محصور جمہوریت

منیب فاروق

muneeb farooq

افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سچ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک ہی وقت میں جمہوریت کو استعمال بھی کیا جاتا ہے اور اس کی مخالفت بھی کی جاتی ہے۔ یہ ایسا ملک بن گیا ہے جہاں ہر طرح کے جمہوری لیڈران کو جمہوری روایات کا دفاع کرنے پر فخر سے ذلیل کیا جاتا ہے۔ جمہوریت پر تنقید کی وجہ اور لاجک یہ بتائی جاتی ہے کہ سیاستدان کرپٹ ، بے ایمان اور نااہل ہیں۔ یہ وجہ خود سے ہی غلط ہے کیونکہ کرپشن اور نا اہلی کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جو لوگ جمہوری طریق انتخاب کی کمزوریوں پر روشنی ڈالنے کےلیے ہر وقت تیار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ یہ یاد رکھیں کہ ڈکٹیٹر حکمران بھی کرپٹ ہی واقع ہوئے ہیں جو کسی قسم کے احتساب کا سامنا نہیں کرتے۔ یہ بات بھی مضحکہ خیز ہے کہ 7 دہائیوں کے بعد بھی ہم فنکشنل جمہوریت کے سٹرکچرل ایشوز میں کھوئے ہوئے ہیں جو سویلین کی نگرانی میں آئین کی تائید کے ساتھ چلائی جاتی ہے۔ ہم اس غلط فہمی کا شکار رہے ہیں کہ ہم بالغ ہو چکے ہیں اور ہمارا برا ماضی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

آج بھی ہم ادارتی جمہوریت کا احترام کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے سےقاصر ہیں۔ یہی چیز ہم نے کچھ عرصہ قبل اپنی آنکھوں سے دیکھی جب آئی ایس پی آر نے ٹویٹر پر ایک منتخب وزیر اعظم کے نوٹیفیکیشن کو ہٹ دھرمی سے مسترد کرنے کا اعلان کیا ۔ یہ نوٹیفکیشن ڈان لیکس کی تحقیقات کے بارے میں جاری کیا گیا تھا۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ان میں سے کوئی بھی اداراہ قابل تنقید نہیں ہے۔ لیکن اس تنقیدی ٹویٹ میں اختیار کیا گیا رویہ، زبان اور الفاظ بہت کڑوے تھے۔

یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ نیشنل سکیورٹی کے معاملے میں ہماری ملٹری سویلین حکومت پر اعتبار نہیں کرتی ۔ عام طور پر سویلین حکمرانوں کو بد دیانت اور ملک کے غدا ر سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان سیاستدانوں کو سٹریٹجک معاملات میں ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کی تاریخ میں زیادہ تر تباہ کن اقدامات فوجی حکومت کے دور میں کیے گئے ہیں۔ اس میں سیٹو اور سینٹو میں شریک ہو کر امریکہ کی گود میں بیٹھنے، اپنے ملک کو افغان جہاد کےلیے پیش کرنے اور بغیر کوئی سوال کیے امریکیوں کو اپنے فوجی اڈے دینے کے واقعات شامل ہیں۔ بہت سے واقعات میں سے یہ چند ایک مثالیں ہیں۔

اس لیے ہر بار پاکستانی سیاستدانوں کو سیکیورٹی رسک قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دوسری طرف سیاستدانوں کو ان کی خود غرضی اور بد دیانتی پر تنقیدکا ضرور نشانہ بنایا جانا چاہییے۔ وہ اپنے مفادات کو تحفظ دینے میں مصروف رہتے ہیں اور الیکٹوریٹ کے سامنے احتساب کے لیے پیش نہیں ہوتے۔ وقت آ گیا ہے کہ ایلیٹ طبقہ یہ پہچان لے کہ وہ صرف گڈ گورننس سے ہی عزت کما سکتے ہیں۔ البتہ اگر وہ صحیح طریقے سے حکومت نہیں چلاتے تو بھی پانچ سال بعد ووٹ کے زریعے انہیں مسترد کیا جانا چاہیے۔ ملک کی نیشنل سکیورٹی کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار ایک منتخب وزیر اعظم کو ہے چاہے وہ جس پارٹی کا علاقہ سے تعلق رکھتا ہو۔

ایک منتخب وزیر اعظم کو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر آئین کی روح کے مطابق سپورٹ ملنی چاہیے۔ کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو فوج کے مقابلے میں کم محب وطن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک ملک کے بڑے اہم ادرے یعنی فوج، سویلین اور میڈیا، سویلین سپریمیسی کو احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تب تک ہماری جمہوریت محصور رہے گی۔ جب تک تاریخی سوچ، یادداشت اور مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوتا تب تک نا خوشگوار تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی رہیں گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگلے چند سالوں میں اتنی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *