اب باری فواد حسن فواد کی ہے؟

photo-nusrat-javed-sb-6-2

وطنِ عزیز میں جب بھی آئین کو معطل کیا جائے تو اعلیٰ عدالتوں کو ”نظریہ ضرورت“ کی اہمیت یاد آجاتی ہے۔ اپنے وقار اور اختیار کے ضمن میں اگرچہ وہ بہت حساس ہوا کرتی ہیں۔ ہماری حالیہ تاریخ میں یوسف رضا گیلانی نام کا ایک وزیر اعظم تھا۔ اسے اس عہدے پر فائز کرنے والے شخص پر الزام تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ کی وزارتِ عظمیٰ کے دو مختصر ادوار میں حکومتی اختیارات کو بے دریغ استعمال کرتے ہوئے کمیشن اور کک بیکس وغیرہ کے ذریے مبینہ طورپر کروڑوں روپے جمع کئے تھے۔ ان رقوم کو ڈالروں میں تبدیل کرکے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں رکھوادیا گیا۔
”چیف“ کے بے شمار جاں نثاروں کی جدوجہد کی وجہ سے مگر جب ہماری ریاست ”ماں کے جیسی“ بنی تو افتخار چودھری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر بحال ہوئے۔ ان کے ایک ہونہار فرزند ارسلان بھی تھے۔ اس بہت ہی ذہین نوجوان کو مٹی کو سونے میں بدلنے کا ہنر عطا ہوا تھا۔ نت نئے خیالات سوچ کر انہیں استعمال کرنے کی لگن میں دن رات مشقت کرنے والے محنتی لوگوں کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے چھٹیاں بھی درکار ہوتی ہیں۔ وہ یورپ کے مختلف ممالک میں چند دن رہ کر خود کو Chillکرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ارسلان بے چارہ بھی اکثر ایسی چھٹیوں پر جایا کرتا تھا۔
اس کے ابو مگر اپنے تئیں اس بارے میں بہت پریشان رہے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم کے دفتر میں بٹھانے والے آصف علی زرداری نے مبینہ طورپر کروڑوں ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں چھپارکھے ہیں۔ ریاست جبکہ ان کے چیف جسٹس کے عہدے پر بحالی کے بعد ”ماں کے جیسی“ بن چکی تھی۔فیصلہ ہوا کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں رکھی رقوم کا سراغ لگایا جائے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان کے لئے ضروری تھا کہ وہ سوئس حکومت کو ایک سرکاری چٹھی لکھ کر دریافت کریں کہ ان دنو ں سربراہِ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے کونسے بینکوں میں کتنی رقوم رکھی ہوئی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے وہ چٹھی لکھنے سے مگر انکار کردیا۔ یہ انکار توہین عدالت قرار پایا۔ ”حیف ہے اس قوم پر“ کی گردان کے ساتھ موصوف کو ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ اس سزا کے بعد پانچ سال تک یوسف رضا گیلانی قومی یا صوبائی اسمبلی کی کسی نشست پر انتخاب لڑنے کو نااہل بھی ہوگئے۔ یوسف رضا گیلانی کی فراغت کے بعد آنے والے وزیر اعظم نے ”وہ چٹھی“ بھی بالآخر لکھ ہی دی۔ سوئٹزرلینڈ میں مبینہ طورپر چھپائی رقوم کا مگر آج بھی سراغ نہیں مل پایا ہے۔ نہ ہی وہ رقوم قومی خزانے میں واپس آئی ہیں۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کا وقار اور اختیار مگر ثابت ہوچکا ہے۔
اس وقار اور اختیار ہی کی بدولت ان دنوں ایک اور وزیر اعظم بھی ”تلاشی“ دے رہا ہے۔”گاڈ فادر“ قرار دئیے اس وزیر اعظم کو اب ایک چھ رکنی تفتیشی ٹیم کو بتانا ہوگا کہ لندن میں چند قیمتی فلیٹس کب اور کیسے خریدے گئے تھے۔ ان سوالات کا تسلی بخش جواب فراہم نہ کرنے کی صورت میں نواز شریف بھی یوسف رضا گیلانی بن جائیں گے۔
ایک نہیں تین بار وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھنے والے نواز شریف مگر خوش نصیب ہیں۔ان کے چاہنے والے انہیں اپنے درمیان دیکھتے ہیں تو فرط وانبساط سے پکار اُٹھتے ہیں:”دیکھو دیکھو کون آیا؟“ بلھے شاہ کی ”کون آیا پہن لباس کڑے“والا ماحول بن جاتا ہے۔
”دیکھو دیکھو کون آیا“ کے جواب میں ”شیر آیا۔شیر آیا“ کے نعروں سے سرشار ہونے والے نواز شریف مگر ان دنوں بہت مشکل میں ہیں۔6اکتوبر2016ءکی صبح انگریزی روزنامہ ڈان میں ایک ”خبر“ چھپی تھی۔ یہ ”خبر“ قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی۔ ریاستی اہلکاروںکی ایک بھاری بھر کم ٹیم نے کئی مہینے لگاکر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہماری سلامتی سے جڑے مفادات کو نقصان پہنچانے والی یہ ”خبر“ اخبار میں کیسے چھپی۔ ریاستی اہل کاروں کی اس بھاری بھر کم ٹیم نے کئی مہینوں تک پھیلی تفتیش کے بعد اس ضمن میں کیا دریافت کیا اس کے بارے میں ہم بدنصیب لوگوں کو ککھ خبر نہیں۔ پرویز رشید مگر 6اکتوبر2016ءوالی خبر چھپنے کے چند ہی دن بعد وزارتِ اطلاعات سے فارغ کردئیے گئے تھے۔ تفتیشی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا تو طارق فاطمی اور راﺅتحسین کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ وہ دونوں اس بات پر البتہ بضد ہیں کہ ان کا مذکورہ خبر کے چھپنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
وہ دونوں واقعتا اس ضمن میں قصور وار ہیں یا نہیں۔اس سوال کا جواب مگر ہمارا کوئی عدالتی یا ریاستی فورم فراہم کرنے کو تیار ہی نہیں۔ ان دونوں کی فراغت کو اگرچہ ایک ٹویٹ کے ذریعے ”ناکافی“ قرار دیا گیا تھا۔ ایک نہیں تین بار وزیر اعظم کے دفتر میں پہنچے شخص کی طرف سے جو نوٹی فیکشن جاری ہوا تھا اسے بھی Rejectکردیا گیا۔ ہفتے کی شام سے اب افواہیں اسلام آباد میں یہ گرم ہیں کہ پرویز رشید،طارق فاطمی اور راﺅ تحسین کی ”قربانی“ کے بعدباری فواد حسن فواد کی ہے جو پاکستان کے آئین کے مطابق ”چیف ایگزیکٹو“ کہلاتے صاحب کے پرنسپل سیکرٹری ہیں۔
شاید ہم کبھی بھی نہ جان پائیں کہ موصوف کا 6اکتوبر2016ءکی صبح چھپی خبر سے کیا تعلق تھا۔ ”دیکھو دیکھو کون آیا“ والا سوال مگر گج وج کے اٹھایا جاتا رہے گا۔ پرویز رشید اور طارق فاطمی جیسے وفاداروں کی قربانیاں ہوجانے کے بعد بھی جواب اس سوال کا ”شیر آیا۔شیر آیا“ ہی رہے گا۔ خواجہ آصف کی متعارف کروائی ”شرم اور حیا“ یہ نعرہ لگانے والوں کو یاد نہیں آئے گی۔
مختصر مگر ٹھوس بات ہے تو صرف اتنی کہ 6اکتوبر2016ءکی صبح انگریز روزنامہ ڈان میں ایک ”خبر“ چھپی تھی۔ یہ ”خبر“ قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث قرار پائی۔ وہ اخبار تک کیوں اور کیسے پہنچی؟ اس سوال کا جواب ہم کبھی جان نہیں پائیں گے۔ ”دیکھو دیکھو کون آیا“ اگرچہ یکے بعد دیگرے اپنے وفاداروں کی قربانیاں دیتے ہوئے اپنے عہدے کو بچانے میں مصروف رہیں گے۔ ان کی اس عہدے پر موجودگی اگرچہ ”جمہوریت بچ گئی“ والا واہمہ بھی برقرار رکھے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *