بھارتی لڑکی اور پاکستانی شہری کی شادی کے معاملے میں حیران کن انکشافات !

16

اسلام آباد ۔ بھارتی لڑکی عظمیٰ کے جھوٹ کا پول کھلنے لگا ہے۔ عظمیٰ اور طاہر کے نکاح کی ویڈیو منظرعام پر آ گئی ہے۔ دونوں کے درمیان شادی 3 مئی کو ضلع بونیر کی تحصیل ڈگر کی مقامی عدالت میں ہوئی۔ طاہر کے والد اور کزن نکاح کے گواہ تھے۔ نکاح خواں کے مطابق عظمیٰ شادی پر رضامند تھی اور کہا تھا کہ حق مہر سے حج ادا کروں گی۔

ذرائع کے مطابق دونوں کی لو سٹوری ملائیشیا میں پروان چڑھی۔ طاہر نے بتایا عظمیٰ کو پہلے سے شادی شدہ ہونے کا علم تھا، جبکہ عظمیٰ بھی شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہے۔ طاہر علی کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے عظمیٰ سے ملاقات کا وقت دیا تھا، لیکن ملاقات نہیں کروائی۔

ادھر بھارتی شہری عظمٰی سے متعلق نئے انکشافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ عظمٰی ڈاکٹر نہیں بلکہ ہیلتھ ورکر ہے۔ عظمیٰ نے پاکستان میں خالہ کی تیمارداری کیلئے ویزا درخواست دی اور بونیر میں نذیرالرحمان کے گھر کا پتہ دیا۔ عظمیٰ نے عدالت میں جو درخواست دائرکی ہے اس میں بھی بڑؕا جھوٹ پکڑا گیا ہے۔ عظمیٰ نے درخواست میں والد کا نام صغیر احمد بتایا جبکہ عظمیٰ کے والد کا نام محمد نوشاد ہے جو دہلی کا رہائشی ہے۔بھارتی خاتون کے موقف کی بات کی جائے تو اس نے عدالت میں پاکستانی شوہر اور اس کے خاندان پر الزامات کے انبار لگا دیے ہیں۔ مجسٹریٹ نے شوہر، نکاح خواں اور شادی کے گواہوں سے دو ماہ میں جواب طلب کر لیا ہے۔ بھارتی لڑکی عظمیٰ نے مجسٹریٹ حیدر علی شاہ کے روبرو بیان میں کہا کہ طاہر سے اس کی بندوق کی نوک پر شادی کرائی گئی اور صبح شام زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان آمد پر اس سے امیگریشن دستاویزات سمیت تمام سامان چھین لیا گیا۔ گھر میں موجود بچے طاہر کو ابو کہتے تھے۔ خاتون نے ڈپلیکیٹ سفری دستاویزات جاری کرنے کی استدعا کی:۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *