تعلیم اور علم

  مرزا روحیل بیگ

mirza rohail baig

تعلیم اور علم کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔لیکن اس کے باوجود ان میں ایک فرق نمایاں پایا جاتا ہے۔تعلیم ہم سکولوں،کالجوں،اور یونیورسٹیوں سے حاصل کرتے ہیں ہمارے تعلیم حاصل کرنے کا اصل مقصد کیا ہے۔جو آج کل نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد ڈگری حاصل کرنا ہے تاکہ ایک اچھا روزگار میسر آ سکے ۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں ایک باعزت روزگار حاصل کرنے کیلئے ایک اچھی ڈگری کا ہونا لازمی عمل ہے۔اس کے بغیر ایک اچھا روزگار ملنا مشکل ہے۔موجودہ دور میں اپنی بقاء کیلئے سائنس اور ٹیکنالوجی یعنی ٹیکنکل تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ موجودہ دور کی جو جدید تعلم ہے اس کی افادیت سے ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتا، آج دینا میں جو ترقی ہورہی ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی ہی وجہ سے ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی و دینی تعلیم کا حصول بہت اہمیت کا حامل ہے اخلاقی و دینی تعلیم ایک مہذب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔مسلمانوں میں دینی و سائنسی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ عباسی دور میں ہوا ۔ یہ ایک ایسا دور تھا جی کی مثال آج بھی دی جاتی ہے اس میں جو کارنامے مسلمان سائنسدانوں نے سر انجام دئیے اس کی مثال نہیں ملتی، انھوں سے ساری دنیا کو ایک بار حیرت میں ڈال دیا۔عباسی دور ایک ایسا دور تھا جس میں پوری دُنیا سے کتب منگوا کر ان کے تراجم کرائے گئے۔اور پھر ایک تحقیق کا باقاعدہ دور شروع ہوا اور کہ دن بدن بڑھتا گیا،اس تحقیق کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے نام پیدا ہوئے جن کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، جن میں ابنِ سینا،الفارابی،الخوارزمی،ابنِ الہشم الزھروی،البیرونی اور دوسرے .بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ مشہور کہاوت ہے کہ علم بہت بڑی دولت ہے علم ایک ایسا انمول خزانہ ہے۔جس کا نہ توچرائے جانے کا ڈر ہے اور نہ ہی کہیں کھونے کا ڈر ہے بلکہ علم ایک ایسی لازوال دولت ہے جس نے تمام انسانوں کو اپنی دولت سے مالا مال کر دیا ہے آج وہ انسان جس کو اوڑھنے بچھونے کاپتہ نہیں تھا آج علم جیسی دولت سے مالامال ہے۔آج علم ہی کی بدولت انسان نے سمندر کی تہہ میں چھپے خزانوں کو ڈھونڈ نکالا ہے۔آج انسان نے علم کی بدولت ہی ستاروں پر کمند ڈال رکھی ہے دینا میں آج جتنی بھی ترقی ہورہی ہے سب علم کی بدولت ہی ممکن ہے علم ہی کی بدولت سائنسی ترقی اور ایجادات و تجربات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ وجود میں آیا،آج انسان نے علمی ترقی کی بنیاد پر خلاء کو اپنے مسخر کرلیا ہے ایک دور تھا کہ کسی سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ لیکن آج علمی ترقی نے اس مشکل کو آسانی میں بدل دیا ہے ہزاروں میل بیٹھے اپنے عزیز و اقارب سے آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو کی ایک انسان کو با شعور بناتا ہے انسان کے کردار کو نکھارتا ہے اور انسان کو اخلاقی لحاظ سے دوسروں میں ممتاز کرتا ہے۔علم انسان میں برداشت اور رواداری پیدا کرتا ہے علم انسان کو جہالت کے اندھروں نکال کر دانائی کی روشنی سے منور کرنے میں بہت اہم کردار اداکرتا ہے۔انسان میں حسن اخلاق اور بُردباری کا جذبہ ہی کی بدولت ابھرتا ہے۔ علم انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے۔ اور علم ہی جس کی بدولت ہم ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔آج اگر ہم ترقی یافتہ ممالک پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ صرف علم ہی ہے جس کی وجہ سے ترقی ممکن ہوئی ہے اور غیر ترقی یافتہ قوموں پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات واضع ہوگی کہ ان کو میں علم کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے یہ قومیں ں کرسکی۔علم ایک ایسی چادر ہے جو اسے اوڑھ لیتا ہے ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے ۔
بقول کسی شاعر
افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کاستارہ

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *