کراچی کی گلیوں میں کھیلنے والی "شہزادی"بن گئی

ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ
Dr.raghib
 پاکستان کے شہر کراچی کی عام گلیوں میں کھیل کود کر پرورش پانے والی سعودی میڈیا کی مشہور خاتون تاجرہ و اردو زبان کی مصنفہ و شاعر ہ سمیرہ عزیز نے بلآخر شہزادی کا لقب حاصل کرلیا۔تفصیلات کے مطابق شہزادی کا یہ اعزازی لقب سمیرہ عزیز کو فلپائن کے شاہی خاندان نے دیا ہے۔
پرنسز سمیرہ عزیز کو موصول ‘سلطنت بویان دارلسلام’ کے خصوصی شاہی دعوت نامے کے مطابق 22 اور23اپریل کو شاہی جنرل اسمبلی کا ایک اہم اجلاس فلپائنی شہر جنرل سنٹوس کے ہوٹل سبرینا میں منعقد کیا گیا، جس کا موضوع "بنگسامورو برادری’ میں عدل ا ور باوقار امن و ترقی کے نفاذ کیلئے وفاقیت کے امکانات "تھا۔اس عظیم اجلاس میں بنگسامورو برادر ی کے اعلیٰ عہدیداروں اور فلپائنی حکومتی سطح کے قومی شخصیات نے شرکت کی، جن میں صدارتی مشیر سیکریٹری جیزس ڈوریزا بھی شامل تھے۔
shehzadi
میں ہمیشہ سے اس بات کی متمنی رہی ہوں کہ اپنے وطن سعودی عرب کو میں دنیا سے جوڑوں اور مسکراہٹوں کا پرچار کروں ،لہذا میری اس خواہش کی تشفی کیلئے ‘شہزادی’ کا یہ لقب میرے لئے اہم حیثیت کا حامل ہے۔ میرے لئے زیادہ اہم کامیابی یہ ہے کہ میں’دلوں کی ملکہ’ بن کر راج کروں اور آج میں یہ محسوس کررہی ہوں کہ میں دلوں پر راج کر رہی ہوں ، جس کے باعث مجھے اس شاہی لقب سے عملی طور پرنوازہ گیا ہے۔پرنسزسمیرہ عزیز نے اس موقع ہر کہا کہ ” محبت و عزت ہمیشہ انمول ہوتی ہے۔خوش قسمتی سے میری میڈیا میں ٹھوس خدمات کے باعث مجھے لگاتار محبتوں کا یہ خزانہ ملتا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ مجھے سلطنت بویان کی طرف سے ‘شہزادی’ کے شاہی خطاب سے نوازہ گیا ہے۔میرا ایمان ہے کہ آپ کو جتنی کامیابی و قوت ملتی ہے،آپ کی ذمہ داری اتنی ہی بڑھتی ہے۔ذمہ داریاں و توقعات پوری کرنا میرے نزدیک زیادہ اہم ہیں۔میں اس اعزاز کیلئے شکر گزار ہوں۔ بلاشبہ ،یہ انسانیت، امن و ترقی کو مسکراہٹوں کے ساتھ تقویت دینے کا ایک اہم آغاز ہے”۔پرنسز سمیرہ عزیز کی ولادت سعودی عرب میں ہوئی۔ اردو زبان کو انھوں نے خود سے جوڑے رکھااور ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔بچپن میں ان کی والدہ نے بیوگی کے کٹھن حالات میں ان کی پرورش کی۔کم عمری میں شادی کے بعد سمیرہ عزیزنے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور نہ صرف میڈیا میں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ آج وہ’ سمیرہ عزیز گروپ آف کمپنیز کی چئیر پرسن ‘بھی ہیں۔وہ حقوقِ نسواںپر سعودی عرب میں فلمسازی کرتی رہی ہیں اور اب بالی ووڈ میں فلمسازی کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں،جس کی شوٹنگ وہ جدہ میں ہی کریں گی۔
اس شاہی تقریب میں ان کے خصوصی ملبوسات کراچی میں مقیم پاکستانی ڈیزا ئنر ‘ نیہاں جی’ neha jeeنے ڈیزائن کئے تھے،جو پسند کئے گئے۔ سعودی عرب میں تقریباً ایک ملین فلپائنی تارکین وطن کام کر رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کی تعداد 679,819 کے قریب ہے۔ تیل کی قیمتیں بین الاقوامی منڈی میں گرنے کے باوجود’منیلا ‘میں سعودی ایمبسی سے ہر روز ایک ہزار ورکنگ ویزے جاری کئے جاتے ہیں ۔اردو کے علاوہ انگریزی میں نمایاں صحافتی سرگرمیوں کے پیش نظر پرنسزسمیرہ عزیز فلپائنی مداحوں میں بھی ہر دلعزیز ہیں۔چنانچہ ان کی کارکردگی کی بناء پر فلپائن کے شہر ‘جنرل سنٹوس ، سلطنت بویان دارالسلام’ کے شاہی خاندن نے ان کو ‘شہزادی ‘ کے لقب سے نوازنے کا فیصلہ کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *