ڈاکٹر غنی نا راض کیوں؟

asghar khan askari

گزشتہ مہینے یعنی اپریل کے آخری ایام میں پا کستان کے پارلیمانی اور فوجی وفود نے کا بل کا دورہ کیا۔فوجی وفد کی قیادت چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے کی تھی۔انھوں نے افغانستان کے قا ئم مقام وزیر دفاع طارق شاہ بہرامی اور آرمی چیف جنرل محمد شریف یفتالی سے ملا قاتیں کی تھی۔ان دو طر فہ مذاکرت میں فوجی وفود نے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے،بارڈر منیجمنٹ سسٹم فعال کر نے اور معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے جیسے دیگر معاملات پر مشاورت کی تھی۔فوجی وفد کے دو دن بعد سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں پندرہ رکنی پارلیمانی وفد نے بھی کابل کا دورہ کیا تھا۔پارلیمانی وفد کا استقبال اولسی جرگہ (قومی اسمبلی)کے سپیکر عبدالروف ابراہیمی اور مشرانوں جرگہ(سینیٹ )کے چیئرمین فضل ہادی مسلم یار نے کیا تھا۔پارلیمانی وفد نے کابل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی ،ارکان پارلیمنٹ اور دیگر حکومتی عہدے داروں سے ملا قاتیں کی۔پا کستان کے اس پارلیمانی وفد کو ڈاکٹر اشرف غنی نے خود دعوت دے کر مد عو کیا تھا۔جس کا مقصد پا کستان اور افغانستان کے درمیان دوطر فہ مذاکرات کو بحال کر نا تھا۔لہذا یہ کہنا کہ اس وفد کے دورہ کابل کا مقصد افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت دینا تھا قطعی طور پر ایک بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔لیکن یہ بھی ایک مسلمہ سفارتی آداب کا تقا ضا ہے کہ جب اس طر ح کی پارلیمانی وفد کسی ملک کا دورہ کر تی ہے ۔وہ اس ملک کے سربراہ مملکت کو اپنے ملک آنے کی دعوت ضروردیتی ہے۔اب ضروری نہیں کہ وہ سربراہ مملکت اسی وقت ان کو ہاں کہہ دیں۔بلکہ عموما ایسا ہو تا ہے کہ کئی مہینوں کے بعد اس پر عمل درآمد ہو تا ہے۔لہذا ڈاکٹر اشرف غنی کا پا کستان کے پارلیمانی اور فوجی وفد کے اسلام آباد واپس پہنچنے کے فوری بعد یہ بیان جاری کرنا کہ انھوں نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا ہے سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی پا کستان سے ناراض کیوں ہیں؟اس کی کئی وجو ہات ہیں۔ ستمبر 2014 ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر غنی پر امید تھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دو معاملات فوری طور پر حل کر نے میں کا میاب ہو جا ئیں گے۔ایک امریکہ کی خواہش تھی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کریں ۔ دوسرا ڈاکٹر غنی کی، کہ اسلام آباد افغان طالبان خصوصا کو ئٹہ شوریٰ کے خلاف اقدامات کر یں ۔ لیکن پا کستان کے لئیے ان دونوں کے خلاف کارروائی کر نا ممکن نہیں تھا ۔ اس لئے کہ ان دونوں نے کبھی بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا۔اس کے بعد پاکستان کے تمام ہو ائی اور زمینی راستے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف استعمال ہو ئے۔لیکن اس کے باوجود انھوں نے کبھی بھی پاکستان میں کو ئی عسکری کارروائی نہیں کی۔دونوں فریقین کا مو قف اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔وہ مانتے ہیں کہ پاکستان ان کا دوسراگھر ہے۔جبکہ امریکہ کا مو جودہ حا لات میں ساتھ دینا پا کستان کی مجبو ری ہے۔ڈاکٹر غنی کو جب اپنا یہ دو نکا تی ایجنڈا پورا ہونا ممکن دکھا ئی نہیں دیا تو انھوں نے پا کستان سے دوری اختیار کی۔اپناتمام وزن ہندوستان کے پلڑے میں ڈال دیا ۔ تاکہ پاکستان کو دباؤمیں لا کر اپنے ان دونوں مطا لبات کو منوا سکیں ۔ڈاکٹر اشرف غنی کی پا کستان سے نا راضگی کی ایک اور وجہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کا تعین ،اس پر باڑ لگانا اور بارڈر منیجمنٹ سسٹم بھی ہے۔اس لئے کہ اگر بارڈر پر ویزا کا نظام فعال ہو جا تا ہے۔تو پھر آدھے سے زیادہ افغانیوں کو اپنے کاروبار کو افغانستان منتقل کر نا پڑے گا۔جب یہ لوگ وہاں تجارتی سرگرمیاں شروع کر یں گے۔ تو ان کو امن کی ضرورت ہو گی۔جو اس وقت غنی انتظامیہ کے بس سے با ہر ہے۔وہاں پر تاجروں کی بجلی اور دوسری ضروریات بھی پوری کر نا پڑے گی۔جس کے لئے فی الوقت افغان حکومت تیار نہیں ۔افغان مہاجرین کی وطن واپسی بھی ڈاکٹر غنی کی ناراضگی کی اہم وجہ ہے۔کابل انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگر یہ لو گ وطن واپس پہنچ گئے تو ان کو وہ سہولیات بھی نہیں ملیں گی جو ان کو پاکستان میں حا صل تھیں۔اگرحکومت مہاجرین کو سہولیات دینے میں ناکام ہو جاتی ہے تو خدشہ ہے کہ وہ احتجاج شروع کر یں گے۔ابھی تک افغانستان میں گز شتہ اور مو جودہ حکومتوں نے کوئی بھی بنیادی سہولت عوام کو فراہم نہیں کی ہے۔لیکن اس کے باوجود عوام میں احتجاج کا رحجان بہت کم ہے۔ڈاکٹر غنی کو خدشہ ہے کہ پاکستان سے واپس آنے والے مہاجرین احتجاج کلچر کا تحفہ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔افغانستان میں قیام امن کے لئے روس ،چین ،طالبان اور پاکستان کی مشترکہ کو ششوں پر بھی ان کو شدید تحفظات ہیں۔اس لئے ابھی تک جتنے بھی مذاکرات ان ملکوں اور طالبان کے درمیان ہو ئے ہیں ۔ان میں افغانستان کی حکومت اور امریکہ نے ابھی تک شرکت نہیں کی۔وجہ اس کی یہ ہے کہ روس،چین اور پاکستان افغان طالبان کو ایک اہم فریق تسلیم کر تے ہیں ۔جبکہ ڈاکٹر اشرف غنی اگلی باری کے چکرمیں ہیں۔دوسرا ان کے سب سے بڑے سپانسر امریکہ کو بھی اس پر اعتراض ہے۔حکمت یا ر گل بدین کی کا بل واپسی پر بھی افغان صدر کو پاکستان سے شدید نا راضگی ہے۔ان کی سوچ یہ ہے کہ ایک طرف حکمت یار کو عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر پاکستان نے ان کی کا بل واپسی کی راہ ہموار کی۔جبکہ دوسری طرف اسلام آباد مجھے دورے کی دعوت دے رہا ہے۔ڈاکٹر غنی کو اچھی طر ح سے ادراک ہے کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں روس ،چین اور پاکستان کی حکمت یار کو مکمل حمایت حا صل ہو گی۔ وہ اس حقیقت سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں کہ آئندہ صدارتی انتخا بات میں افغان طالبان بھی غیر اعلانیہ طور پر حکمت یار کی حمایت کریں گے۔جبکہ امریکہ کے لئے بھی وہ ایک موزوں امید وار ہو سکتا ہے۔اس لئے آنے والے صدارتی انتخابات میں اگر یہی صورت حال بن جاتی ہے تو پھر ڈاکٹر غنی کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینا مشکل ہو جائے گا۔اگر وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے بھی لیں لیکن ان کی کا میابی مشکل ہو گی۔اور بھی کئی خدشات ہو سکتے ہیں۔لیکن میری نظر میں درجہ بالا وہ وجوہات ہیں کہ جس کی وجہ سے ڈاکٹر اشرف غنی پاکستان سے نا راض ہی رہیں گے۔ اس لئے کہ پاکستان کی کو شش ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہو جو دلی سے محبت کی بجائے اسلام آباد کا عاشق ہو۔ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ حکمت یار، افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک نے ہمیشہ ہندوستان کی بجائے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔پھر کیسے ممکن ہے کہ پاکستان حکمت یار کو آئندہ انتخابات میں سپورٹ نہ کریں یا افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کر کے ان کو اپنا دشمن بنا لیں۔جبکہ ڈاکٹر غنی پاکستان کو ابھی تک یہ اعتماد دلانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں کہ افغانستان کی سرزمین اور ان کے سیکیورٹی ادارے ان کے خلاف استعمال نہیں ہو ں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *