لندن کا خوش گلو شاعر

faheem-akhter-uk

اردو زبان کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں شہد جیسی مٹھاس ہے تو اس میں محبوب کی ادائیں بھی ہیں۔میں اردو زبان کا خادم ہونے کے ناطے ہمیشہ اس کے فروغ اور بقا کے لئے اپنی حد سے جو کچھ بھی کر سکامیں نے کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا ۔ اچھے شاعر اور شاعری کی ہم نے حوصلہ افزائی اور ستائش کی ہے۔کبھی کبھی اردو شاعری کو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی زخم کو پروں سے سہلا رہا ہو۔
میں پچھلے تین برسوں سے کالم لکھ رہا ہوں اور میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ میرا کالم سیاسی، سماجی، ادبی، مزاحیہ اور تفریح پر مبنی ہو۔ میرے چاہنے والوں نے اپنے اپنے شوق اور اصرار سے مجھے ہمیشہ مختلف موضوعات پر لکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ بہت حد تک ہم نے اس بات کی کوشش بھی کی ہے ۔کبھی کبھی جب دنیا کے غمزدہ ماحول سے اکتا تا ہوں تو اپنے محبوب قارئین کے لئے ایک ایسا مضمون پیش کرتا ہوں جو کچھ پل کے لئے میرے قارئین کے لئے ایک نایاب اور عمدہ تحفہ ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح آج پھر میں نے سوچا کیوں نہ اپنے قارئین کو ایک ایسے شاعر سے متعارف کراؤں جو لندن میں برسوں سے مقیم ہے۔ اس کے علاوہ ان کی آواز اور شاعری کو سننے کے بعد اردو زبان کی مٹھاس اور خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے۔تو آئیے آج ہم باسط کانپوری کی شاعری کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں اور ان کو آپ سے ملاتے ہیں۔
بچھڑتے وقت تیری آنکھ میں نمی کیوں تھی
ملال تھا تو وفاؤ ں میں پھر کمی کیوں تھی

basit kanporiیہ شعر پہلی بار جب میں نے باسط کانپوری کو ایک مشاعرے میں پڑھتے ہوئے سنا تو میں تب سے باسط کانپوری کا شیدائی ہوگیا ۔ باسط کانپوری سے میری ملاقات پچھلے بیس برسوں سے ہے۔ پہلے مشاعروں میں وہ مجھے بطور سامعین ملتے اور جانتے تھے۔ اس کے بعد میری شناسائی باسط صاحب سے مشاعروں کے علاوہ دعوتوں اورنجی محفلوں میں ہونے لگی۔
باسط کانپوری کا تعلق ہندوستان سے ہے اور وہ اب برطانیہ میں برسوں سے رہنے کے با وجود ہندوستان کو نہیں بھلا پائے ہیں۔ اسی لئے اکثر و بیشتر وہ ہندوستان کی سماجی، سیاسی اور ادبی امور پر تبادلۂ خیال کرتے رہتے ہیں اور کبھی خوشی اور کبھی غم کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ شاعر وہ ہوتا ہے جس کی شاعری نسل در نسل پسند کی جائے مثلاً مرازا غالب جن کی شاعری کو اب تک لوگ پسند کرتے آرہے ہیں۔اسی طرح میں نے باسط کانپوری کی شاعری میں یہ خوبی پائی ہے کہ ان کے کلام کو ہر نسل کے لوگ پسند کرتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔
باسط کانپوری کی شاعری کو عام آدمی اس لئے بھی پسند کرتا ہے کہ ان کے اشعار عام فہم زبان میں ہوتے ہیں ۔ ان کے کلام میں محبوب سے اپنی شکایت یا پھر بے بسی کا اظہار پایا جا تا ہے۔ جس کی مثال ان کے یہ اشعار ہیں :
میں سنا رہا تھا دل کی بڑے شوق سے کہانی
ابھی محوِ داستاں تھا کہ گزر گئی جوانی
یہ عجیب بے رخی ہے او ر عجیب طر تغافل
میرا حال اس نے پوچھا کسی اور کی زبانی
باسط کانپوری کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنا کلام ایک منفرد اور خوبصورت آواز میں سناتے ہیں۔ جس سے ہال میں بیٹھے ہوئے سامعین صرف داد ہی نہیں دیتے بلکہ اکثر جھومتے ہوئے بھی دیکھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی مترنم آواز کا جادو برطانیہ کے ہر مشاعرے میں سامعین پر ایک اثر چھوڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی بار یہ دیکھا گیا ہے کہ سامعین کلام کو بار بار دہرانے کا اصرار کرتے ہیں۔اس کی مثال ان اشعار میں ہے ۔
سب کے دل میں سمائے بیٹھے ہیں
پھر بھی چہرہ چھپائے بیٹھے ہیں
ان سے کیا کوئی ہم گلہ کرتے
وہ تو خو د ہی لجائے بیٹھے ہیں
باسط کانپوری نے کئی عا لمی مشاعروں میں بھی شرکت کی ہے جو انجمن فروغِ اردو برطانیہ کے زیرِ اہتمام ہوا تھا۔ ۲۰۱۰ ؁ میں باسط کانپوری کا ایک CDمعروف گلو کارہ اور غزل گو رادھیکا چوپڑہ کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی لندن میں رونمائی ہوئی تھی۔ میں اکثر ان کی اس CD کو سنتا ہوں اور میں باسط کانپوری کے کلام سے بے پناہ محظوظ ہوتا ہوں ۔ ان کے کلام کو سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے دل کی بات کو سنا رہے ہیں جو کہ ایک شاعر کی بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔
باسط کانپوری کی غزل اور مترنم آواز کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے اور نیک انسان بھی ہیں۔ ان سے اکثرگفتگو کے دوران میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ وہ پورے عا لمِ انسانی کے ہمدرد اور امن پسندی کے حامی ہیں۔ ان میں جہاں جھوٹ، مکاری، دغا اور گندی سیاست کے خلاف غصہّ ہے وہیں وہ اپنے چاہنے والوں سے امید افزا بھی ہیں۔ باسط کانپوری یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اس بات سے بھی مطمئن ہیں کہ دنیا میں اچھے لوگ نہ ہوتے تو ہم جیسے لوگوں کا جینا دو بھر ہوجاتا۔
میں باسط کانپوری کی لمبی عمر اور اچھی صحت کی دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی خوبصورت شاعری اور جادو بھری آواز سے سامعین کو محظوظ کرتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *