بین الشعبہ جاتی تحقیق

Afshan Huma

فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں ہونے والی پہلی بین الشعبہ جاتی کانفرنس کے آخری روز میں نے چار مختلف شعبہ ہائے تدریس سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک نشست میں گفگتگو کی۔ ہم پانچ افراد دنیا کی نامور یونیورسٹیز سے سند یافتہ ہیں اور سب کی تحقیق ق تعلیم مختلف شعبوں میں ہے۔ اس گفتگو میں ہم سب کی مشترکہ رائے یہ تھی کہ اس دور اور آنے والے ادوار میں بین الشعبہ جاتی تحقیق کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم سب اس بات پر بھی اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں اور ان میں موجود فیکلٹیز بین الشعبہ جاتی تحقیق کے لیے نہ تو تیار ہیں نہ ہی اس پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

میں نے اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے جن پانچ نکات کو بیان کیا ان میں سب سے پہلے نصاب کی منصوبہ بندی ہے۔ ہمارے ہاں میٹرک اور اس سے آگے جس طرح نصاب مرتب کیا جاتا ہے وہ بین الشعبہ جاتی سوچ ہی کو پروان نہیں چڑھنے دیتا۔ میں نے جب میٹرک کیا تو چھٹیوں کے دوران میری کزنز انگلینڈ سے آئی ہوئی تھیں، انہوں نے مجھے پوچھا کہ میرے پسندیدہ مضامین کونسے ہیں میں نے یک لخت کہا میتھس اور بائیالوجی۔ انہوں نے کہا کہ واہ یہ تو بڑا اچھوتا مجموعہ مضامین ہو گا۔ لیکن وہ وقت اور آج ۲۰۱۷ تک بھی ہم ایسے اچھوتے مجموعے اپنے تعلیمی نظام میں پیش نہیں کر پائے۔ ہم نے پری انجنئرنگ اور پری میڈیکل کو دہ بند ڈبوں میں ایسا پیک کیا ہے کہ آج تک ان ڈبوں سے باہر نکل کر سوچنے پر پابندی عائد ہے۔ ہم نے آرٹس کو سائنسز اور سوشل سائنسز سے جدا رکھا ہے، سائنسز کی تو دنیا الگ ہے اور شعبہ تعلیم اس میں آفر کیے جانے والے پروگرام تو سب سے جدا ہیں۔ ہم ایم فل پی ایچ ڈی کی سطح ہر بھی سکول کی طرح نصاب مرتب کرتے ہیں ایک سپیشلائزیشن کا محقق کسی دوسرے شعبہ کے مضامین بھی نہیں پڑھ سکتا۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ پی ایچ ڈی کے طالب علم کو بھی کبھی بی ایس سی یا ایم ایس سی کا کورس لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

میرا دوسرا نکتہ ہے مشترکہ تدریس اور مشترکہ تحقیق سے گریزاں اساتزہ۔ یونیورسٹیز کے اساتزہ تمام دنیا میں مشترکہ تدریس و تحقیق کا ماڈل اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے میں قطعا" شرم محسوس نہیں کرتے کہ ان کے پاس مکمل علم نہیں اور انہیں تدریس کے دوران ایک دوسرے کی مدد درکار ہے۔ میں نے جب پی ایچ ڈی کا منصوبہ تیار کرنا تھا تو میری ایڈوائزری کمیٹی میں چار مختلف شعبہ جات کے پروفیسر تھے۔ مشترکہ تحقیقی مشاورت ہی ہمیں بین الشعبہ جاتی تحقیق کی طرف لے جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں تو ہماری اجارہ داری کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ میرے ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم کسی اور سے مشورہ کرتا نظر آجائے تو مجھے اس قدر پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ نہ پوچھئے۔ کوئی میرے ساتھ شراکت میں تحقیق کا خیال ظاہر کرے تو مجھے اپنا آپ فورا" معتبر نظر آنے لگتا ہے۔۔۔ایسے ماحول میں بین الشعبہ جاتی تحقیق پر صرف گفتگو ہی کی جاسکتی ہے۔

تیسرا مسئلہ بھی اوپر کے ہی دونوں مسائل سے جڑا ہوا ہے اور وہ ہے  بین الشعبہ جاتی تحقیق

کی منظوری اور جائزہ۔ یونیورسڑیز میں ہم جس سڑرکچرلزم کا شکار ہیں اس نے ہمارے لیے ہر قدم پر آسانی کی بجائے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ میرے لیے ان تمام اتھاریٹیز میں سے بین الشعبہ جاتی تحقیق کے منصوبوں کو گزارنا اور ان کو منوانا کہ ایک سے زائد شعبہ کی تحقیق مشترکہ ہو سکتی ہے جوئے شیر لانے کے برابر ہو سکتا ہے اور پھر سوال یہ اٹھے گا کہ آپ اسے ڈگری کس پروگرام کی دیں گے۔ اس تحقیق کا جائزہ ایک الگ مسئلہ ہو گا کیونکہ میں تو اپنی ایپرووڈ لسٹ ہی سے ممتحن چن سکتی ہوں اس سے باہر اگر کسی کو یہ تحقیق بھیجی جانی ہے تو مزید منظوری اور وقت درکار ہو گا۔ اس قوم کی سرشت میں اس وقت نہ تو توکل نظر آتا ہے نہ صبر اور آسان ہی نہیں شارٹ کٹ ہمارا بہترین رویہ ہے، لہذا تمام محققین ان صبر آزما مرحلوں سے بچتے بچاتے ایک ہی صراط مستقیم پر چلنا بہتر سمجھتے ہیں

چوتھا مسئلہ ہے بین الشعبہ جاتی تحقیق کی پبلیکیشن۔ ہر جرنل ایک مخصوص شعبہ کے مراسلے اور مکالے پبلش کرتا ہے۔ اور پھر صرف اسی شعبہ سے منسلک لوگ اسے پڑھتے اور اس سے  مستفید ہوتے ہیں۔ چند ایک جرنلز نے کوشش کر رکھی ہے کہ وہ بین الشعبہ جاتی تحقیق کے جرنل بنے رہیں تو انہیں باقاعدہ تحقیر کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ میرے ایک سٹوڈنٹ نے سکول سیکیوریٹی سسٹم اور اس کے بجٹ پلانز پر کام کیا ہے اور اب ہم اس سوچ میں ہیں کہ اس تحقیق سے نکلنے والے مراسلات کو کس شعبہ کے جرنلز میں بھیجا جانا چاہئے۔

پانچواں مسئلہ جس کا حل ہم نے علامہ اقبال اوپن یونیوورسٹی اور فاطمہ جناح یونیورسٹی پر بین الشعبہ جاتی کانفرنسز کی صورت میں پیش کر دیا ہے وہ تھا بین الشعبہ جاتی تحقیق کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا۔ علامہ اقبال یونیورسٹی کی پہلی قومی بین الشعبہ جاتی تحقیق کی کانفرنس میں۴۲ مختلف شعبہ جات سے ۲۸۰ مکالہ جات پیش کیے گئے اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کی کانفرنس میں ۱۶ شعبہ جات سے ۶۰ کے قریب مکالہ جات پیش کیے گئے۔ مختلف شعبہ ہائے تدریس سے منسلک نے نہ صرف دوسرے شعبوں کے مکالہ جات سنے بلکہ مشترکہ تحقیق کے امکانات پر گفتگو اور بیانیہ کی ابتدا ہوئی۔

مجھے امید ہے کہ ان کانفرنسز اور ان کے نتیجے میں پیش کی جانے والی ترجیحات زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیز تک جائیں گی اور آنے والے ادوار میں ہم جان ڈیوی کی ایک صدی پرانی تھیوری کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کین رابنسن کے نظریات کو سمجھ پائیں گے۔ ان دونوں کے ہاں مشترکہ بات یہ ہے کہ تعلیم کو ڈبوں میں بند کرنے کے خلاف ہیں۔ اور دونوں میرے پسندیدہ مفکرین ہیں۔ اللہ ہماری مدد فرمائے اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بین الشعبہ جاتی تحقیق کی راہیں ہموار کر سکیں۔ آمین!

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *