ڈان لیکس پر بے باک تجزیہ

ایم  ضیا ء الدین

M zia ul din

ڈان لیکس معاملے میں تین بڑے کھلاڑی ملوث ہیں۔ لیکن خبر شائع ہونے کے بعد سے یہ معاملہ سول ملٹری تعلقات کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ فوج کو لگتا ہے کہ سویلین حکومت نے جان بوجھ کر یہ خبر نہ صرف شائع کروائی بلکہ اخبار کے پہلے صفحے پر اسے جگہ دلوائی۔ بات یہ نہیں ہے کہ حکومت اس طرح کی کہانی نہیں گھڑسکتی۔ ہر حکومت میڈیا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی ہے اور یہی حال نواز حکومت کا بھی ہے۔ لیکن ڈان exclusive میں ایسا بلکل نہیں ہوا۔ یہ اخبار اخلاقیات کی حدود کا خیال رکھتا ہے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کہ میں اس ادارے میں 13 سال کے عرصہ تک کام کر چکا ہوں ۔

یہ ادارہ کسی ملازم کو اخلاقیات کی حدود پھلانگنے کی اجازت نہیں دیتا۔ پہلی بات یہ ہے کہ کوئی بھی سٹوری جو اتنی اہمیت کی حامل ہو صرف اس لیے فرنٹ پیج کا حصہ نہیں بنائی جا سکتی کہ اسے ایک بہت ہی مستند صحافی سرل المیڈا نے تیار کیا ہے۔ اس قدر اہمیت کی ہر سٹوری پہلے ایڈیٹر کے سامنے جانچ پڑتا ل کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ میرا یہ پورا یقین ہے کہ اس سٹوری کو شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹر کا تھا جو انہوں نے پوری تسلی اور تصدیق کے بعد کیا تھا۔ رپورٹر نے ایڈیٹر کو مکمل طور پر مطمئن کیا ہو گا کہ اس نے اس کے لیے کن اشخاص کا انٹرویو لیا اور کن افراد سے اس کی تصدیق کی۔

جب اس بارے میں ملٹری آفیشلز سے پوچھا گیا تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ غور کیجیے کہ خبر شائع ہونےسے قبل ان کو پوچھتے وقت یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ اس خبر کی تصدیق یا تردید کریں لیکن انہوں نے ایک بھی آپشن کا انتخاب نہیں کیا اور خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ ساتھ ہی انہوں نے پبلشر اور ایڈیٹر کو ااس چیز سے خبردار کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ ایسے کڑے وقت میں ا س طرح کی کہانی چھپوانا ملک کی نیشنل سکیورٹی کے لیے مناسب قدم نہیں ہو گا۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ملٹری آفیشلز نے وہ کیوں نہ کیا جو انہیں خبر شائع ہونے سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔

اور یہ سمجھنا اور بھی مشکل ہے کہ فوج نےخبر شائع ہونے اور حکومت کی طرف سے خبر کی تردید کے بعد اس چھوٹے سے معاملے کو پہاڑ جیسا مسئلہ کیوں بنا دیا ہے۔ اس پورے معاملے اور سول ملٹری عدم اعتماد کی وجہ سے پاکستان کے سکیورٹی معاملات پر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن انٹرنیشنل فرنٹ پر اس کا پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔ ایک کمیٹی بنائی گئی جس کا کام اس خبر کو لیک کرنے والے کی کھوج لگانا اور خبر کو شائع ہونے سے روکنے میں کردار ادا نہ کرنے والے افراد کو سزا کے طور پر عہدوں سے برطرف کرنا تھا۔ اب تک تین افراد کو قربانی کا بکرہ بنایا جا چکا ہے لیکن معاملہ جوں کا توں ہے۔

ایڈیٹر کی طرف سے اس خبر کو شائع کرنے کی اجازت دینا ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ خبر عوامی مفاد کےلیے تھی اور اس کا نیشنل سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس خبر میں ایسا کچھ نہیں تھا جو پاکستانی اور دوسرے ممالک کے لوگ پہلے سے نہ جانتے ہوں سوائے اس کے کہ اس میں یہ بتایا گیا کہ سویلین حکومت نے فوج کے ساتھ اس معاملے میں اختلاف کیا ہے۔ شاید یہی وہ چیز تھی جو اسٹیبلشمنٹ عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔ لیکن اس خبر سے تاریخی فالٹ لائن کا تعین ہو گیا جو دہشت گردی کے معاملے میں فوج اور سویلین حکومت کے بیچ پائی جاتی ہے۔

اس خبر نے مستقبل میں دونوں اداروں کے بیچ ملک کے درپیش مسائل سے نمٹنے میں تعاون کے لیے ایک صحیح فریم ورک کا بھی تعین کر دیا ہے ۔ جن لوگوں کو ڈان کے کلچر اور پروفیشنلزم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ان کے لیے یہ قدرتی امر ہے کہ وہ اس خبر کو ایک چال قرار دیں۔ جہاں تک میرا سوال ہے، میرے لیے اس بات پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ ڈان جیسا اخبار حکومت یا کسی اور طاقتور ادارے کی چال میں آ جائے ۔ چونکہ ڈان کی خبر ایسے ذرائع پر مشتمل تھی جو اپنا نام ظاہر نہیں کر نا چاہتے تھے اس لیے یہ بھی ایڈیٹر کا فیصلہ تھا کہ وہ اس خبر کو شائع کریں یا نہ کریں۔

مجھے یقین ہے کہ ایڈیٹر نے خبر کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے شائع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ عوامی مفاد میں ہے ا س لیے اسے شائع کرنے سے پہلے انہوں نے خبر کو ایک سے زیادہ بار دیکھا اور معلومات کی تصدیق کرنے کے بعد اسے شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ دنیا کے سب سے مستند اخبارات کو بھی تقریبا ہر روز وضاحتیں دینی پڑتی ہیں ۔ یہی حال ڈان کا بھی ہے۔ ڈان کے پاس Reader’s Editor بھی موجود ہیں جو کوئی اور نہیں بلکہ مسٹر محمد علی صدیقی ہیں جو ملک کے سب سے سینئر صحافی اور پروفیشنل انسان ہیں۔

Image result for dawn leaks

ایڈیٹر ٖٖظفر عباس کو بھی میں 1980 کے اوائل سے جانتا ہوں۔ ان کی صلاحیتوں اور دیانت پر مجھے زرہ برابر شک نہیں ہے۔ وہ بی بی سی کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ ایک اچھے صحافی ہیں اور صحافت کے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ ذرائع کو تحفظ فراہم کرنا صحافت کا ایک ایسا اصول ہے جو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی شخص کی پہچان کو ظاہر نہ کرنے کے پیچھے ایک رپورٹر کو اس چیز کا تعین کر لینا چاہیے کہ کہیں وہ اس خبر سے غلط مقاصد کے حصول کی کوشش تو نہیں کر رہا۔

رپورٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے نامعلوم ذرائع کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچائے۔ کچھ ایسے عناصر بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذات، طبقہ ، حکومت یا ریاست کے ایجنڈا کو فروغ دینے کے لیے یہ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔ ایک رپورٹر کے لیے ایسے عناصر سے محفوظ رہنا بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی خبروں کو 'من گھڑت' کہا جاتا ہے اور صحافیوں کو چاہیے کہ اس طرح کی رنگ برنگی معلومات اور دلچسپی رکھنے والے ذرائع سے دور رہیں۔ لیک کی گئی کلاسیفائیڈ ڈاکیومنٹ جس کا انکشاف کرنے والا شخص مشکوک ہو، کے معاملے میں رپورٹر کو چاہیے کہ وہ میڈیا آرگنائزیشن کے لیگل ایڈوائز سے مشاورت کرے اور اس مقصد کےلیے ایڈیٹر کی اجازت لے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ڈان انتظامیہ نے ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد یہ 'خصوصی' خبر شائع کی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *