پاکستانی خاتون نے شادی کے بعد شوہر سے بےوفائی کی شرمناک کہانی سنادی!

Image result for ‫پاکستانی خاتون کی شوہر سے بے وفائی‬‎

لاہور-ایک پاکستانی خاتون نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ایسی شرمناک کہانی بیان کر دی ہے کہ سن کر شوہروں کے پیروں تلے زمین نکل جائے۔ ساتھ ہی خاتون نے اپنی بے وفائی کی ایسی وجہ بھی بیان کر دی ہے کہ جس کا تدارک کر کے شوہر اس تکلیف دہ صورتحال سے بچ سکتے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق اس اجنبی خاتون نے لکھا ہے کہ ”میری شادی بھی دوسری شادیوں کی طرح ہی ہوئی۔ میرے شوہر کے پاس بہت اچھی نوکری تھی۔ پھر اللہ نے ہمیں اولاد سے بھی نواز دیا۔ ہم بہت خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ جس کے لیے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ تاہم اس 6سالہ ازدواجی زندگی میں مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا شوہر مجھے نظرانداز کر رہا ہے۔ میں تنہائی محسوس کرنے لگی تھی۔ میں اپنے شوہر کی طرف سے اسی طرح کی جذباتی محبت چاہتی تھی جو شروع میں تھی۔ میں چاہتی تھی کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر طویل گفتگو کریں، ہر وقت فون کال، ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر پیغامات بھیجیں۔ میں شادی کے ابتدائی دنوں کے جذبات سے چھٹکارہ نہیں پا سکی تھی۔“

خاتون نے مزید لکھا ہے کہ ”مرد اس حوالے سے اتنے حساس واقع نہیں ہوئے۔ نظرانداز کیے جانے اور تنہائی کے احساس نے مجھے میرے ایک سابق دوست کے قریب کر دیا جس سے شادی سے قبل میری دوستی تھی۔ وہ میرے انکار کے باوجود میری شادی کے بعد بھی مجھے فون کالز کرتا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ مجھے ملنے کا کہتا لیکن میں انکار کر دیتی تھی۔ ایک روز میں جذبات کی رو میں بہہ رہی تھی کہ اس کی کال آ گئی۔ اس نے مجھے ملنے کو کہا اور اس بار میں بھی رضامند ہو گئی اور اس سے ملنے چلی گئی۔ ہماری ملاقات ایک ہوٹل میں ہوئی جہاں اس لڑکے نے ایک الگ تھلگ میز لے رکھی تھی تاکہ دوسروں کی نظرہم پر نہ پڑے۔ یہ طے ہوا تھا کہ یہ ملاقات بالکل اسی طرح ہو گی جس طرح ہم شادی سے پہلے ملتے تھے اور گھر میں بیٹھ کر فلم دیکھتے تھے۔ جب میں اس کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی اسی دوران مجھے میری فیملی اور بچوں کا خیال آیا اور میں نے سوچا کہ یہ میں کیا کر رہی ہوں؟ میری اخلاقیات کو کیا ہو گیا ہے۔ اس احساس نے میرے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا۔ یہ سوچ آتے ہی میں وہاں سے بھاگ نکلی اور واپس آ گئی۔ اور اس کے بعد اس لڑکے کا فون سننا ہی بند کر دیا :-“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *