ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کیس کی تفتیش کی اہلیت نہیں رکھتے، عدالت کے ریمارکس

111

لاہور۔ ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ طلعت محمود نے گردہ سکینڈل کی سماعت کے دوران مقدمہ کے ایک ملزم کو پیش نہ کرنے پر قرار دیا کہ ایف آئی اے کے متعلقہ تفتیشی افسر کیس کی تفتیش کی اہلیت نہیں رکھتے، گزشتہ روز عدالت نے خاتون سمیت 3گواہوں کے اعترافی بیانات قلمبند کر لئے ہیں۔

جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے ملزم ڈاکٹر فواد، ڈاکٹر التمش اور آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ عمر دراز کو مقدمہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند کروانے کے لئے پیش کیاگیا، عدالت نے مقدمہ کے چوتھے ملزم شہزاد کو پیش نہ کرنے پر ایف آئی اے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایف آئی اے کی ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزم چھوٹ جائیں گے، گردہ سکینڈل کی بروقت تفتیش مکمل نہ کرنا ایف آئی اے کی نالائقی ہے، لگتا ہے ایف آئی اے گردہ سکینڈل کے ملزموں سے مل گیا ہے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایف آئی اے ملزموں سے دوستوں جیسا سلوک کیوں کر رہا ہے، ملزموں کے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود ایف آئی اے ملزموں کیخلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر رہا،ایف آئی اے کی جانب سے پیش کئے گئے مقدمہ کے گواہوں عادل عظیم، سید عامر نوید اور ناہید اختر نے بیان ریکارڈ کروایا، عادل عظیم نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فواد کے غیر قانونی طور پر گردہ نکالنے کی وجہ سے والدہ کا انتقال ہوا، کیس کے گواہ سید عامر نوید نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ملزمان ڈاکٹرز نے گردے کے عوض بھاری معاوضے کی آفر کی اور اسے آنکھیں بند کر کے ڈاکٹر کے کلینک تک لے جایاگیاجہاں گردہ نکالا گیا.

کیس کی تیسری گواہ ناہید اختر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزمان ڈاکٹرز اس کا گردہ بھی نکال کر فروخت کر چکے ہیں،ڈاکٹر فواد نے علاج معالجے کے بہانے گردہ نکالا جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل کی عدالت میں ملزم ڈاکٹر فواد کی جانب سے عدالت میں ملزم ڈاکٹر کا علاج معالجہ کروانے کی درخواست دیتے ہوئے کہا گیا کہ ڈاکٹر فواد کے گھٹنے میں لوہے کی پلیٹس لگی ہوئی ہیں دوران تفتیش ملزم کا گھٹنا سوج چکا ہے ،ایف آئی اے کو ملزم کا علاج معالجہ کروانے کاحکم دیا جائے جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو ملزم ڈاکٹر فواد کے میڈیکل چیک کرانے سے متعلق قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے دیاہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *