روینہ ٹنڈن کی بالی ووڈ میں زوردار واپسی

ایس ایم اشعر

SM asher

21اپریل 2017 کو رہلیز ہوئی فلم ’’ماتر ‘‘یعنی کہ ماں سنیما ہالز میں اپنا جادو جگانے میں مصروف ہے ۔ماضی کی مشہور اداکارہ روینہ ٹنڈن جو کہ اس سے پہلے دل والے ،مہرہ انداز اپنا اپنا ، اور کھلاڑیوں کے کھلاڑی جیسی فلموں میں نا صرف اپنے گلیمر کا جادو جگایا ۔اس کیساتھ ہی فلم ستہ، دمن اور جاگو جیسی فلموں میں سنجیدہ اداکاری سے فلم بینوں کے دلوں پر راج کرتی آئی ہیں۔ایک طویل مدت کے بعد رو ینہ ،ماتر میں ایک انتہائی سنجیدہ کردار میں جلوہ گر ہوئی ہیں ۔فلم ماتر کے ڈاریکٹر اشد سید ہیں ۔جبکہ اس کے رائٹر مائیکل پلاکو ہیں۔جبکہ فلم کی نمایاں کاسٹ میں روینا کے علاوہ دیویا جگدلے،علیشاہ خان،انوراگ اروڑہ اور مدھر متل شامل ہیں۔فلم کا میوزک ایک پاکستانی صوفی بینڈ فیوژن نے دیا ہے ۔جیسا کہ فلم کے نام سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی ایک ماں کے گرد گھومتی ہے ۔جو کہ ایک سکول کی ٹیچر ہے ۔اور اسکول کے سالانہ فنکشن سے واپسی پر اپنی بیٹی کے ساتھ آتے ہوئے ہائی وے پر ایک شارٹ کٹ کی نیت سے لیا جانے والا ٹرن نہ کہ صرف گاڑی کے حادثے کا سبب بنتا ہے ساتھ ہی یہی حادثہ اس کی زندگی کے تمام اجالوں کو اندھیروں میں بھی بدل دیتا ہے ۔

raveena

فلم کی کہانی معاشرے کے ان بھوکے بھیڑیوں کی ہے جو کہ اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لئے روینا ٹنڈن اور اس کی بیٹی کو شکار بناتے ہیں۔اور روینا کے سامنے اس کی بیٹی کے ساتھ سات لوگ زیادتی کر کے بہت بے رحمی سے اسے قتل کر دیتے ہیں۔رو ینہ انصاف کے لئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے مگر ان اور ان کی بیٹی کی عزت پر ڈاکے ڈالنے والے خود قانون بیچتے نظر آتے ہیں۔رو ینہ نے ایک اکیلی عورت کا کردار بہت خوبی کے ساتھ نبھایا ہے ۔اور اپنی اداکاری سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب معاشرے میں عورت اکیلی ہونے کی وجہ سے کمزور اور لاچار نہیں ہے۔ اور وقت پڑنے پر اپنا بدلہ ان نام نہاد مردوں سے لے سکتی ہے ۔ فلم شروع سے آخر تک ضرورت سے بہت زیادہ predictable ہے۔مگر روینا جن کو ان کے شوہر بھی تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔یوں اس فلم میں روینا اپنی جنگ اکیلے ہی لڑتی نظر آتی ہیں۔اور اپنی اداکاری سے ثابت کر دیتی ہیں کہ عورت کے سامنے جتنے بھی بڑے مسائل کے پہاڑ کیوں نہ ہوں وہ اگر چاہے تو اس میں راستے بنا سکتی ہے ۔فلم کے predictable ہونے کے باوجود فلم کا سکرین پلے اتنا خوبصورت ہے جو فلم بینوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پوری فلم دیکھیں۔فلم میں گانے ضرورت کے حساب سے کافی ہیں لیکن فلم میں emotional مناظر کی خاصی کمی نظر آتی ہے ۔فلم کو اگر جذباتی نقطہ نگاہ کے ساتھ دیکھا جائے تو فلم ٹھیک لگتی ہے مگر اگر فلم میں ذرا سی بھی logic کا استعمال کریں تو کئی مقامات پر فلم سمجھ سے کافی باہر ہو جاتی ہے ۔خاص کر فلم کے اختتام میں چیف منسٹر اور اس کا بیٹا گھر پر ایک آپسی چھوٹے جھگڑے کی وجہ سے اکیلے رہ جاتے ہیں اور گھر کے ہی لان میں ایک بڑی پارٹی چل رہی ہوتی ہے او ر روینہ گھر میں آ کر دونوں کو با آسانی جان سے مار کر اپنے بدلے کی آگے پوری کر لیتی ہے ۔اس چھوٹے سے بجٹ کی فلم شائد باکس فلم پر اتنا سحر نہ دکھا پائے ۔لیکن معاشرے کو کچھ ایسا پیغام ضروردے جائے گی جس کو اگر سنجیدگی سے لیا جائے تو وہ آنے والی زندگی کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *