خبروں کی افراط اور بجٹ تیاری

khalid mehmood rasool

خدا جانے یہ انعام ہے یا کوئی آزمائش کہ اہل شہر کو حسبِ خواہش دیکھنے کے لیے ہر روز تماشا مل جاتا ہے۔ بلکہ ایک چھوڑ کئی کئی تماشے ایک ہی دن میں توجہ کا دامن کھینچتے ہیں۔ ایک خبر ابھی ہضم نہیں ہوتی کہ اگلی بریکنگ نیوز آ دھمکتی ہے، اس کے آفٹر شاکس سے سنبھل نہیں پاتے کہ اگلی بریکنگ نیوز اس سے بھی زیادہ زور سے آن وارد ہوتی ہے۔ اہل شہر پر سیاست کے یہ ہنگامے اس قدر مہربان ہیں کہ میڈیا کو سر کھجانے کی فرصت ہے اور نہ اہلِ شہر کے پاس کسی اور طرف دیکھنے کا وقت۔
دور کیا جانا، صرف ایک دن میں ہنگامہ خیز خبروں کی بہتات کچھ یوں تھی۔ مریم نواز کے ایک جرمن صحافی کے ساتھ ٹویٹر ٹاکرے کاخوب شہرہ رہا۔ اسی روز سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے لیے اسٹیٹ بنک اور SECP کے تجویز کردہ نام نامنظور کر دیے اور سینئر افسران کی نئی فہرست کا حکم دیا جس میں سے اعلیٰ عدالت خود انتخاب کرے گی۔ ڈان لیکس کا پنڈوڑا باکس بند ہونے کی بجائے مزید کھل رہا ہے۔ وزیراعظم ہاوئس سے جاری نوٹیفیکیشن پر ٹویٹر کے ذریعے اسے رد کے جانے پر ہیجان ابھی جاری تھا کہ طارق فاطمی کے استعفیٰ کے خط کے مندرجات نے بھی ایک ہنگامہ اٹھا دیا۔ دوسری طرف اسی نوٹیفیکیشن سے متاثر سینئیرآفیسر راؤ تحسین نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ خبر بھی کیا کم اہمیت کی حامل تھی کہ سپریم کورٹ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے سلسلے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
ان میں سے ایک ہی خبر میڈیا کی رونق اور اہل شہر کی دلداری کے لیے کافی تھی مگر قدر ت کی مہربانی کہ اس قدر بہتات خبری سے نواز ڈالا۔ ایسے میں کئی اور خبریں گھاس کو ترستی رہیں مگر سیاست کے رسیلے پن کے سامنے ان کی حیثیت ہی کیا تھی۔مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس گذشتہ روز تین کی بجائے پانچ ماہ بعد ہوا جس میں نصف سے زائد ایجنڈا آئٹمز وقت کی کمی کے باعث موخر کر دی گئیں۔ اجلاس میں نیشنل واٹر پالیسی بھی پیش کی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق 1951 میں سطح زمین میں 5,260 مکعب فٹ فی کس پانی دستیاب تھا جو کم ہوتے ہوتے 2016 میں 1,000 مکعب فٹ فی کس رہ گیا ہے۔ عالمی سطح پر خوراک کے مناسب حصول یعنی فوڈ سیکیورٹی اور انسانی صحت کے لیے کم از کم ایک ہزار مکعب فٹ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے کم سطح کا حامل ملک پانی کی قلت کا شکار کہلاتا ہے ۔ پاکستان میں تیزی سے پانی کی دستیابی میں کمی کی و جوہات میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کے پھیلاؤ سمیت کئی اور عناصر بھی شامل ہیں ۔ اسی رپورٹ کے مطابق اگر یہی رجحان رہا تو 2025 میں دستیاب پانی فقط 860 مکعب فٹ رہ جائے گا یعنی پاکستان با ضابطہ طور پانی کی قلت کا شکار ملک ہو گا ۔ فوڈ سیکیورٹی اور عوام کی صحت اس کمی سے کس کس انداز میں متاثر ہو گی، یہ سوچ کر بھی جھر جھری سی آ جاتی ہے۔ مگر اس بے کیف خبر کو ایک آدھ اخبار ہی میں معمولی جگہ مل سکی، دیگر میڈیا نے تو اسے مونہہ ہی نہ لگایا۔
چند ماہ قبل حکومت نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے بجلی ، آئل اور گیس کے ریگولیٹری اداروں کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کر کے ان کی خود مختاری کا ڈنک نکالنے کا سوچا۔ اس اقدام پر خوب لے دے ہوئی۔ حکومت مصر تھی کہ یہ تو ایک معصوم سا انتظامی حکم تھا جس میں یاروں نے نہ جانے کس کس شئے کی ملاوٹ ڈھونڈ لی۔ معاملہ اعلیٰ عدالت میں پہنچا تو عدالت نے حکومت کو اس اقدام سے باز رکھنے کا حکم امتناعی جاری کر دیا۔ اعتراض یہ تھا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی فہرست سے متعلق ہے لہذٰ اس کا فیصلہ بھی وہی کرے۔ اس دوران حکومت نے دیگر صوبوں کو بھی ہم خیال بنا لیا۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں یہ آئٹم پیش ہوا تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے نیپرا کے بارے شکایات کا انبار لگا دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے گلے شکوے پیش کر دیے۔ نیپرا کے چیرمین کے علم میں نہ تھا کہ نیپرا کے اختیارات اس اجلاس میں زیر بحث آئیں گے، شاید اسی لیے وہ روٹین کے ایک بیرونی دورے پر تھے۔ نیپرا کے افسران کو البتہ انڈسٹری رپورٹ پیش کرنے کے لیے بلایا گیا جس کے لیے وقت نہ مل سکا۔ نیپرا کے قائم مقام چیئرمین جنہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آشیر باد سے حال ہی میں متعین کیا گیا، اس موقعے پر موجود تھے لیکن وہ چپ رہے کہ کئی پردے ان کو بھی مقصود تھے۔ نیپرا کی خود مختاری کے پَر پرزے خاموشی سے کاٹ دیے گئے۔ ٹیرف کے تعین میں اب نیپرا حکومت کے احکامات کا پابند ہو گا۔ اس کے علاوہ مزید مَشکیں کسنے کے لیے ایک آزاد پینل بنایا جائے گا جس کے سامنے نیپرا کے فیصلے چیلنج ہو سکیں گے۔ کہاں کی خود مختاری، کہاں کی آزادی، ایک ہی فیصلے نے دس پندرہ سالوں سے ادارے کی آزادانہ حیثیت کا بستر گول ہو گیا۔
اس خبر کا بھی مگر المیہ یہ تھا کہ اس میں بھی سیاست کا سا رسیلا پن نہیں تھا لہذٰ میڈیا نے اس خبر کو بھی خاص گھاس نہ ڈالی۔ اس حکومت کا آخری بجٹ اس ماہ کے آخر میں پیش کیا جانا ہے۔ بقول وزیر خزانہ اس بار بجٹ اس لیے جلد پیش کیا جارہا ہے کہ اس پر بحث و تمحیص کے لیے کافی وقت دستیاب ہو۔ بجٹ تیاری کا عالم کیا ہے؟ یہ بجٹ گذشتہ بجٹ کا تسلسل ہو گا یا معاشی ترقی کے لیے کچھ دلیرانہ فیصلوں کا نقیب ہو گا؟ ان سوالوں کے شافی جوابات تو بجٹ پیش ہونے پر ہی مل سکیں گے البتہ اس کی تیاری کا کچھ بھید ضرور سامنے آیا ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ بجٹ واقعی الیکشن بجٹ ہو گا۔ حکومت کی معاشی ٹیم کے زیادہ تر افراد مستقل پوسٹنگ پر نہیں ہیں بلکہ قائم مقام یعنی ایکٹنگ چارج پر ہیں۔ اسٹیٹ بنک کے گورنر اٹھائیس اپریل کو اپنی مدت مکمل کرکے ریٹائر ہو چکے۔ ان کی جگہ ڈپٹی گورنر کو پہلے قائم مقام اور بعد ازاں عارضی طور پر گورنر مقرر کر دیا گیا ہے۔ سیکریٹری خزانہ بھی غالباٌ جون میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ایف بی آر کے سربراہ بھی ایکٹنگ چارج پر ہیں۔ اکاؤنٹینٹ جنرل پاکستان بھی ریٹائر ہو چکے۔ ان کے ایکٹنگ چارج والے صاحب بھی گذشتہ ہفتے ریٹائر ہو چکے۔ ا ب ایدیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل کو ایکٹنگ چارج دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی محتسب بھی اپنی مدت مکمل کر چکے۔ حکومت کی کم و بیش تمام سینئر ٹیم عارضی یا ایکٹنگ چارج پر ہے ، ایسے میں بجٹ جیسی اہم دستاویز کی تیاری کے لیے درکار پیشہ ورانہ مہارت اور مشکل آپشنز کے انتخاب کی صلاحیت کی دستیابی اورکردار کیا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عارضی یا ایکٹنگ چارج والے افسران کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ سر پر کھڑے انتخاب کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ایسے میں وہی ہوگا جو منظورِ وزیر خزانہ ہوگا۔ عام حالات میں اعلیٰ افسران بھی اختلاف کم ہی کرتے ہیں لیکن پھر بھی نیک و بد حضور کو سمجھانے کی نیم دلانہ سی کوشش اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں کل کلاں کو جواب دہی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔
سیاسی خبروں کے جھرمٹ میں معیشت اور گورنینس کی ایسی پھیکی خبروں کو اب کوئی کیوں مونہہ لگائے اور کیسے؟ کِسے پڑی ہے یہ جاننے کی کہ ٹھٹھہ، جیکب آباد، اوکاڑہ اور لیّہ میں وزیر اعظم جن کروڑوں روپوں کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں، ان کے لیے وسائل فراہم کرنے والے خزانے میں رواں سال کے محاصل میں کمی کو پورا کرنے لیے پہلے ہی سے لڑکھڑاتے برآمدی سیکٹر کے پانچ شعبوں کو حاصل زیرو ریٹنگ واپس لینے کا انتہائی اقدام سوچا جا رہا ہے۔ اسی سیکٹر کے سینکروں ارب روپوں کے ریفنڈ بار بار کے وعدوں اور مطالبے کے باوجود ادا نہیں کیے جا رہے۔ ملک میں گیس نایاب ہے بلکہ ایل این جی کی درآمد سے اس کمی کو پورا کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود اب گیس کے نئے کنکشنزانتخابی اسکیموں کے طور پر اعلان کیے جا رہے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اوکاڑہ میں یہ اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نئے گیس کنکشن لگانے کے لیے درکار پچاس کروڑ روپے بھی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا تاکہ بقول ان کے اپنے۔۔۔ کام پکا ہونا چاہئے۔
دنیا میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باوجود ملک میں قیمتیں نہ صرف برقرار رکھی گئیں بلکہ سیلز ٹیکس میں اضافہ کرکے ریونیو کو بڑھانے کی سبیل نکالی جا رہی ہے۔ اب ہمارے ہاں جمالیاتی حس اتنی بھی گئی گذری نہیں کہ ان رسیلی سیاسی خبروں کی افراط میں ان چند پھیکی معاشی خبروں سے اپنا مزہ کرکرہ کریں۔ بلکہ کیوں نہ اس خبر کا مزہ لیں کہ کس طرح آصف زرداری اگلے سینیٹ الیکشن میں ن لیگ کو اکثریت نہیں لینے دیں گے!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *