محبت اور غصہ

razia syed

عظمی اور نوید دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اکٹھے جینے مرنے کے عہد و پیمان بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن قصہ وہی روایتی کہ ظالم سماج کی وجہ سے دونوں کی شادی نہ ہو سکی اور سلسلہ یہاں تک آپہنچا کہ عظمی کی شادی کہیں اور ہو گئی ، لیکن عظمی کے جانے سے پہلے نوید نے یہ ضرور کہا کہ جس دولت کے لئے تم نے میرا رشتہ مسترد کیا ہے وہی میں تمھہیں جائز طریقے سے کما کر دکھائوں گا اور اتنا مشہور ہوں گا کہ تمہیں بھی مجھ سے ملنے کی آرزو ہو گی اور یہی ہوا کیونکہ نوید آج ایک بڑی فیکٹری کا مالک ہے اوراس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر سب کام کیا ہے ۔

قصہ مختصر کہ آج کی کہانی ایک علامتی کہانی ہے وہ اس طرح کہ محبت اور غصہ دو ایسے طاقتور جذبات ہیں جن سے آپ دنیا کی کوئی بھی نعمت حاصل کر سکتے ہیں اور یہی نوید کے کیس میں بھی ہوا ، اگرچہ کہ غصہ حرام ہے اور محبت بھی اکثر ناکام ہی ہو جاتی ہے لیکن محبت میں ناکامی اور غصہ کی زیادتی کی وجہ سے بہت سے کام درست انداز میں بھی ہوتے ہیں ، جب انسان کبھی ناکام ہوتا ہے تو اسکے لئے اسکا کام جنون اور پھر عشق بن جاتا ہے اور عشق کی کوئی حد نہیں ہوتی ، کامیابی کے لئے لگن کے ساتھ ساتھ جنون کی ضرورت بھی ہوتی ہے ۔

اسی طرح جو لوگ اپنے غصے کو دباتے ہیں وہ غلط جگہ پر اسکا اظہار کر کے اپنی ذہنی کیفیت کو بھی خراب کر دیتے ہیں ، چڑچڑے اور بیزار ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کے مقابلے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے جو اپنے غصے کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کر کے اپنا مقصد پا لیتے ہیں ۔

آج کا کالم ویسے تو ہر ایک کے لئے ہے لیکن بالخصوص نوجوانوں کے لئے ہے کہ جن میں جنون ، جذبہ ، لگن اور کسی کام کو کرنے کی قوت سب سے زیادہ ہوتی ہے ، جو اپنے غصے اور محبت میں ناکامی کو ایک نیا رخ دے کر نئی منزلوں کو تلاش کر لیتے ہیں ، تو آئیے آج اپنے ان دو جذبات کو مثبت رنگ دے کر زندگی کو بہتر انداز سے جئیں ۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *