’پُرسکون موت‘ کی پہلی ممکنہ کارروائی کی تیاریاں

14

اِس وقت میں لاہور چڑیا گھر کے پنجرے میں قید سب سے ضعیف شیرنی کو دیکھ رہا تھا، جس کے جسم کا پچھلا حصہ مفلوج ہے اور وہ اُسے گھسیٹ کر چلتی ہے، افریقن نسل کی اِس شیرنی کا نام ’فیری‘ ہے لیکن اب لاہور چڑیا گھر کے ساتھ اِس کی 16 سالہ رفاقت ختم ہونے والی ہے۔ فیری نہیں جانتی کہ اُسے چڑیا گھر انتطامیہ نے پُرسکون موت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اُسے آئندہ چند روز میں کسی بھی دن غیر طبعی موت دے دی جائے گی۔

فیری 6 سال سے فالج کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اُسے اذیت اور تکلیف کا سامنا ہے۔ وہ کھڑی ہوسکتی ہے اور نہ ہی چل پھر سکتی ہے، اپنے پچھلے دھڑ کو گھسیٹتے ہوئے کئی بار وہ خود اپنی بے بسی اور لاچاری پر روئی ہوگی۔ چڑیا گھر انتظامیہ نے اِس کی تکلیف اور اذیت کو دیکھتے ہوئے ہی اُسے غیر طبعی موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے چڑیا گھروں میں موجود کسی بھی جنگلی جانور کو پُرسکون موت دینے کا یہ پہلا واقعہ ہوگا۔

 18 سالہ شیرنی فیری کو پُرسکون موت کس طرح دی جائے گی؟ کیا یہ قانونی اور اخلاقی طور پر درست عمل ہے اور اِس اقدام کے بعد جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کا کیا ردِعمل ہوگا یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ایک ذہن میں اُٹھ رہے ہیں۔

افریقن نسل کی اِن شیرنیوں کی عمومی عمر 18 سے 20 سال تک ہوتی ہے، تاہم اگر اُنہیں پنجرے میں رکھا جائے تو یہ 16 سے 18 سال تک زندہ رہ پاتی ہیں۔ لاہور چڑیا گھر کی انتظامی کمیٹی میں پرندوں اور جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ کمیٹی کے مطابق دینا بھر میں ایسے جانوروں اور پرندوں کو غیر طبعی موت دی جاتی ہے جو کسی لا علاج بیماری کا شکار ہوں یا پھر کسی بیماری، حادثے اور پیدائشی طور پر مفلوج ہوں۔ تاہم پاکستان میں آج تک کسی بھی جانور اور پرندے کو غیر فطری موت نہیں دی گئی۔ غیر طبی موت کے اِس طریقے کو ’پُرسکون موت‘ کہا جاتا ہے۔ مجھ سمیت چڑیا گھرمیں تفریح کے لئے آنے والے سیاح جب اِس شیرنی کو دیکھتے ہیں تو اِس کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوجاتے ہیں۔ چڑیا گھر سمیت پنجاب کے مختلف وائلڈ لائف پارکوں اور چڑیا گھروں میں اِس وقت ایک سو پچاس کے قریب ایسے جانور اورپرندے موجود ہیں جو کسی بیماری، چوٹ اورحادثے کی وجہ سے مفلوج ہوچکے ہیں۔

لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر چوہدری شفقت کے مطابق دو سال پہلے شیرنی کی کِلنگ کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن طریقہِ کار طے نہیں ہوسکا تھا۔ اب لاہور زو مینجمنٹ کمیٹی نے پُرسکون موت کے طریقہِ کار کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد آئندہ چند روز میں شیرنی کو غیر طبعی موت دے دی جائے گی۔

چڑیا گھر میں تعینات ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر مدیحہ کے مطابق جانوروں کو پُرسکون موت دینے کے تقریباً سات طریقہ کار ہیں جن میں زہر دینا، آکسیجن کی سپلائی بند کردینا اور فائرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم فیری کو پہلے بے ہوش کیا جائے گا، اُس کے بعد زہر کا انجکشن لگایا جائے گا، جس سے یہ ہمیشہ کی نیند سوجائے گی۔

کسی بھی جیتے جاگتے جانور کو غیر طبعی موت دینا بظاہرعجیب اور غیر اخلاقی لگتا ہے لیکن اگر ہم اپنے روز مرہ کے معمولات پر نظر دوڑائیں تو ہم اپنی خوراک کے لئے کتنے جیتے جاگتے جانوروں اورپرندوں کو ذبحہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مفلوج جانور اور پرندہ جنگل میں بھی موجود ہو تو چند دنوں میں کسی دوسرے جانور کی خوراک بن جاتا ہے، اِسی وجہ سے شیرنی کو پُرسکون موت دی جارہی ہے:۔

بشکریہ : ایکسپریس

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *