شادی کی پہلی رات اورتفکرات

زریاب شیخ
zaryab sheikh
شادی کا وقت جب قریب آنے لگتا ہے تو لڑکے کے دوست مذاق کرتے ہیں کہ یار عزت رکھ لینا، شرمندہ نہ کروا دینا، لڑکوں کی اکثریت کو یہ ہی معلوم ہے کہ بس کسی طرح پہلی رات کو وہ جنگ جیت جائے، جسمانی تعلق ایک مرد کیلئے کسی جنگ سے کم نہیں ہوتا شاید یہ ہی وجہ ہے ہمارے ہاں میاں بیوی کے تعلقات پہلی رات کو بنتے اور بگڑتے ہیں، ہماری سوسائٹی Male Dominent ہے اس وجہ سے مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ شادی کی پہلی رات اس کی کامیابی کی رات ہو اور بیوی پر وہ راج کرے، وہ ایک خوبصورت تعلق کو انا کی جنگ سمجھنے لگتا ہے، مردوں کی اکثریت غلط فلموں، رسالوں، حکیمی نسخوں اور اِدھر اُدھر کی باتیں سن کر پہلی رات کو بہت زیادہ سر پر سوار کر لیتی ہے لیکن کام الٹ ہو جاتا ہے، ہمارے ہاں مسلہ یہ ہے کہ مرد جسمانی تعلق کے معاملے میں بہت حساس ہوتا ہے اگر وہ صحیح طرح تعلق ادا نہ کر پائے تو اس میں ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ پھر صحیح طرح بیوی کا سامنا کرسکے اور اندر ہی اندر ڈپریس رہتا ہے، اسے لگتا ہے جیسے وہ بس ایک بے کار چیز ہے، سب سے اہم بات یہ کہ مرد کیلئے سب کچھ بس جسمانی تعلق ہوتا ہے عورت چونکہ عورت ہے وہ بھی اس معاملے پر کھل کر شوہر سے بات نہیں کرتی وہ الگ جھجکتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے رفتہ رفتہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں، جو بچے ماں باپ سے ہر بات کہہ دیتے ہیں ان کے مسائل کم ہوتے ہیں اور جو شرماتے ہیں وہ زندگی بھر پریشان ہی رہتے ہیں، ہمارے ہاں اس پر بات بہت کم کی جاتی ہے حتیٰ کے مرد حضرات اپنے دوستوں سے بھی نہیں کہہ پاتے، اگر آپ اسلام کو پڑھیں تو اس پر بہت کھل کا باتیں کی گئی ہیں لیکن ہمارے ہاں اس کو معیوب بنا دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *