ کو گلے سے لگا دیا۔ یہی چیز اس شخص کے زرینہ کے والد سے مختلف بناتی تھی۔ یہ شخص زرینہ کے والد سےزیادہ انسانی اقدار کو سمجھنے والا تھا۔ زرینہ کی پوری زندگی میں جو ابھی 8 سال تک محدود تھی ایک بار بھی اس کے والد نے اسے گلے نہیں لگایا تھا اور نہ ہی سر پر پیار دیا تھا۔ اس نے سوچا:

"شاید بابا کا دل پتھر کا ہے۔ وہ بلکل ان مجسموں کی طرح ہیں جنہیں میں روزانہ ٹی وی پر دیکھتی ہوں۔ "

وہ رات کو اپنے والد کے ہاتھ کو چھو کر دیکھتی تھی۔ لیکن یہ ہمت وہ تبھی کر پاتی جب اس کے پاپا گہری نیند سو رہے ہوں تا کہ اسے ان کے غصے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چاچا؟ کیا میرے بابا پتھر کے بنے ہیں؟ اس نے سوچتے ہوئے اونچی آواز سے کہ دیا۔ چچا نے پریشانی کے عالم میں اپنی بھتیجی کی طرف دیکھا اور اونچی آواز سے ہنس دیے۔ ان کی ہنسی کی آواز چاروں دیواروں سے ٹکرا نے لگی۔ یہ دیکھ کر زرینہ بھی مسکرا دی۔ ایسا لگ رہا تھا چچا کی آواز سے دیوار اور اس کی اینٹوں میں زندگی کی روح دوڑ پڑی ہو اور دیواریں بھی مسکرانے لگی ہوں۔ پھر انہوں نے جواب دیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ تمہارے پاپا پتھر سے ہی بنے ہیں۔ دیوار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ ایک بار پھر گویا ہوئے: وہ بلکل اس دیوار کی طرح ہے۔ تمہارا والد اصل میں پتھروں سے بنے ایک ٹیلے کی طرح ہیں۔

اس کے بعد چچا اسے نیچے ساتھ لے آئے اور صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ تبھی چچا نے برقعہ کو ٹیبل سے نیچے گرتے ہوئے دیکھا۔ یہ پیرا شوٹ جیسا نظر آرہا تھا ۔ پھر انہوں نے زرینہ سے پوچھا: کیا یہ برقعہ تمہیں ماں نے پہنایا ہے؟ زرینہ نے جواب دیا : میرے ابو کو لگتا ہے کہ میں بڑی ہو چکی ہوں اس لیے مجھے یہ پہننا چاہیے اور اگر میں آپ کے گھر آنا چاہوں تو مجھے ہر حالت میں اسے زیب تن کرنا ہو گا۔ انکل شاہی نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ زرینہ ان کے چہرے پر پھیلتی ہوئی مایوسی کو دیکھ رہی تھی۔ یہ مایوسی جلد ہی آ کر غائب ہو گئی۔

ٹھیک ہے چچا جان، اس میں چلنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے لیکن جب میں اپنے بازو کھولتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں ہوا میں اڑ رہی ہوں۔ چچا یہ سن کر مسکرا دیے۔ انہوں نے کہا: تمہیں معلوم ہے زرینہ کہ تمہاری سب سے اچھی بات کیا ہے؟ تمہارا تخیل ۔ تم اسے کبھی مت کھونا۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے تم مشکل وقت کا سامنا کر پاو گی۔ بس اپنے خیالات میں کھو جاو اور تصورات دی دنیا میں جو چاہو کرو اور جیسا چاہے محسوس کر لو۔

وقت کے ساتھ ساتھ زرینہ کو اس برقعہ کی عادت سی ہو گئی۔ یہ برقعہ انہیں مٹی، بارش اور بری نظر سے بچانے لگا۔ گلیوں میں زرینہ کے کھیلنے کے دن گزر چکے تھے ۔ لیکن ان کا بچپن ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ ان دنوں کے بارے میں سوچنے لگی جب ان کے والد گھر پر نہیں ہوں گے اور وہ انکل شاہی کے گھر پیدل جا پائے گی۔ انکل شاہی اسے اپنے باغ میں کھیلنے کی اجازت دیتے تھے۔ وہ زرینہ کے ساتھ باغ میں جاتے اور اسے اپنے برقعہ سے کھیلتے ہوئے دیکھتے اوروہ بیٹ مین کی طرح کھیلتی ہوئی لطف اٹھاتی۔ جو چیز اس عمر کی بچیوں کے لیے رکاوٹ بنتی تھی وہی چیز زرینہ کے لیے ایک کھیل کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔

"یہ بچی ایک پھول ہے جو کیچڑ کے اندر بھی کھلتا ہے۔ یہ اندھیرے میں روشنی تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اللہ اس کی مدد کرے۔ " وہ اسکو کھیلتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ زرینہ ان کی اکلوتی بھتیجی تھی۔ ان کا اپنا کوئی بچہ نہیں تھا اس لیے وہ زرینہ کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے ۔ دوسری طرف زرینہ کا والد اسے اپنا بوجھ سمجھتا تھا اور اسے اپنی عزت کے لیے خطرہ قرار دیتا تھا۔ زرینہ بڑی ہو رہی تھی لیکن اس کا برقعہ اب بھی اس سے بہت بڑا تھا۔

اگرچہ اس سے یہ حقیقت چھپ جاتی تھی کہ اب وہ بالغ ہو چکی ہے لیکن اب بھی انکل شاہی کے گھر جانے سے اس کو روک دیا گیا تھا۔ جب اس کے والد گھر سے کہیں دور جاتے تو وہ چھپ کر اپنے چچا کے گھر جا سکتی تھی۔ اس کی ماں اسے خبر دار کرتی اور ایسا محسوس ہوتا جیسے اگر ان کی آواز ان کے سخت مزاج خاوند تک پہنچ گئی تو کوئی طوفان آ جائے گا۔

یہ خوف ہمارے معاشرے کی ہر عورت کے دماغ پر سوار ہے۔ جب تک وہ زندہ رہتی ہیں خوف کی حالت میں رہتی ہیں جب تک ان کی موت نہیں آ جاتی۔ یہی حالت زرینہ کی ماں کی تھی۔ وہ ایک اوسط عمر کی خاتون تھی اور اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ وہ ایک سخت مزاج مرد کی بیوی تھیں ۔ وہ اپنی بیٹی کی حفاظ کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔ اگر ان کا خاوند اپنے بڑے بھائی اور زرینہ کے چچا پر گیا ہوتا تو وہ ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہوتی۔ اس کے چچا نے ملک سے باہر کئی سال گزارے تھے۔

"شاید دوسرے ممالک کے لوگوں نے اسے بدل دیا ہے۔ میں نے سنا ہے وہاں کی خواتین دوپٹہ لیے بغیر گھر سے باہر جا سکتی ہیں۔" وہ اکثر سوچتی ۔ اس بارے میں سوچتے ہوئے اچانک زرینہ خوف سے کانپ اٹھی اور دوبارہ سے فرنیچر صاف کرنے لگی۔

کئی دنوں سے انکل شاہی نے زرینہ کو اپنے گھر نہیں بلایا تھا۔ زرینہ کی خواہش تھی کہ گھر سے باہر نکل کر کھلی ہوا میں سانس لے۔ تازہ ہوا؟ اس کا خیال فوری طور پر برقعہ کی طرف مڑ گیا جو اس کے چہرے، ناک کو ڈھانپ لیتا ہے اور اسے تازہ ہوا لینے سے روک لیتا ہے۔ لیکن اس کے بغیر وہ کسی صورت گھر سے نکل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس نے اپنے آپ سے کمپرومائز کرنا سیکھ لیا تھا اور اب وہ اپنی خواہشات کو دبانے کا ہنر جانتی تھی۔ وہ اس سب کے باوجود اپنے آپ کو خوش اور آرام دہ رکھنا جانتی تھی۔ اس کے لیے برقعہ محض ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں تھا۔ یہ اسے اپنی شناخت چھپانے میں مدد گار محسوس ہوتا تھا۔ وہ اس کے اندر کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ وہ اس برقعہ کے اندر رہتے ہوئے سپر وومن بن سکتی تھی اور بادلوں اور پرندوں کی طرح ہوا میں اڑ سکتی تھی۔ وہ ایک پری کی طرح سبزہ زاروں اور پہاڑوں پر آزادی سے اڑ سکتی تھی۔ اس لیے زرینہ زندگی سے جڑی رہی۔ اپنے گھر کی اونچی دیواروں اور اپنے برقعہ کی حدود کے اندر وہ اپنی زندگی جی رہی تھی۔ تب وہ دن بھی آ گیا جب اس کے والد نے اس کی شادی طے کر دی۔

دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ انکل شاہی بھی آئے ہوئے تھے۔ رشتہ اصل میں وہی لے کر آئے تھے۔ انہیں اپنے بھائی کو منانے میں بلکل دقت نہیں ہوئی۔ وہ بھائی جو خود بھی اپنی بیٹی کی شادی کی خواہشات دل میں بسائے بیٹھا تھا۔ سب کچھ طے ہو گیا۔ زرینہ کو اس کی ماں نے خبر دی۔ پر جوش ہو کر اس نے پوچھا کہ کیا وہ گاوں سے باہر جائے گی؟ ماں نے کہا جی ہاں۔ لڑکا ایک بڑے شہر میں رہتا ہے۔ اب تم وہ تمام جگہیں دیکھ پاو گی جن کے تذکرے تم انکل شاہی سے سنتی آئی ہو۔

زرینہ کو محسوس ہوا جیسے دورسے اس کی امی اسے پکار رہی ہوں۔ وہ بہت خوش ہوئی لیکن گھبرا گئی۔ مصروفیات کی وجہ سے ہفتے کیسے گزر گئے پتا ہی نہ چلا۔ شادی سے ایک دن قبل انکل شاہی اسے ملنے آئے اور کہا:

میری بچی، کاش میں تمہیں ایک بار پھر دوڑتے بھاگتے دیکھ سکتا۔ تم اتنی جلدی بڑی ہو گئیں اور اب تم ہمیں چھوڑ کر جانے والی ہو۔ میری خواہش ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔ میں تمہیں ایک نصیحت کروں گا۔ خوشیوں کی کنجی اپنے آپ کو ماحول کے مطابق بنانے میں ہے۔ تمہارے علاوہ شاید ہی کوئی اس حقیقت کو تم سے بہتر جانتا ہو۔ تمہیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا ہو گا کہ جو مخلوقات ماحول کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھال سکتیں ان کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو حالات اور ماحول کے مطابق ڈھال لو گی تو ہر چیز اپنی جگہ پر آ جائے گی۔

انہوں نے پریشانی کے عالم میں اس کی طرف دیکھا۔ ان کا ناپختہ ذہن الفاظ کی گہرائی کو نہ سمجھ پایا لیکن ان کی آواز کی نرمی سے وہ بہت متاثر ہوئیں۔ وہ اپنے نوکروں کے ساتھ رخصت ہوا اور انہیں ایک عجیب سا احساس دے گیا۔ رخصتی کے وقت زرینہ ان کے کندھے پر سر رکھ کر سسکیاں لیتی رہیں جب کہ زرینہ کے والد پیچھے خاموش کھڑے رہے۔ اس نے ان کی طرف دیکھا اور اس محبت کی نمائش پر منہ بسورا۔ زرینہ نے ہمت باندھ کر اپنی ماں سے پیار لیا اور ماں کو گلے لگا لیا۔ تبھی زرینہ کے والد نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں احساس دلایا کہ دیر ہو رہی ہے۔ والد نے بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور داماد سے ہاتھ ملایا۔ انہوں نے بیٹی کو ایسے رخصت کیا جیسے ایک کار بیچ دی ہو اور اب یہ کار اپنی منزل کی طرف بھیجی جا رہی ہو۔

جیسے ہی زرینہ کار میں بیٹھیں، ان کی ماں دوڑی دوڑی آئیں اور ایک کپڑوں کا بیگ زرینہ کی گود میں رکھا، ان کی پیشانای کو چوما جوبرقعے میں ڈھکی ہوئی تھی۔ کسی دوسرے شخص نے پردہ اور بھی نیچے گرا دیا اور اب زرینہ کےلیے اپنے خاندان کے کسی بھی شخص کو دیکھ پانا ناممکن ہو گیا۔ گاڑی کا انجن سٹارٹ ہوا اور وہ اپنی منزل کی طرف چل پڑیں۔ ان کی سسکیوں کی آواز بڑھ گئی لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود کسی چیز کو محسوس کیا۔ انہوں نے بیگ کھولا اور اپنے برقعہ پر ان کی نظر پڑی۔ فوری طور پر ان پر ایک تسکین کا عالم طاری ہو گیا۔ انہوں نے اس برقعے والے بیگ کو گلے سے لگا کر دبوچا اور اس کے اندر سے ماں کے عرق کی خوشبو کو محسوس کیا۔ ایسا لگ رہا تھا وہ ماں کو اپنی بانہوں میں لیے بیٹھی ہوں۔ اس چیز سے ان کی سسکیاں بند ہوگئیں۔

نئے گھر میں ان کا پہلا ہفتہ معمولی تھا۔ کچھ برادری کی لڑکیاں ان کے ساتھ رہیں لیکن وہ نئے گھر سے ایک بار بھی باہر نہیں نکل سکیں۔ ان کے شوہر بہت دھیمے مزاج کی شخصیت تھے لیکن ابھی وہ اپنے شوہر سے کھل کر نہیں ملی تھیں کیونکہ اس علاقے کے رسم و رواج کے مطابق شادی کے ان دنوں میں دلہے کو اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا تھا تا کہ اس دوران دلہن نئے گھر کے اصول و ضوابط اور طور طریقےسے واقفیت حاصل کر سکے۔ وہ اس چیز پر بہت مشکور تھیں۔ اگرچہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے خاوند اس دوران کیسا محسوس کر رہے تھے۔ وہ جب بھی انہیں دیکھنے آتے، ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار کوئی فیملی ممبر بیچ میں حائل ہو جاتا۔ ان کی آپسی تمام ملاقاتوں میں زرینہ اپنا دوپٹہ سر پر لیے رکھتیں اور اپنا چہرہ بھی جس قدر ممکن ہو چھپا لیتیں۔ انہیں یہ بلکل اچھا نہ لگتا کہ اپنے خاوند کو اپنا پورا چہرا دکھائیں۔ وہ ایک مرد جو تھے۔ انہیں سکھایا گیا تھا کہ مردوں سے ہمیشہ خود کو چھپا کر رکھنا ہے۔ جب ساری دعوتیں اور ڈنر کی رسومات ختم ہوئیں تو ایک شام ان کے خاوند ان کے پاس آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا دلہن اپنے شوہر کے ساتھ شہر کی سیر کےلیے ڈرائیو پر جانا پسند کریں گی؟

"پردہ کے بارے میں پریشان مت ہو۔ ہم ویسے بھی گاڑی میں جا رہے ہیں۔" اس نے کہا اور چلا گیا۔

اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے نیچے کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرایا اور بتایا کہ 10 منٹ میں وہ رخصت ہوں گے۔ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اس بڑے شہر میں پہلی بار گھر سے باہر قدم رکھنے والی تھیں۔ انہوں نے کہا: "میں ساری عمارتیں اور روشنیاں دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں اس گھٹیا چیز کو بھی نہیں پہنوں گی۔ یہ میری نظر، سانس اور خوشیوں کے راستے میں حائل ہے۔ "

ایسا لگ رہا تھا کہ جذبات سے ان کا دل پھٹ جائے گا۔ انہوں نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا۔ شیشے میں ایک بہت خوبصورت لڑکی نظر آ رہی تھی۔ اپنی خوبصورتی سے مطمئن ہو کر وہ دوسری طرف مڑیں۔ اپنی چوڑیاں پہنتے ہوئے وہ بہت خوشی محسوس کر رہی تھیں۔ وہ خوشی سے ناچنا چاہتی تھیں۔ سر پر دوپٹہ سیدھا کرتے ہوئے وہ آہستہ سے دروازے کی طرف بڑھیں۔ ایک کپڑے کے ہلنے کی آواز سن کر انہوں نے نیچے پیچھا۔ ان کے چمکدار جوتے کسی چیز میں اٹک گئے تھے۔ وہ جھک کر اپنے آپ کو آزاد کرنے لگیں۔ یہ برقعہ تھا۔

برقعہ ان کے پاوں تک پہنچ کر ان کے راستے کی رکاوٹ بن گیا تھا۔ ان کا دل جیسے رک سا گیا ہو۔ برقعہ کو کھینچتے ہوئے انہوں نے برقعے کو جوتے سے چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ان کا لباس بہت زیادہ زیورات سے لدا ہوا تھا اور ہلکا س کپڑا بار بار اس میں پھنس رہا تھا۔ جتنا زیادہ وہ اسے کھینچتی یہ اتنا ہی پھنستا جا رہا تھا۔ وہ اپنے برقعے کی وجہ سے پھنسی کھڑی تھیں جس نے ان کی آزادی پر قدغن لگا رکھی تھی۔

بیس منٹ گزر چکے تھے۔ کار کے پاس کھڑے ہوئے شہزاد بہت توقعات کے ساتھ کار کے دروازے کو کھلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ گاڑی سے نکلنے والی خاتون نے آئیوری برقعہ پہن رکھا تھا اور سر سے پاوں تک اس کے جسم کا ہر حصہ ڈھکا ہوا تھا۔ وہ اس کے خلاف لڑ رہی تھی لیکن برقعہ جیت گیا تھا۔ بھاری دل اور کمزور نظر کے ساتھ زرینہ کار کی طرف بڑھی۔ وہ اپنے خاوند کے چہرے پر اس کی مایوسی دیکھ سکتی تھیں۔ انہوں نے سوچا: اگر میں اسے اتار دوں تو میرے والد کو مایوس کروں گی اور اگر پہن لوں تو خاوند کو مایوسی ہوتی ہے۔

ان مختلف دنیاؤں میں توازن پیدا کرنے کےلیے مجھے اور کتنے سال لگیں گے۔ لیکن اس وقت زرینہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ برقعہ ان کے جسم پر ہی رہا۔ برقعہ ان کے جسم اور دماغ پر ٹکا رہا۔ کیا وہ کبھی اس سے نجات حاصل کر پائیں گی؟ اس سے آزادی کا اصل مطلب کیا ہو گا؟ یہ معاملہ صرف برقعے کا نہیں تھا۔ یہ وہ معاملہ تھا جس کی نمائندگی یہ برقعہ کر رہا تھا۔ یہ ڈکٹیشن اور کنٹرول کی نمائندگی کر رہا تھا۔ یہ شرم و حیا کی علامت بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ تب ہوتا اگر اس نے خود اپنی مرضی سے اسے پہنا ہوتا۔ اندر کی تربیت زرینہ کے اندر اخلاقی جرات پیدا کر سکتی تھی جس سے وہ برقعہ کو اپنی چائس بنا سکتی تھیں۔

لیکن اب یہ ایک ضروت اور بوجھ بن چکا ہے۔ یہ ایک مجبوری اور والد کی ڈکٹیشن کی علامت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ ان کی آزادی کے راستے کی رکاوٹ ہے اور اپنے خاوند کی ماڈنٹی کے اوپر ایک دھبہ ہے۔ ہاتھی دانت سے بنے اس ٹکڑے نے کتنی معلوم نہیں کتنی چیزوں کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ لیکن کیا ان سب میں سے کوئی بھی چیز اسے کے اختیار میں شامل تھی؟ بلکل نہیں۔

http://blogs.tribune.com.pk/story/48071/the-ivory-piece-of-fabric-that-plagued-her-freedom/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *