فحش فلمیں دیکھنے والوں کے بارے میں سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ پیروں تلے سے زمین نکل جائے !

111

گلاسگو ۔  انٹرنیٹ کے ذریعے فحش مواد کی فراوانی کے بعد بظاہر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ایک جنسی طوفان نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے مگر سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں یہ چشم کشا انکشاف کیا ہے کہ فحش مواد کی فراوانی دراصل صحت مند جنسی رویے کی موت ثابت ہورہی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گلاسگو یونیورسٹی نے تقریباً اڑھائی ہزار نوجوانوں پر ایک تحقیق کی ہے جس کے دوران 16 سے 25 سال عمر کے نوجوانوں کے جنسی رویے اور فحش مواد دیکھنے کی عادات کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔ سائنسی جریدے ایڈولیسنٹ ہیلتھ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ فحش مواد کے شوقین نوجوانوں میں جنسی کمزوری، جنسی تعلق سے بیزاری اور جنسی صلاحیت سے مکمل محرومی جیسے مسائل حیران کن حد تک عام پائے جارہے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ فحش مواد کے عادی نوجوانوں میں سے تقریباً ایک تہائی ایسے ہیں کہ جو ازدواجی فرائض ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک صورتحال کی بنیادی وجہ فحش مواد کے عادی نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل ہیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ فحش فلمیں دیکھنے والے نوجوانوں کا حقیقی جنسی زندگی سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ فلموں کے پرتشدد، غیر فطری اور غیر حقیقی مناظر کی وجہ سے نوجوانوں کے جنسی تصورات متاثرہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی جنسی صلاحیت کے بارے میں احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جو بڑھتے بڑھتے نفسیاتی عارض کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان شادی کے بعد بھی فحش فلموں کے بغیر اطمینان حاصل نہیں کرپاتے اور حقیقی شریک حیات کے حقوق ادا کرنے میں نفسیاتی مسائل درپیش رہتے ہیں، جو بالآخر تشویشناک جسمانی مسائل کی صورت بھی اختیار کرجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تشویشناک مسئلے کا نتیجہ ہم گھریلو جھگڑوں، تلخیوں اور حتیٰ کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل سے دوچارنوجوانوں کے لئے صحت مند زندگی کی جانب لوٹنا کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں۔ اگر یہ فحش مواد سے تائب ہوجائیں تو اپنی زندگی میں بہت جلد بہتری اور مسرتیں دیکھنا شروع کردیں گے اور اگر کسی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے تو اسے کسی اچھے ماہر نفسیات یا ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *