جج کو گرفتار کرکے فوراً جیل بھیجا جائے، سپریم کورٹ

جسٹس کرنن

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے کولکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس چنا سوامی سواميناتھن كرنن کو عدالت کی توہین پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے میڈیا کو جسٹس كرنن کے معاملے سے دور رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔ عدالت نے مغربی بنگال میں پولیس کے سربراہ کو جسٹس كرنن کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

لیکن میڈیا کے مطابق وہ اس سے قبل پیر کی رات ہی مغربی بنگال سے باہر جا چکے تھے۔انڈیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہائی کورٹ کے کسی جج کو جیل جانا ہو گا۔ چیف جسٹس كھیہر کی قیادت والی بنچ نے کہا: 'اگر ہم جسٹس كرنن کو جیل نہیں بھیجتے تو یہ (ہم پر) ایک دھبہ ہو گا کہ سپریم کورٹ نے عدالت کی توہین کرنے والوں کو معاف کر دیا۔‘ کورٹ نے مزید کہا: 'توہین کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کیا ہے، جج ہے یا عام پھر آدمی۔‘

عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ کولکتہ ہائی کورٹ کے جج كرنن کے ایک فیصلے کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انھوں نے انڈیا کے چیف جسٹس جے ایس كھیہر اور سپریم کورٹ کے سات دیگر ججوں کو پانچ پانچ سال کی قید کی سزا سنائی تھی۔'سپریم کورٹ

جسٹس كرنن کا کہنا تھا کہ آٹھ ججوں نے اجتماعی طور پر سنہ 1989 کے ایس سی - ایس ٹی پر مظالم والے قانون اور 2015 کے ترمیم شدہ قانون کے تحت جرم کے مرتکب ہیں۔ یکم مئی کو سپریم کورٹ نے جسٹس کرنن کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم دیا تھا لیکن جسٹس كرنن نے اس سے انکار کیا۔

23 جنوری کو جسٹس كرنن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے’20 بدعنوان ججوں اور تین سینیئر قانونی افسران کے نام لکھے اور ان سے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی۔‘ آٹھ فروری کو سات ججوں کی بینچ نے کہا کہ ان کا یہ خط اور اسی قسم کے ديگر بہت سے خطوط جو وہ پہلے لکھ چکے ہیں اور جن میں انھوں نے ساتھی ججوں پر بدعنوانی اور تعصب کے الزامات لگائے تھے، وہ 'عدالت کی توہین' ہیں اور انھوں نے ان سے وضاحت طلب کی ہے۔جسٹس کرنن

جسٹس كرنن کو 13 فروری کو عدالت میں پیش ہونا تھا، مگر وہ نہیں آئے۔ سپریم کورٹ نے انھیں ایک اور موقع دیا اور دس مارچ کو آنے کے لیے کہا۔ لیکن وہ جب اس دن بھی حاضر نہیں ہوئے تو سپریم کورٹ نے ان کے خلاف 'ضمانتی وارنٹ' جاری کر دیا اور مغربی بنگال پولیس کو انھیں 31 مارچ کو پیش کرنے کے لیے کہا۔

اسی دوران ان پر اگلے حکم تک کوئی بھی عدالتی یا انتظامی کام کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اس کے بعد جسٹس كرنن سپریم کورٹ کے سات ججوں کی بنچ کے حکم کے جواب میں مسلسل حکم دیتے رہے۔ ایک بار تو انھوں نے ججوں پر 14 کروڑ کے ہرجانے کا بھی حکم بھی دے دیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *