اندھیرنگری

Image result for evolution of man
 ہم کن حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں ؟ ہم کس نہج پر چل پڑے ہیں ؟ اور ہم کیا چاہتے ہیں ؟ اس طرح کے بے شمار سوالات مرے ذہن میں اس وقت گونج رہے ہیں ، میں انسان ہوں ، عقل اور سمجھ رکھتی ہوں اور اچھے برے کی تمیز ہے اور مری طرح آج کل کے بچوں کو بھی عقل اور سمجھ ہے جو اپنا اچھا برا سمجھتے ہیں ، ہم اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے ہزار بار سوچتے ہیں کہ یہ کریں گے تو کیا ہو گا یہ نہیں کریں گے تو کیا ہو گا ، اس کام کے ہماری زندگی پہ کیا اثرات ہوں گے مرے بچوں مرے گھر والوں پہ کیا اثرات ہوں گے اور اسی طرح کے چھوٹے سے چھوٹے اقدام سے پہلے مستقبل کی پوری منصوبہ بندی کرتے ہیں تو ہم دوسروں کے معاملے میں اس قدر لا پروا کیوں ہو جاتے ہیں ،ہم کیوں سوچنا بھول جاتے ہیں ، ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ کرنے سے فلاں کی زندگی پہ کیا اثر ہو گا اس کے بچوں کی زندگی پہ کیا اثر ہو گا اس کے مستقبل پہ کیا اثر ہو گا ، ہماری ساری سمجھ ساری عقل ساری منصوبہ بندی صرف اپنے لیے ہی کیوں ہے  ، ہر آدمی کا اپنا گھر ہی اپنا وطن اپنی جنت اپنا ایمان اپنا خدا سب کچھ اپنی ذات اور اپنے سے جڑے مفادات ہی کیوں ہوتےہیں ، ہم دوسروں کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے کیا ہم سوچ نہیں رکھتے یا ہمیں پروا ہی نہیں کہ کوئی مرے یا جیے ہمیں صرف اور صرف اپنا سوچنا ہے اور صرف اپنا ہی سوچنا ہے   ہر آنے والے دن کے ساتھ ایک خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کس طرف جا رہی ہے ، نہ سرحدیں محفوظ ہیں نہ ملک نہ شہر اور نہ ہئ گھر ، کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جہاں انسانیت محٖفوظ ہو ، مخصوص طبقہ زندگی کی سہولیات سے محظوظ تو ہو رہا ہے لیکن انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے ، زمین بار بار اپنے باسیوں سے سوال کرتی ہے کہ اے خاک کے پتلے خاک تو اپنی اصل کبھی نہیں بھولتی ، خاک تو صرف خاک ہوتی ہے ، جس شکل میں بھی ڈھالو ڈھل جاتی ہے بس ذرا سا پیار کا نم چاہیے ہوتا ہے اور تو کیسا خاک زاد ہے کہ تو اپنی ہی نسل کے درپے ہو گیا ، تو انسان ہو کے انسان کا دشمن کیسے ہو سکتا ہے ، تو یہ نہیں دیکھتا کہ جہاں میں نے پاؤں رکھا ہوا ہے وہاں اس وقت ایک اور انسان کا سر ہے جو مرے پاؤں رکھنے سے کچلا جا رہا ہے لیکن تمہیں صرف اپنے آگے بڑھ جانے کی ہے ، یہ احساس نہیں یہ بربریت ہے ، ایک کا خون بہتا ہے تو دوسرا جشن مناتا ہے ، صرف طاقت کا غرور ہی وہ شے ہے جس میں خاک ڈوب جاتی ہے اور تو خاک کا پتلا اپنے ہی غرور میں ڈوب رہا ہے -  ایک انسان مرتا ہے تو انسانیت کا قتل ہوتا ہے لیکن اب ایک انسان مرتا ہے کس کو اس غرض ہی نہیں کہ اس کا ہمسایہ بھوکا ہے یا پیٹ بھر کے سویا ہے ، یہ بھی خبر نہیں کہ ساتھ والے گھر میں کسی پر مصیبت ہے خوشی کا شور ہے ، صرف اس بات کا پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں آنے والے دنوں کے لیے کیا کیا محفوظ کرنا ہے ، وہ وقت تھا جب حضرت محمد ص کے صحابہ دوران ِ جنگ پیاسے تھے اور ایک پانی کا پیالہ تھا تو ایک مرتے ہوئے سپاہی نے خود نہ پیا کہ مرے ساتھ والے کو زیادہ پیاس لگی ہے وہ پی لے اسے دیا تو اس نے نہ پیا کہ نہیں مرے ساتھ والے کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہے وہ پیے ، لیکن آج کا دور وہ دور ہے اگر ہمارے سامنے کوئی پیاس سے مر رہا بھوک سے مر رہا ہو یا زندگی کی مجبوریوں سے مر رہا ہو تو اس کی طرف ہم نظر بھئ  کر کے نہ دیکھیں اور پھر ہم خود کو تعلیم یافتہ بھی کہتے ہیں ترقی یافتہ بھی کہتے ہیں ، انسانی حقوق کے علمبردار بھی کہتے ہیں اور خود کو دنیا کی افضل ترین مخلوق بھی کہتے ہیں   جس طرف بھی نظر دوڑائیں کسی طرف انسان نظر نہیں آتے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھیڑیوں کا گروہ گھوم رہا ہے اور وہ بھیڑیے جو خون چوسنے کے لیے ایک دوسرے سے بھی گتھم گتھا ہو رہے ہوتے ہیں ہر مظلوم ااور کمزور انسان اس طرح ان سے خوفزدہ ہوتا ہے جیسے کمزور جانور ، اس معاشرے میں اب وہ سب اقدار ختم ہو چکی ہیں جن کہ وجہ سے یہ مخلوق انسان کہلاتی تھی ، اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کسی اور کے بھلے کے لیے سوچے یا کچھ اقدامات کرے ، اب نہ نظریات رہے ہیں نہ نظریات کی لاج رکھ  نے والے لوگ ، اب نہ سوچ رہی ہے نہ سوچنے والے ، اب روبوٹ پیدا کیے جا رہے ہیں جو صرف اپنے اور اپنی ذات کے متعلق سوچتے اور اپنے مفادات تک محدود رہتے ہیں ، اب نہ گفتگو کی رسم رہی ہے نہ گفتگو کرنے والے ، نہ کوئی بات کرنے والا ہے نہ سننے والا ، نہ روکنے والا نہ ٹوکنے والا ، اب اس دنیا کو میں جنگل بھی نہیں کہہ سکتی کہ جنگل کا بھی کچھ نہ کچھ قانون ہوتا ہے چاہے طاقت کا ہی قانون کیوں نہ ہو لیکن اندھیرے کا کوئی قانون نہیں ہوتا ، اندھیرے میں صرف اور صرف دھوکے بازی اور عیاری کامیاب رہتی ہے جس نے دھوکہ دے دیا وہ کامیاب رہا چاہے کمزور ہویا طاقتور، جس کے پاس جو آیا اس نے وہ ہڑپ کر لیا اور حقدار حق سے محروم رہے ، اب انسانی قدر رہی ہے نہ عزت نہ احترام نہ شرافت نہ امانت نہ دیانت نہ ہی دین اور نہ ہی دنیا ، بس ایک اندھیر نگری بن گئی ہے جو انسانوں کی ہرگز نہیں ہو سکتی ، مشینیں ہیں جو بس بغیر سوچے سمجھے چلی جا رہی ہیں ، اس عہد میں جینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بے حس ہو جاؤ اور اس قدر بے حس ہو جاؤ کہ تمہارے سامنے چاہے کچھ بھی ہوتا رہے تم آنکھیں بند کر کے صرف چلتے رہو اور ایک ایسی ریس میں بھاگے جاؤ جس کا انجام موت پر ہوتا ہے اور اس موت کی ریس میں سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دھن میں پاگلوں کی طرح بھاگ رہے ہیں ، سب جانتے ہیں جو جلدی بھاگا جو جلدی پہنچا وہ جلدی مرے گا اور موت اسے جلدی اچک لے گی لیکن سب پھر بھی ایک تیزی اور بے چینی کے ساتھ آگے بڑھے جا رہے ہیں اور دنیا ہے کہ سب کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ایک ایسا سحر طاری کر چکی ہے کہ سب کو ایک دوسرے کی آنکھوں میں صرف اور صرف ہوس دکھائی دیتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *