13

احمد رضا

مرنے کی سب کو پڑی ہوئی ہے مگر جینا سیکھ لیا کیا؟ مولوی یہ بات کہے یا نہ کہے اک روز ضرور مرو گے, تو کیا مرنے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے مرنے کا ارادہ ہے؟
مرشد بُلھے شاہ فرما گئے نیں
بُلھے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور
مار سکے مولوی؟ مار سکے پٹھان, مار سکے مغل, مار سکے سارے جھوٹ اور منافقتیں یا وقت اپنی کوئی چال چلنے میں کامیاب رہا ہو.. کئی طرح کی سرکاروں نے بُلھے کو اپنے اپنے رنگ میں رنگنے کی کتنی کوششیں کیں مگر وہ تمام رنگ اُڑتے رہے.. انگریز بھی آپ سے خائف اور پھر کالے انگریز بھی جنہیں معلوم ہے کہ ہماری بادشاہی کو سب سے بڑا خطرہ اسی شخص سے ہے جو ڈنکے کی چوٹ پہ کہتا ہے
"قصور بے دستور اوتھے جانا بنیا ضرور"
گئے بھی ضرور اور بات بھی پورے قد سے کی اور وہ دستور دے کر بھی گئے جسے کسی بھی لوکائی کے نظریے پر رکھیں تو پورا اترے گا کیوں کہ آپ تو ہر دم کہتے تھے
" اٹ کھڑکے دُکڑ وجے تتا ہووے چُلھا
آن فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بُلھا"
بُلھے کا نظریہ سب کا پیٹ بھرنا تھا ناکہ مخصوص لوگوں کا... جس پنجاب کی فکر ہمیشہ آپکو رہی
"در کھُلا حشر عذاب دا
بُرا حال ہویا پنجاب دا"
وہ پنجاب ایک دن بُلھے شاہ کو ضرور ملے گا وہ دھرتی ایک دن آپکے پاوں ضرور چومے گی جہاں خوشیوں کا راج ہو گا جہاں رواداری اور برابری ہوگی جہاں مولوی کسی پر فتوے لگا کر اس کو مار نہیں سکے گا جہاں دن دیہاڑے بندے غائب نہیں ہونگے جہاں مذہبی بنیادوں پر انسانوں کا خون نہیں کیا جائے گا,
یہ سب پنجاب میں اک دن ضرور ہو کے رہے گا کیوں کہ اس کے پیچھے بُلھے شاہ پوری طاقت سے کھڑا ہے "ایسے تو آپکے لفظ اندر کا کفر نہیں توڑتے" جسکی گواہی میاں محمد بخش صاحب بھی دے گئے ہیں... تو کیا خیال ہے کیوں نہ بُلھے شاہ کی طرح جیا جائے باقی مرنے کا خواب تو آپ کے چاہنے یا نا چاہنے کے باوجود بھی اک دن پورا ہوکے رہنا ہے
"سَے ونجارے آئے نی مائے, سَے ونجارے آئے
لالاں دا اوہ ونج کریندے, ہوکا آن سُنائے "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *