عمران خان اور جہانگیرترین کی آف شور کمپنیاں

ہزیمہ بخاری اینڈ ڈاکٹر اکرام الحق

panama

آج 'اس حمام میں سب ننگے ہیں' والی کہاوت ہر پاکستانی کی زبان پر ہے۔ عام پاکستانی شہریوں کا سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر سیاسی لیڈر کرپٹ ہیں اس لیے کوئی کسی کے خلاف کاروائی نہیں کرتا۔ اپنے جلسے سے خطاب کے آخری لمحات میں عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف امین نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے دو خطابوں میں قطری خط کا نام نہیں لیا جب انہوں نے مئی 2016 میں قوم سے اور پارلیمنٹ سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قطری خط کو صحیح مان بھی لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ 8 ملین روپے کی بڑی رقم لندن کیسے پہنچی جس سے التوفیق بینک کو ادائیگی کی گئی اور بغیر کسی بینکنگ چینل کے استعمال کیے حسن نواز اور حسین نواز کو کروڑوں روپے کیسے دیے گئے؟ پی ٹی آئی موجودہ وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں 26 اپریل 2012 کا دن متناعہ لیکن پیپلز پارٹی کے لیے افسوسناک تھا کیونکہ اس دن سپریم کورٹ نے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت کی توہین کے جرم میں نااہل قرار دیا تھا۔ اس حکم کے جاری ہوتے ہی نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی کو استعفی دینے کا کہا جس سے پی پی لیڈرز بہت مشتعل ہوئے۔ انہوں نے نواز شریف کو تفصیلی فیصلہ آنے تک صبر کرنے کے لیے کہا اور کہا کہ جب تک الیکشن کمیشن کی طرف سے نااہلی کا نوٹیفیکیشن نہیں آجاتا گیلانی صاحب وزارت عظمی پر موجود رہیں گے۔ لیکن نواز شریف منتخب وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اب ان کے ساتھ یہی صورتحال پیش آ چکی ہے اور پی ٹی آئی پانامہ معاملے میں فیصلہ آنے پر وزیر اعظم سے استعفی دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ 2012 میں ایک سیاسی مکالمے کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک نے ن لیگ کے دو بڑے رہنماوں پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور شریف برادران کو منی لانڈرنگ اور ٹیکس چور ی کے ذمہ دار قرار دیا۔ جیسے جیسے سیاسی مخاصمت بڑھتی گئی، مزید الزامات اور ثبوت دکھانے کے دعوے کیے گئے جس کے مطابق شریف برادران کی بیرون ملک رقم جو کئی بلین ڈالر پر مشتمل ہے کو عوام کے سامنے لانا تھا۔ یہ ایک اچھا آغاز تھا کیونکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے سیاستدانوں نے ایک دوسرے کی کرپشن کو ایکسپوز کرنا شروع کر دیا تھا ۔ اگر یہ عمل جاری رہتا تو عوام باشعور ہو جاتے اور دھوکہ باز سیاستدانوں کو اگلے انتخابات میں مسترد کر دیتے۔ لیکن زرداری کی پیپلز پاورٹی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کی کرپشن کو کور دیا۔ 2017 میں ایک بار پھر دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں اور الزامات میں مصروف ہیں اگرچہ زرداری کرپشن کے بارے میں بات نہیں کرتے اور نواز شریف بھی جانتے ہیں کہ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو بھی آسانی سے دبایا جا سکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کیے جانے کے بعد ہر دوسرے دن رحمان ملک اور نواز شریف کے دفاع کرنے والےمخالف پارٹیوں کے منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے بارے میں نئے نئے انکشافات سامنے لاتے۔ یہ پیسے کی طاقت سیاست مافیا کے لیے ایک بہت بڑا ہتھیار ہوتی ہے۔ جب تک یہ خطرناک ہتھیار ان کے پاس موجود رہے وہ اس رقم کو خرچ کر کے اپنےحلقوں کو اپنے بس میں کیے رکھتے ہیں۔
رحمان ملک نے 28 اپریل 2012 کو پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف 32 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کر چکے ہیں اور 6 ملین بلین روپے کے بینک ڈیالفٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادان صرف اتنا جواب دے دیں کہ ان کے پاس 32 ملین ڈالر کہاں سے آئے۔ اسوقت کے وزیر داخلہ نے کہا کہ جو بھی انہوں نے کہا تھا یہ ان کا ذاتی حساب کتاب تھا اور ان کے پاس شریف خاندان کے پاس ثبوت موجود تھے۔ یہ بہت دھماکہ خیز بات تھی کہ ایک ذمہ دار وزیر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگا رہا تھا۔ اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس پر ایکشن لے لیکن انہوں نے صرف اپوزیشن پر الزاماتا لگانے تک محدود رہنا مناسب سمجھا۔ دوسری طرف نواز لیگ نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صدر زرداری نے جو سوئس حکام سے 60 ملین ڈالر نکلوائے ہیں وہ واپس کیے جائیں۔ اٹارنی جنرل نے سوئس حکام کو خط لکھا تھا کہ رقم واپس نکلوانے کی اجازت دی جائے لیکن حکومت کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جب تک زرداری ملک کے صدر ہیں تب تک یہ ممکن نہیں ہوگا۔ 2013 میں جب شریف برادران کی حکوت آئی تو انہوں نے اپنے وعدے بھلا دیے جو انہوں نے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے بارے میں عوام سے کر رکھے تھے۔

پانامہ پیپرز میں جب پہلی بار آئی سی آئی جے کی طرف سے اپریل 2016کو دنیا کے سامنے انکشافات لائے گئے تو یہ پاکستانیوں کے لیے ایک اچھا شگون ثابت ہوئے۔کرپشن کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا اور اس بار اس کے ثبوت بھی سامنے تھے۔ اس سے قبل صرف اخباری رپورٹس آتی تھیں جس میں مختلف سیاستدانوں، بیوروکریٹس، تاجروں اور جرنیلوں کی کرپشن کا ذکر ہوتا تھا لیکن کوئی ڈاکومنٹیشن موجود نہیں تھی۔ پہلی بار مستند دستاویزات کی صورت میں مختلف لوگوں کی کرپشن کو عوام کے سامنے لایا گیا۔ یہ کام ایک لاء فرم نے کیا جو 1977 میں قائم کی گئی تھی۔ امیر لوگ اور سیاستدان ان پیپرز کو مسترد نہ کر پائے کیونکہ انہوں نے اس فرم سے اپنے ٹیکس چوری کے معاملات میں مدد لی تھی۔

عوام مخالف اور امیرانہ طبقہ کی حمایت میں پیش کیے گئے ان قوانین کو صرف سیاست دان اور بیوروکریٹس ہی دفاع نہیں کرتے بلکہ وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو اسلحہ کی ڈیل اوردوسرے معاملات میں فائدہ اٹھاتے ہیں جیسا سابقہ چیف ایڈمرل منصور الحق کے پلی بارگین سے ظاہر ہے۔ افتخار محمد چوہدری کے دور کے سپریم کورٹ نے بھی ٹیکنیکل گراونڈ پر کوئی ایسا حکم جاری نہیں کیا جس کے ذریعے حکومت کو سوئس اتھارٹیز سے اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لیے مذاکرات پر زور دیا گیا ہو۔

حکمران طبقہ اور امرا کےلیے یہ ضروری ہے کہ سٹیٹس کو برقرار رہے تا کہ ان کے لوٹے ہوے مال و دولت پر کوئی سوال نہ اٹھا سکے جو انہوں نے بیرون ملک مختلف جگہوں پر چھپا رکھا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں آنے والی ساری حکومتیں چاہے وہ سول ہوں یا ملٹری، نے بہت غیر ذمہ داری اور مجرمانہ روش اختیار کر رکھی ہے اور کبھی ٹیکس چوری کا پیسہ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر منتقل کی گئی رقوم کو نکال لانے کی کوشش نہیں کی ہے جس کا اصل مالک پاکستان ہے۔ آصف زرداری نے صدارتی آرڈینس (فائنانس آرڈیننس 2012)کے ذریعے انویسٹرز کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے ایک دن قبل جو ایمنسٹی دلوائی اس سے سب صاف کھل کر سامنے آ گیا۔ نواز شریف نے اپنی تیسری وزارت عظمی کے دوران ٹیکس چوروں کو تین مختلف ٹیکس ایمنسٹیاں دلوائی ہیں۔

نواز حکومت نے پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز بل 1992 کے ذریعے کالے دھن کو قانونی شکل دی۔یہ قانون آج بھی ٹیکس چوروں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ وہ اپنے کالے دھن کو قانونی بنا سکیں۔ شریف فیملی کی کمپنیوں نے اس قانون کا بہت فائدہ اٹھایا جیسا کہ حدیبیہ انجینیرز ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے کیس کے فیصلے (1998 PTD 34) سے ظاہر ہے۔ ابھی تک کسی بھی حکومتی ادارے نے اس قانون کی جانچ پڑتال نہیں کی ہے۔ (تفصیلات کےلیے ہماری کتاب Drug –TRAP TO DEBT –TRAB) ملاحظہ کیجیے۔ سپریم کورٹ نے بھی کبھی اس قانون پر نظر ثانی نہیں کی تا کہ اس کے ذریعے عوام کو بنیادی حقوق سے محرومی سے بچایا جا سکے۔ تمام پبلک سٹیک ہولڈرز جنہوں نے اس قانون کے ذریعے ٹیکس چھپانے کی کوشش کی کو ریاست سے دھوکہ دہی کے جرم میں نااہل قرار دیا جانا چاہیے لیکن آج تک کسی کے خلاف ایک کیس بھی درج نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسے اس ملک کے حکمران اپنے فائدے کے لیے قانون گھڑتے ہیں۔ نقصان ہوتا ہے تو صرف غریب عوام کا جو اس ارض پاک کے شہری ہونے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور جن پر مختلف طرح کے خفیہ اور اعلانیہ ٹیکس عائد کر دیے جاتے ہیں۔ امیر لوگ اس دنیا کی ساری عیاشیاں اور سہولتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں جب کہ 60 ملین سے زیادہ لوگ غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان کالمز میں 1999 سے ہم بار بار انڈر گراونڈ اکانومی، منی لانڈرنگ اور ریوینیو لیکیج پر کریک ڈاون کی اپیل کرتے آئے ہیں۔ ہم جان بوجھ کر کبھی زرداری اور نواز شریف کے خفیہ اثاثوں کا ذکر نہیں کرتے کیونکہ یہ متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں معلومات اور ثبوت حاصل کریں۔ نیب، ایف آئی آے اور ایف بی آر جیسے اداروں کو اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتنے ، ان ناجائز خفیہ اثاثوں کو سامنے لانےسے انکار کرنے اور ان جرائم کو بے نقاب نہ کرنے پر سزا ملنی چاہیے۔ ان اداروں نے کبھی ماڈرن انٹیلی جنس گیجٹس ، انویسٹی گیشن ٹیکنیک اور دوسرے ہتھیاروں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور ٹیکس ایویژن کا پتہ لگانے کی کوشش ہی نہیں کی۔

ان ایجنسیوںمیں کام کرنے والے افراد کو تربیت دینی چاہیے اور انہیں بہترین قسم کی معلومات والی کتابیں پڑھنے کا حکم دیا جانا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ The Infiltrators کتاب کا مطالعہ کریں جو رابرٹ مازور نے تحریر کی ہے جو آئی آر ایس کے انڈر کور ایجنٹ تھے۔ دی یو ایس کسٹمز اینڈ ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (DEA) نے بہت کامیابی سے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا منی لانڈرنگ کے خلاف آپریشن مکمل کیا۔ اس نے نہ صرف ہمت اور خلوص کا مظاہرہ کیا بلکہ سیاسی پریشر اور بیوروکریٹ کی طرف سے پیش کی گئی رکاوٹوں کا بھی بہادری سے سامنا کیا۔

یہ بھی پریس میں اکثر سننے میں آتا ہے کچھ پی ٹی آئی لیڈرز بیرون ملک پراپرٹی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اس مقصد کےلیے آف شور کمپنیوں کو استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ ان کا دعوی ہے کہ یہ آف شور کمپنیاں ان کے ٹیکس ریٹرن میں درج ہیں لیکن اصل مسئلہ ملک سے باہر جانے والی دولت کا ہے جس کا ملک کی کیپٹیل انفارمیشن اور انویسٹمنٹ پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بتایا پچھلے چند سال میں پاکستانیوں نے صرف دبئی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اربوں روپے کی انویسٹ منٹ کر رکھی ہے ۔ جب کہ ہماری ٹیکس اتھارٹیز جن میں ایف آئی اے اور فائنانشل انوسٹی گیشن یونٹ شامل ہیں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ عوام کا حق ہے کہ وہ ملک سے باہر انویسٹمنٹ کریں لیکن اس سے پہلے انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کی رقوم قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہیں اور ٹیکس ریٹرن میں ان کا اندراج ہے۔

چونکہ پی پی اور ن لیگ کے نمائندوں کی رقوم سوئس اکاونٹس میں موجود تھیں اس لیے دونوں پارٹیوں نے اپنے حکومت کے دوران سوئس حکومت سے موجود ٹیکس ٹریٹی فار ایکسچینج آف انفارمیشن کے تحت مذاکرات نہیں کیے ۔ اگرچہ یہ معلوم ہے کہ زیادہ تر آف شور کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کسی حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس کے ذریعہ برٹش ورجن آئی لینڈ سے ٹیکس ایکسچینج ایگریمنٹ جیسا معاہدہ کیا جا سکے جو انڈیا نے 2011 میں کیا تھا۔

آج تک سیاستدانوں کی طرف سےسوئس لاء (Foreign Illicit Assests Act (FIAA) of 18 December 2015 ) کے مطابق لوٹی ہوئی رقم اور چوری شدہ ٹیکس کی رقم واپس لانے کےلیے کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی پاکستانیوں کی آف شور کمپنی کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف حکومت ان ٹیکس چوروں کو ایمنسٹی دینے کے چکر میں ہے۔ اپوزیشن نے بھی پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل پیش نہیں کیا جس سے یہ معلوم ہو کہ اپوزیشن کو ان تمام متحد لٹیروں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی خواہش رکھتی ہے۔

پاکستان میں لگاتار بننے والی حکومتیں ٹیکس میں بے ایمانی کرنے والوں اور لٹیروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں جو ایک بدقسمتی کی بات ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی طرف سے ذاتی طور پر لوٹی ہوئی رقم واپس لانے اور اد ا نہ کیے گئے ٹیکس کو نکلانے کی کوششیں بھی ناکارہ ثابت ہوئی ہیں۔سپریم کورٹ نے 2012 اور 2013 میں کچھ اشخاص کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشنز کوناقابل سماعت قرار دیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ میں پیش کی گئی پٹیشنز کا بھی یہی حال ہوا۔ دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے 4 جولائی 2011 کو رام جیٹھ ملانی بمقابلہ بھارت [(2011) 8 SCC 1 = 2011 PTR 1933(S.C.Ind)] کے بارے میں دیے گئے ایک تاریخی فیصلے میں ایک سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے قیام کا حکم دیا جس کو حکومت کی طرف سےسیاست دانوں کے بیرون ملک موجود کالے دھن کے بارے میں تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا ۔ کانگریس حکومت نے اس فیصلے پر عملد رآمد نہیں کیا اور اس پر نظر ثانی کی اپیل کر دی۔ البتہ مودی کی حکومت نے مئی 2014 میں حکومت میں آتے ہی فوری طور پر سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے قیام کا فیصلہ کیا اور سوئیزر لینڈ سے مذاکرات شروع کیے۔ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ بھارت کے اس اہم قدم کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی ایسا ہی قدم اٹھائے گی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *